yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

ڈاکٹر مسیحا، مزدور یا مال کمائو صنعتکار

F A Farooqi July 16, 2016 1 min read
Doctor Receive Money
Share this:
Doctor Receive Money
Doctor Receive Money

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری
ہر پیشہ میں زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی دُھن سوار ہے مگر اب ڈاکٹر بھی اس”نیک مشن ” میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔پیشہ کے اعتبار سے واقعی ڈاکٹر ایک مسیحائی روپ میں ہے۔ اور تدریس کے دوران وہ میڈیکل کالجوں میں بطور طالب علم اس نیک مشن پر عمل پیرا ہو جانے کا مقصد لیے ہوتا ہے مگر جونہی وہ ایم بی بی ایس کر لیتا ہے اس پر گھر والوں کا پریشر اور پھر بیوی بچوں کے تقاضے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈھیروں مال کمائے کہ اس نے پرانے ادوار کے برعکس ایک کروڑ سے زائد خرچ کرکے یہ ڈگری حاصل کی ہے آجکل یہ سب کچھ میڈیکل پروفیشن میں اُلٹ پُلٹ ہو جانے سے جنم پا چکا ہے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کا تصور خود مال کمائو پروگرام کا حصہ ہے۔طالب علم خواہ تھرڈ کلاس نمبر رکھتا ہو۔

اس کاداخلہ 50لاکھ میں ہو جائے گابعد کے پانچ سالوں میں مزید پچاس یا ساٹھ لاکھ خرچ کرکے وہ ڈاکٹر بنے گا تو وہ دونوں ہاتھوں سے نہیں لوٹے گا تو اور کیا کرے گا؟ پھر عملی زندگی میں دوا فروش نمائندگان(میڈیکل ریپ)اسے ہر صورت کرپٹ کرچھوڑتے ہیں۔کہ کمپنیوں کی دوائی کا نام مختلف ہو سکتا ہے مگر اس میں میٹریل(سالٹ) تو ایک سا ہی ہوتا ہے کاش !جنرک ناموںسے ادویات کی تیاری شروع ہو جائے جس سے مختلف خود ساختہ ناموں سے اسی ایک دوائی کی فروخت بند ہوجائے گی تو ہی یہ قضیہ مستقل طور پر حل ہو سکے گا۔راقم الحروف نے نشتر کالج ملتان میں دوران تربیت پاکستان ڈاکٹرز آرگنائزیشن کے نام سے علیحدہ تنظیم پورے ملک میں بنائی جس نے دیرینہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جگہ لینا شروع کردی۔

میں اس کا پہلا کنوینر اور ڈاکٹر عیص محمدجنرل سیکریٹری بنے ۔(جو اب کئی میڈیکل کالجوں و ہسپتالوں کے سرابراہ رہ کر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں)ہم نے پروفیسروں کی ناجائز پرائیویٹ پریکٹس کے خلاف احتجاجی تحریک منظم کی اور وہ عوام کی نظروں میں خون چوسنے والی جونکیں (Blood Suckers)قرار پائے اس وقت تک جنرل ضیاء قابض ہو چکے تھے ان سے درجنوں ملاقاتیں کرکے انھیں اس غیر قانونی پریکٹس کو ختم کرنے کے لیے قائل کیا مگر صد حیف کہ وہ اس پر عملدر آمد کرنے کے لیے کوئی حکم جاری نہ کرسکے ویسے بھی کوئی سرکاری ملازم اپنی تعیناتی کے دوران کوئی دوسرا منفعت بخش کاروبار نہیں کرسکتا۔یہ سرکاری نوکری کا سکہ بند اصول ہے مگر کون پو چھتا ہے؟سارا ہی آوے کاآوا بگاڑ کا شکا ر ہے صدر ،وزیر اعظم ،وزراء ،سیکریٹری کرپشن کر کے دولت پر سانپ بنے بیٹھے ہیں تو چھوٹے چھوٹے سنپولیوں کو کون مال سمیٹنے سے روک سکتا ہے؟۔

