yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • بریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمدبریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمد
    • فلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیافلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیا
    بین الاقوامی خبریں
    • بریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمدبریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمد
    • فلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیافلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیا
    شوبز
    • ایما بیگ کی انسٹاگرام اسٹوری پر ’سنگل‘ حیثیت نے علیحدگی کی افواہوں کو مزید تقویت دے دیایما بیگ کی انسٹاگرام اسٹوری پر ’سنگل‘ حیثیت نے علیحدگی کی افواہوں کو مزید تقویت دے دی
    • عاطف اسلم کا انکشاف: کول اسٹوڈیو پاکستان میں وہ ‘جادو’ ہے جو بھارت میں نہیںعاطف اسلم کا انکشاف: کول اسٹوڈیو پاکستان میں وہ ‘جادو’ ہے جو بھارت میں نہیں
    مقامی خبریں
    • خواجہ آصف کا پیپلز پارٹی پر صوبوں کے معاملے میں دوہرا معیار اپنانے کا الزامخواجہ آصف کا پیپلز پارٹی پر صوبوں کے معاملے میں دوہرا معیار اپنانے کا الزام
    • بلاول بھٹو اور صدر زرداری کی لندن میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات، سندھ کی تقسیم پر مؤقف برقرار رکھنے کا فیصلہبلاول بھٹو اور صدر زرداری کی لندن میں پانچ گھنٹے طویل ملاقات، سندھ کی تقسیم پر مؤقف برقرار رکھنے کا فیصلہ
    کاروبار
    • پاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلانپاکستان معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں واپس نہیں جائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا واضح اعلان
    • گوانگزو میں پاکستان چین سرمایہ کاری فورم: پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، نئی اقتصادی راہیں متعینگوانگزو میں پاکستان چین سرمایہ کاری فورم: پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، نئی اقتصادی راہیں متعین
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

فوجی عدالتی نظام ہی کیوں؟

Yes 1 Webmaster January 4, 2015 1 min read
Muhammad Amjad khan
Share this:
 Muhammad Amjad khan
Muhammad Amjad khan

تحریر : محمد امجد خان

سال 2001-2 کی بات ہے جب مَیں نویں جماعت کا طالب علم تھا تب مُجھے اپنی جماعت کے انگلش مضمون کی کتاب میں ایک چائنیز کی اپنے بیٹے کو وقت کا حاکم یعنی کہ بادشاہ بنانے کیلئے دی جانے والی تعلیم و تربیت پر مبنی ایک ایسی سٹوری پڑھنے کو مِلی جس میں اس چائنیز کے ہاں شادی کے کافی عرصہ بعد ایک بیٹھے کی پیدائش ہوتی ہے جسے وہ ابتدائی تعلیم مکمل کروانے کے بعد ایک بہترین لیڈر یعنی کہ قائد بنانے کیلئے اعلیٰ تعلیم دِلوانے کی غرض سے دوسرے شہر کے ایک اعلیٰ سکالر کے پاس چھوڑ آتا ہے یہ سکالر کچھ عرصہ تک تو اسے سلیبس تک ہی محدود رکھتا ہے پھر اِس بچے کو اپنے ساتھ لئے ایک جنگل کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے جہاں پہنچنے کے بعد کچھ یوم کا راشن اس کے حوالے کرتے ہوئے اِسے کہا جاتا ہے کہ اب آپ نے اُس وقت تک یہیں رہنا ہے

جب تک واپس بُلایا نہ جائے اور واپس چلا جاتا ہے طالبعلم یہ سُن کر پہلے تھوڑا گھبراتا ہے مگر استاد کے حوصلہ دینے پر خاموش ہو جاتا ہے اور جنگل میں سکونت اختیار کرلیتا ہے جس کے کچھ ہی عرصہ بعد اُستاد کی طرف سے بلاوا آتا ہے کہ واپس آئوں کل تمہارا امتحان ہے یہ سُن کر طالبعلم پہلے تو تھوڑا پریشان ہوتا ہے پھِر چل پڑتا ہے پریشان اس لئے ہوتا ہے کہ اُسے کچھ پڑھایا تو گیا نہیں اب امتحان نہ جانے کِس بات کا ہے ،خیر وہاں پہنچتے ہی کچھ دیر کے آرام کے بعد امتحان شروع ہوتا ہے یہ اِمتحان اُس کا اُستاد ہی لیتا ہے جس میں طالبعلم سے صرف دو ہی سوال کئے جاتے ہیں پہلا یہ کہ اُس نے جنگل میں کون کون سی آواز سُنی اور وہ آواز کِس کِس جانور کی تھی شاگر بتاتا ہے

