yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    بین الاقوامی خبریں
    • دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
اہم ترین

میڈیا نہیں جمہوریت

Web Editor May 2, 2019May 2, 2019 1 min read
Democracy not media
Share this:

ڈاکٹر امارتیا کمار سین دنیا کے نامور معیشت دان ہیں‘ یہ 1933ء میں بنگالی ہندو فیملی میں پیدا ہوئے‘ والدDemocracy not mediahttps://www.yesurdu.com/the-sin-that-we-do-not-consider-sin-in-the-relation-of-our-wife.html کیمسٹری کے پروفیسر تھے‘ یہ بچپن میں رابندر ناتھ ٹیگور سے متاثر ہوگئے‘ ٹیگور نے ان کی فکری پرورش کی‘ریاضی اور اکنامکس میں تعلیم حاصل کی۔

کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور یادیو یونیورسٹی کلکتہ میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بن گئے‘ کیمبرج یونیورسٹی نے انھیں چار سال کے لیے فیلو شپ دے دی‘ یہ لندن گئے اور چار سال سوشل چوائس تھیوری پر کام کیا‘ یہ غریب ملکوں کے لیے ویلفیئر اکنامکس کا نظریہ تھا‘ یہ چار سال ڈاکٹر امارتیا کمار سین کے لیے وہ آگ ثابت ہوئے جو سونے کو کندن بنا دیتی ہے۔

یہ اس کے بعد پوری زندگی ویلفیئر اکنامکس اور سوشل جسٹس پر کام کرتے رہے‘ ڈاکٹر سین نے ریسرچ سے ثابت کیا دنیا کے جن ملکوں میں جمہوریت نہیں ہوتی وہ قحط کا شکار ہو جاتے ہیں‘ ان کی اسٹڈی تھی آمریت اور قحط کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے‘ ڈاکٹر سین نے ڈیٹا کے ساتھ ثابت کیا آپ اگر ملک کو خوش حال اور سرسبز دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ جمہوریت کی جڑیں مضبوط کردیں‘ آپ کا ملک ہر قسم کے بحران سے نکل آئے گا‘ یہ تھیوری 1980ء سے 1990ء کی دہائی میں بہت کامیاب ہوئی‘ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے اس پر کام کیااور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے دنیا کا ہر وہ ملک جس میں آمریت آئی وہاں سے خوش حالی‘ امن اور خوراک ختم ہو گئی اور جو ملک آمریت سے جمہوریت میں آ گئے وہ خود کفیل ہوتے چلے گئے۔

وہ تیزی سے خوراک‘ امن اور خوش حالی کی طرف بڑھتے چلے گئے‘ ڈاکٹر سین کی تھیوری سچ ثابت ہوئی چنانچہ نوبل انعام کمیٹی نے 1998ء میں ڈاکٹر امارتیا سین کو اکنامکس سائنسز کا نوبل انعام دے دیا‘ یہ اس وقت بھی حیات ہیں ‘ عمر 86سال ہے اور یہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور کتابیں اور مضامین لکھتے ہیں۔

ڈاکٹر امارتیا سین کی تھیوری وقت نے ثابت کر دی اور یہ روز اسے مزید ثابت کرتا چلا جارہا ہے‘ آپ افریقہ کو دیکھ لیجیے‘ 1990ء کی دہائی میں افریقہ کے بیشتر ممالک میں آمریت تھی‘ افریقہ اس وقت بدحالی کے خوفناک ترین دور سے گزر رہا تھا 1994ء میں روانڈا میں نسلی فسادات ہوئے اور دس لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے‘ صومالیہ میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی اور تین لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے‘ الجیریا میں سول وار شروع ہوئی اور دو لاکھ لوگ ہلاک ہوگئے اور سوڈان میں قحط آیا اور ایک لاکھ لوگوں کو نگل گیا‘ یہ ملک اس وقت بدترین آمریت کا سامنا کررہے تھے۔