Doctors Oath
Doctors Oath

خود دوران تعلیم میرے ہم سفروں میں سے چودہ نے جامع مسجد نشتر کالج میں حلف اٹھایا کہ طبی مشن کا اصل تقاضا یہ ہے کہ غریب عوام الناس کی مفت خدمت کی جائے اور اسے منافع بخش کاروبار نہ سمجھا جائے مگر میرے علاوہ کوئی بھی ایسے حلف کا پاس نہ کرسکا پاکستان بھر میں اکا دکا ڈاکڑوں کے علاوہ سبھی نوٹ بنانے والی مشین بنے ہوئے ہیں اور غریب عوام کے نزدیک یہ معاشرے کے مسیحا نہیں بلکہ ناسور ہیں اور سبھی دولت کے اندھے کنوئیں میں گرتے گہرے غرق ہورہے ہیں اس طرح ایسے ڈاکٹرز نے مال تو کروڑوں میں کمایا مگر عزت ایک دھیلے کی بھی نہ بنا سکے ان سے لوگ سامنے بہ امر مجبوری سلام لیتے اور غائبانہ صلواتیں سناتے ہیں۔میڈیکل ریپ سے مک مکا کے بعد جس کمپنی سے معاہدہ ہو گیا اسی کی ادویات نسخوں میں لکھیں گے۔

اس طرح حج ،عمرہ،ائیر کنڈیشنڈ گاڑیاں،بچوں کے شادی بیاہ جہیز کا خرچہ ادویات فروش کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔جن کی بنا پر ادویات کی قیمتیں غریب مریضوں کی پہنچ سے مکمل باہرہو چکیں۔یہاں تک کہ وزارت صحت کے کار پرداز بھی دوائی کی ایک روپیہ قیمت بڑھانے پر ایک کروڑ سے کم “نذرانہ”نہیں لیتے اس طرح سے یہ غلیظ گھن چکر جاری ہے بھلا اس سے بڑی اخلاق باختگی،بے حیائی اور جگ ہنسائی اور کیا ہو گی کہ مسیحا بک جائے اور وہ دوائی لکھے جو کمپنیاں کہیں۔وزارت صحت کی “ترپ چالیں”ادویات کی قیمتوں کو دو گنا سہ گنا کرڈالتی ہیں کوالیفائڈ ڈاکٹروںکی فیسیں اتنی زیادہ کہ غریب مریض تو ان کے کلینک “کمائو کارخانوں ” کے اندر قدم بھی نہیں رکھ سکتاادھر سرکاری ہسپتالوں میں پروفیسر حضرات نہ تو آئوٹ ڈور میں بیٹھتے ہیں اور نہ وارڈوں میں مریضوں کو چیک کرتے ہیں ۔بس مریضوں کو ایک ہی تاکید و تنبیہ اور”تبلیغ”کی جاتی ہے کہ ذاتی کلینک پر پہنچیں وہیں صحیح چیک اپ ہوسکتا ہے( حالانکہ واضح ہے کہ مریض کی کھال بھی وہیں صحیح طور پر اکھڑ اور اتر سکے گی)۔

یہ روز روشن میں جیب تراشی اور ڈکیتی کیسے رک سکے گی؟ کوئی حکمران یا ان کا نمائندہ وزیر ،سیکریٹری بتائے تو سہی کہ کیا یہ یک روزہ الیکشنی دھاندلیوں سے روزمرہ کی جانے والی بڑی دھاندلی نہیں ہے؟سیاستدان وبیورو کریٹ کیوں بولیں گے کہ ان کے نام گرامی یا خوف و دھونس کی وجہ سے ڈاکٹروں کے ہاں بھی ان کا”مفتہ” لگ ہی جاتا ہے سرکار سے تنخواہ لینے والے پروفیسرز اخلاقاً پابند ہیںکہ وہ مریضوں کو اسی تنخواہ کے عوض چیک کریں ان کا نسخہ علاج لکھیںمریضوں سے صرف ٹیسٹوں کی مد میں ہزاروں روپے چھن جاتے ہیں کیا کسی نام نہاد خدمت گزار حکومت نے کوئی رکاوٹ کھڑی کی بالکل نہیں! ہر وزیر ،مشیر ،سفیر کا مفت چیک اپ ہو جاتا ہے بھاڑ میں جائیں عوام وہ کس باغ کی مولی ہیں۔