وہاںمیں نے شیر کے دھاڑنے کی آواز سُنی وہ اِس طرح دھاڑتا ہے ،میں نے کوئل کے گنگنانے کی آواز سُنی وہ اِس طرح سے گنگناتی ہے میں نے کوے کی آواز سُنی وہ اِس طرح سے بولتا ہے وغیرہ وغیرہ،جس پر اُستاد اُسے زیرو نمبر دیتے ہوئے یہ کہہ کرواپس بھیج دیتا ہے کہ وقت کا حاکم یعنی کہ بادشاہ بننے کیلئے پہلے ایک اچھا لیڈر یعنی کہ اچھا قائد بنناضروری ہے اور ایک اچھا قائدبننے کیلئے انتہائی باریک یعنی کہ نہ سنائی دینے والی آوازوں کو سُننا انتہائی ضروری ہے لہذا تُم فیل ہوئے کیونکہ تم نے نہ سنائی دینے والی آوازویں نہیں سُنیں جائو دوبارہ تیاری کرو، جس پر وہ طالبعلم واپس جنگل جا کر دوبارہ تیاری کرتا ہے اور ہر آواز پر گہرا کان رکھتے ہوئے اُسے سُننے اور اُسے پہچاننے پر مکمل عبور حاصل کرنے کے بعد دوبارہ آکر امتحان دیتا ہے اور پاس ہو کر ایک اچھا لیڈر بنتا ہے

ترقی یافتہ ممالک میں سیاست میں قدم رکھنے کیلئے آج بھی اِس قسم کی تاعلیٰ تعلیم ضروری ہے اِسی لئے اُن ممالک میں کِسی کے بھوکے مرنے کی خبر نشر نہیں ہوتی اِسی لئے اُن کے ہاں بے روزگاری کے مارے خود کُشیاں نہیں کرتے اور اِسی لئے اُن کے ہاں سانحہ پشاور جیسے سانحے رونما نہیں ہوتے،جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں یہاں کمزور اور نہ سنائی دینے والی آوازوں کو مذید دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ،یہاں تعلیم کی بجائے اپروچ دیکھی جاتی ہے چاہے کِسی کے ہاتھ میں شراب کا لوٹا ہی کیوں نا ہو مگر ایم پی اے یا ایم این اے وہی بنے گا جس کا باپ یا بھائی ایم پی اے یا ایم این اے رہا ہواسی لئے مُلک سانحات کا گھر بن چُکا ہے ، اور قابو پانے کیلئے ہمیں اب ایسے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں

جن کی پہلے سے موجود آئین میں گنجائش ہی نہیں (یعنی کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پیش آرہی ہے )اس سے ایک طرف تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا موجودہ نظام مکمل طور پر آزاد نہیں جبکہ دوسری طرف فوجی عدالتوں کے قیام کے اس حکومتی فیصلہ یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظام صرف اور صرف مختلف شخصیات کے مختلف پریشرز یا مختلف مفادات کے عوض درج ہونے والے مقدمات میں صرف شریف شہریوں یا سیاسی مخالفین کو سزائیں جزائیں دینے کیلئے ہے ،جبکہ بڑے بڑے کریمینلز اور دہشت گردوں کو سزائیں دینے کیلئے ہمیں ایک ایسے محکمے کے ماتحت عدالتیں بنانا پڑ رہی ہیں جو سیاست ثقافت کرپشن یا پھر کسی بھی قسم کے کِسی بھی دوسرے پریشر سے مکمل آزاد ہے؟