سوویت یونین کی پانچ ریاستوں اور عرب دنیا کی صورتحال بھی ابتر تھی اور مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ میں بھی جہاں جہاں آمریت تھی وہاں بدامنی‘ غربت اور افلاس کے ڈھیر لگے تھے‘ 1990ء کے آخر میں جس جس ملک میں جمہوریت آئی وہاں حالات تبدیل ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ افریقہ کے ملک بھی ترقی کی شاہراہ پر آ گئے‘ آپ 1992ء کے تاجکستان‘ ازبکستان‘ قزاقستان‘ بیلا روس‘ لتھونیا‘ لٹویا اور پولینڈ کو دیکھ لیجیے اور آپ 2000ء میں ان کی گروتھ اور خوشحالی کا مشاہدہ کر لیں‘ آپ 1990ء کے ترکی کو دیکھ لیں اور آپ 2000ء میں ترکی کو دیکھ لیں اور آپ 1990ء کی دہائی میں یوگو سلاویہ کی ریاستوں کی حالت دیکھ لیں اور آپ آج کے بوسنیا‘ کروشیا‘ مقدونیا‘ مونٹی نیگرو‘ سربیا اور سلونیا کو دیکھ لیں آپ کو زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ اسی طرح 1990ء کی دہائی میں لاطینی امریکا کے ملکوں کو دیکھ لیں‘ وینزویلا تیل پیدا کرنے والا دنیا کا واحد عیسائی ملک ہے۔

یہ تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں 11ویں اور تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر آتا ہے لیکن یہ آج بھی بدحال‘ غریب اور پسماندہ ہے‘کیوں؟ کیونکہ وہاں جمہوری آمریت ہے‘ آپ عرب ملکوں کی حالت بھی دیکھ لیجیے‘ عراق‘ تیونس‘ لیبیا اور مصر کن حالات سے گزر رہے ہیں اور کیوں گزر رہے ہیں‘ ایک لفظی تشخیص ہے آمریت‘ آپ اس کے جواب میں یہ کہہ سکتے ہیں عربوں کی یہ حالت فوج نے نہیں کی۔

یہ حالات امریکا اور یورپ کے پیدا کردہ ہیں‘ یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن ایشو یہ ہے اگر ان ملکوں میں جمہوریت ہوتی تو منتخب اسمبلی اور منتخب حکمران حالات کو کبھی جنگ تک نہ جانے دیتے‘ یہ طاقتور ملکوں کے ساتھ ڈائیلاگ کرتے اور یوں کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر تنازعے ختم ہو جاتے‘ لیبیا میں بھی اگر جمہوری حکومت ہوتی تو یہ کبھی لاکروبی جیسا واقعہ نہ ہونے دیتی‘ کرنل قذافی آمر تھا چنانچہ اس نے پین ایم مسافر کا طیارہ اڑانے کا حکم دے دیا اور عبدالباسط المقرحی نے لاکروبی میں طیارہ اڑا دیا۔

270مسافر ہلاک ہو گئے اور کرنل قذافی اور پورے لیبیا کو اپنے خون سے ان مسافروں کا تاوان ادا کرنا پڑ گیا‘ لیبیا آج بھی یہ تاوان ادا کر رہا ہے‘ عراق میں بھی اگر جمہوری حکومت ہوتی تو یہ کبھی کویت اور ایران پر حملے کرتی اور نہ امریکا کو لال جھنڈی دکھاتی اور یوں لاکھوں عراقی اپنے خون سے حماقت کے یہ دھبے نہ دھوتے اور شام میں بھی اگر اصل جمہوریت ہوتی تو یہ بھی عالمی طاقتوں کی شکار گاہ نہ بنتا‘ لاکھوں شامی کیمپوں میں نہ پڑے ہوتے اور شامی شہر ملبے کا ڈھیر نہ بنتے‘ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے جمہوریت اور ترقی دونوں جڑواں بھائی ہیں‘ یہ دونوں جب بھی چلتے ہیں تو اکٹھے چلتے ہیں اور کسی ایک کی کمی ملک کو دوسرے بھائی سے بھی محروم کر دیتی ہے‘ ڈیٹا اور ڈاکٹرسین دونوں یہ بتاتے ہیں۔