Nawaz Sharif Treatment
Nawaz Sharif Treatment

وزیر اعظم کی طرح اصل حکمرانوں نے سرکاری خزانے اور ترقیاتی فنڈز سے اربوں کما رکھے ہوتے ہیں اسلئے ان کی ترجیح بیرون ملک کا علاج ہوتی ہے ادھرغلیظ گلی کو چوں کے رہائشی عوامی کیڑوں مکوڑو ں کے لیے علاج گاہیں ہسپتال نہیں بلکہ ذبح خانے ہیں جہاں مریض فوت بھی ہو جائے تو فیسیں ادا کئے بغیر لاش تک نہیںاٹھائی جاسکتی۔ڈاکٹر کا شعبہ ضروری خدمات (Essential Services) میں آتا ہے وہ ہڑ تال کے اصولاً قانوناً مجا زہی نہ ہیں پھر بھی ہم نے بہ امر مجبوری جو ہڑتالیں ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف سے کروائیں ان میں کبھی ایمر جنسی بند نہ کی گئی تھی کہ یہ تو بچارے مریض کے لیے ڈائریکٹ موت کا پروانہ ہے جو کہ پیشہ طب کے بنیادی اصولوں کے ہی خلاف اور سراسر گنا ہ کے زمرے میں آتا ہے۔

ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کو نسل اس وقت تک پریکٹس کا اجازت نامہ ہی نہیں جاری کرتی جب تک وہ ہمہ قسم مریضوں کو بلا امتیاز کسی مخصوص پیشہ ،فرقہ ،ذات علاقہ ،زبان کے خدمت کا حلف نہیں اٹھاتا۔بیورو کریسی کی اصل حکمرانی کی وجہ سے ڈاکٹر لاکھ ہڑتالیں کرتے رہیں ان کا گریڈ وہ کیوںاپنے سے سنئیر لینے دے گی بطور کنوینئر پی ڈی اواور سیکرٹری سٹوڈنٹس کونسل سالو ں جیلوں میں رہ کر ،پولیس سے سر پھٹول کروا کر ہفتوں بیہوش ہسپتالوں میں تڑپ کر ساراجسم زخمی و چھلنی کرواکر ڈاکٹروں کو میں اپ گریڈ نہ کرواسکا۔جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سوجا۔

خزانوں پر اژدھے بنے بیٹھے آج کے جمہوری آمر کہیں مطالبات مانا کرتے ہیں ہاں اپنا مفاد ہو گا تو کوے کو سفید بھی کہہ ڈالیں گے۔نوجوان ڈاکٹرزمزدوروں کی طرح محنت کرتے مگر معقول معاوضہ نہیں پاتے اسلئے تنگ آمد بجنگ آمد ہڑتالوں پہ ہڑتالیں مگر ڈاکٹروں کی قناعت پسند رہ کر خدمت خلق کرنے میں ہی عزت و عافیت ہے۔

Mian-Ihsan-Bari
Mian-Ihsan-Bari

تحریر : ڈاکٹر میاں احسان باری

Share this:

F A Farooqi

3,490 Articles
View All Posts
Abdul Sattar Edhi Life Style
Previous Post دور خود غرضی اور ایدھی کا طرز زندگی
Next Post اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے
Mango

Related Posts

پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، مشکوک بیانیے کی تحقیقات ہونی چاہئیں: قاری فاروق احمد

June 11, 2026

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.