اگر ایسا نہیں تو حکومت پہلے سے موجود نظام سے کیوں نہیں کام لیتی ؟اگر اس میں کوئی خامی ہے تو اُسے دور کیوں نہیں کر دیتی ؟چاہے تربیت کے ذریعے کرنی پڑے یامانیٹرنگ کے ذریعے،کیونکہ فوجی عدالتوں میں بھی تو انسانوں نے ہی کام کرنا ہے اور پہلے بھی انسان ہی کام کر رہے ہیں،لہذا فوجی عدالتیں بنانے یا پولیس کا کام بھی فوج کو ہی سونپتے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا،اگر کوئی فرق پڑسکتا ہے تو میری ناقص رائے کے مطابق اِسی صورت ہی پڑسکتا ہے کہ حکومت پولیس افسران کو بھاری تنخواہوں کے عوض صرف شرفا کی چھترول کی حد تک ہی رکھنے کی بجائے اسے فوج کے ماتحت کر دے اور اگر گڑ بڑ موجودہ عدالتی نظام میں سمجھتی ہے تو اِسے ٹھیک کرنے یا مانیٹرکیلئے بھی کوئی ایسا ادارہ بنا دے جس پر فوج سمیت ہر شہری کو مکمل اعتماد ہواورانتہائی جدید طریقے سے مانیٹرنگ کرتے ہوئے فوری سزائیں جزائیں سنا ئے

جس سے یقیناًپہلے والا نظام ہی نئے سے بھی بہتر ہو کر چل سکتا ہے کیونکہ فیصلے ہمیشہ ایف آئی آر ز اور تحقیقات کی بنیادوں پر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کِسی نا کِسی فریق سے مال بھٹورنے کے چکر میں چھ چھ ماہ تک عدالتوں میں چلان ہی سینٹ اپ نہیں کروائے جاتے ،اور بعض اوقات توملزم کو بیل بھی نہ کروانے تک کی آشیر باد دے دی جاتی ہے جب یہ کام میرٹ پر ہونے لگے گاتو باقی سب خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا اس سے جہاں انصاف کی فراہمی میں پائے جانے والے شک وشبات کا خاتمہ ہو گا وہاںانصاف پانے کیلئے سویس بنک کی ملکیت اور کّوے کی عمر پانے کی ضرورت کا تاثر بھی ختم ہو جائے گا،ورنہ متذکرہ بالا تاثر پیدا ہوگا جس کے نتیجہ میں حکومت کو عمران خان جیسے لوگ جو اب خاموش ہیں پھِر بلیک میل کرنا شروع کردیں گے ،کیونکہ ایسے لوگوں میں احساس کم اور موقع مِلنے پہ معافی نہ دینے کا مادہ بہت زیادہ ہوتاہے(فی امان اللہ)۔

تحریر : محمد امجد خان
Mobe No:0343 6999818
Email:Pardahchaak@gmail.com

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Javed Hashmi
Previous Post جمہوری ملکوں میں بھی فوجی عدالتیں بنتی ہیں،جاوید ہاشمی
Next Post آقا اور آنسو
Wasim Raza

Related Posts

بریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمد

بریٹنی کے دو ماہی گیروں کی لاشیں ایک ہفتے بعد ڈوبے ہوئے ٹرالر مارانیلو سے برآمد

September 6, 2026
فلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیا

فلیوی فلاماں نے پیٹرک بروئیل کے دورے کی منسوخی کو ‘دانشمندانہ فیصلہ’ قرار دے دیا

September 6, 2026
راشدہ داتی کی عدالتی نظام میں واپسی، متنازع تقرری نے اٹھائے نئے سوالات

راشدہ داتی کی عدالتی نظام میں واپسی، متنازع تقرری نے اٹھائے نئے سوالات

September 6, 2026
فرانس میں تعلیمی سال 2026-2027 کی چھٹیوں کا مکمل کیلنڈر جاری، طلبہ اور والدین کے لیے اہم تاریخیں

فرانس میں تعلیمی سال 2026-2027 کی چھٹیوں کا مکمل کیلنڈر جاری، طلبہ اور والدین کے لیے اہم تاریخیں

September 6, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.