میں نے چند دن قبل ٹیلی ویژن پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی لائیو میڈیا ٹاک دیکھی‘ جنرل صاحب نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا ’’اگر 1971ء میں آج کا میڈیا ہوتا تو یہ بھارتی حالات بے نقاب کرتا‘ وہاں کے حالات اور زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا اور یوں مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا‘‘ میں ان سے اتفاق کرتا ہوں‘ یہ بات سو فیصد درست ہے‘ میڈیا ہر دور میں ملکوں کے استحکام کی ضمانت ہوتا ہے‘ یہ ماضی میں بھی ’’بائینڈنگ فورس‘‘ تھا اور یہ آج بھی استحکام کی علامت ہے‘ آپ ریسرچ کر لیجیے دنیا کے جن ملکوں میں میڈیا آزاد تھا وہ آج کہاں ہیں اور جن ممالک میں میڈیا مکمل پابند تھا وہ آج کس جگہ کھڑے ہیں یا آج بھی جن ملکوں کا میڈیا حکومت کے پنجے میں سسک رہا ہے وہ کہاں ہیں اور جہاں میڈیا مکمل آزاد ہے وہ ملک کہاں پہنچ چکے ہیں توآپ بڑی آسانی سے نتائج اخذ کر لیںگے۔

اب سوال یہ ہے ملکوں کی ترقی اور استحکام میں میڈیا کا کردار کیوں ہوتا ہے‘ یہ صرف مشینیں ہیں اور مشینیں کسی قوم‘ کسی ملک کو کیسے ترقی یافتہ بنا سکتی ہیں؟ بات سیدھی اور سادی ہے‘ میڈیا جمہوریت کی ’’بائی پراڈکٹ‘‘ ہوتا ہے‘ ملک میں جتنی جمہوریت ہوتی ہے میڈیا بھی اتنا ہی آزاد ہوتا ہے اور وہ ملک بھی اتنا ہی ترقی یافتہ اور اتنا ہی خوش حال ہوتا ہے‘ جمہوریت مکمل طور پر مکمل اور آزاد ہے تو میڈیا بھی مکمل آزاد ہو گا‘ یہ مکمل آزادی ملک کو مکمل استحکام دے گی اور یہ مکمل استحکام ملک کو مکمل ترقی یافتہ بنا دے گا ورنہ دوسری صورت میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی کنٹرولڈ میڈیا اور کنٹرولڈ میڈیا ملک کو کنٹرولڈ اکانومی دیتا ہے اور یوں ملک کنٹرولڈ پراگریس کرتا ہے۔

جمہوریت اگر سیمی لبرل ہے تو میڈیا بھی سیمی لبرل اور پھر ملک بھی سیمی پراگریس ہو گا اور اگر جمہوریت سلیکٹڈ ہے تو پھر میڈیا بھی سلیکٹو ہو گا اور اس کے نتیجے میں ترقی اور خوش حالی بھی سلیکٹڈ ہو گی‘ آپ کو پھر پورے ملک میں سلیکشن نظر آئے گی‘ ہم اگر 1971ء کا تجزیہ کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا ملک میں اس دور میں جتنے بلند قامت اخبارات‘ میگزینز اور صحافی تھے ہم آج اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘ وہ لوگ لکھتے اور بولتے بھی رہے مگر مشرقی پاکستان اس کے باوجود ہم سے الگ ہو گیا‘ کیوں؟

کیونکہ ملک میں آمریت تھی اور آمریت کے دور میں میڈیا جتنا بھی آزاد ہو جائے یہ آزاد نہیں ہوتا‘ آمریت میں حکومت اگر دریا دلی کا مظاہرہ بھی کر لے تو یہ زیادہ سے زیادہ پرندے کا پنجرہ کمرے سے لان میں رکھ دیتی ہے اور بس چنانچہ پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جو 1971ء میں نکلا یا پھر 1990ء کی دہائی میں سوویت یونین‘1991ء میں یوگوسلاویہ‘2003ء میں عراق اور 2011ء میں لیبیا‘ تیونس اور شام میں نکلا اور یہ مسلسل نکلتا چلا جا رہا ہے۔

لہٰذا ہم اگر پاکستان کو ترقی یافتہ‘ خوش حال اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں میڈیا سے زیادہ جمہوریت پر توجہ دینا ہو گی‘ ہمارے ملک میں جس دن جمہوریت مضبوط اور آزاد ہو جائے گی اس دن میڈیا بھی آزاد اور مضبوط ہو جائے گا اور جس دن میڈیا مضبوط اور آزاد ہو گیا اس دن ہماری معیشت‘ صنعت‘ تجارت اور اسٹاک ایکسچینج بھی آزاد اور مضبوط ہو جائے گی اور جس دن یہ سارے شعبے مضبوط اور آزاد ہو گئے اس دن دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی‘ امن اور خوشحالی سے نہیں روک سکے گی۔

ہم اس دن حقیقتاً بحرانوں سے نکل آئیں گے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا جمہوریت کو صرف بوٹوں سے خطرہ نہیں ہوتا‘ جمہوریت ویسٹ کوٹوں اور شیروانیوں کے ہاتھوں بھی ذلیل ہوتی ہے‘ ملک میں جب پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں ہو گی‘ یہ اگر شخصیات اور خاندانوں کے ہاتھوں پامال ہوتی رہے گی اور پارٹی کا اگلا قائد کون ہوگا یہ فیصلہ پارٹی اور پارٹی کے کارکن نہیں بلکہ قائدین کی بلڈ لائین اور ڈی این اے کرے گا تو پھر جمہوریت کو جمہوریت کون کہے گا اور کون سمجھے گا؟۔

ہماری قوم 71 سال میں چار مارشل لاء سہہ چکی ہے‘ یہ چار آمروں کو گھر بھی بھجوا چکی ہے‘اب پارٹیوں کے سربراہوں کو بھی قربانی دینی چاہیے‘ یہ بھی اب گھر چلے جائیں تاکہ ملک میں اصل جمہوریت آ سکے اور جس دن یہ جمہوریت آ گئی اس دن میڈیا بھی آزاد ہو جائے گا اور ملک کی معیشت بھی‘ ہمیں اس دن مدارس اور مرکزی دھاروں کے لیے فوج کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا‘ حکومتوں کو اس دن خود کو جائز ثابت کرنے کے لیے کسی سرٹیفکیٹ اور کسی ٹویٹ کی ضرورت بھی نہیں رہے گی‘ یہ ملک مستحکم اور خوش حال ہو جائے گا اور یہ وقت کا فیصلہ بھی ہے اور ڈاکٹر امارتیا سین کا بھی‘ اصلی اور سچی جمہوریت کے علاوہ ہمارے پاس ترقی کا کوئی آپشن موجود نہیں۔

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Previous Post بیٹی کا باپ سے ایسا گناہ جو پسندیدہ عمل بن گیا – اسپین کا سچا واقعہ
Next Post پاکستان میں آج اہم ترین ملازمتوں کے مواقع
Top Jobs Alert in Pakistan

Related Posts

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ ریکارڈ تعیناتی کے بعد وطن واپس لوٹ گیا

May 1, 2026

لیبرڈے ;مشرقِ وسطیٰ بحران سے متاثرہ مزدوروں کے لیے حکومتی اقدامات..؟

April 30, 2026

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.