yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    • اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
کالم

موت سے پہلے کیوں مر جائیں

Yes 1 Webmaster March 9, 2016 1 min read
Morale Low
Share this:
Morale  Low
Morale Low

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
کسی بھی ملک کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس میں ناامیدی پھیلائی جاتی ہے اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ ناکام ترین لوگ ہیں دیکھا جائے تو آجکل حکومتی سطع پر اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ کس طرح عوام کے حوصلے پست کیے جائیں سوچی سمجھی سازش کے زریعے ہماری ہی صفوں میں موجود میر جعفر اور میر صادق ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا بناتے جا رہے ہیں حملہ بھارت میں ہوتا ہے ایف آئی آر گوجرانوالہ میں کٹتی ہے ۔کرکٹ بورڈ نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ میچ نہ صرف ہروانا ہے بلکہ بدترین شکست کو یقینی بنا ناہے۔وزیر داخلہ عوام کو باور کراتے ہیں چونکہ ہمارے پاس تحریری ثبوت نہیں ہیں ۔

الطاف حسین را کے ایجنٹ ہیں اس لیے ہم کوئی کاروائی نہیں کر سکتے یعنی یکے بعد دیگرے ایم کیو ایم کے جو اپنے ہی اندر کے لوگ چشم کشا شہادتیں مہیا کر رہے ہیں وہ محض ایک بکواس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اس سلسلے میں آڈیو و،ڈیو ثبوتوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں ۔قومی سطع کے جرائم کے ثبوت عدالتوں کو مہیا کرنا حکومت وقت کا کام ہوتا ہے لیکن وہ کیسوں کو لٹکانے اور کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہے رینجرز ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں لگی ہے تو عدالتیں ناکافی ثبوتوں کی آڑ لے کر ان ملزموں کو باہر بھگانے میں لگی ہیں ایسے میں ذہن میں سوال اٹھتا ہے ایگزیکٹ اور بول کے خلاف تو صرف بیرون ملک لکھا جانے والا کالم ہی کافی ہو گیا تھا جبکہ یہاں مہینوں کی محنت کے بعد جمع کیے جانے والے ثبوت اور گواہ نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

وجاہت علی خان کہتے ہیں ہمیں گمان تھا کم از کم ایک ادارہ تو پاکستان میں ایسا ہے جو پے در پے مارشل لائوں کے باوجود ملک کی اندرونی و بیرونی سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے لیکن جب زرداری تڑی لگا کر ملک سے باہر چلے گئے تو یہ تصور کمزور پڑ رہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری قوم اپنا کیا خود بھگت رہی ہے میڈیا چیخ رہا ہے اخبارات بھرے پڑے ہیں کہ خدا کے لیے فوج کو کمزور مت کرو رینجرز کو فریق بنا کر کس کا بھلا کر رہے ہیں؟ کیا رینجرز کی ایان علی سے دشمنی ہے یا ڈاکٹر عاصم سے؟ آخر مجرموں کو تحفظ کیوں فراہم کیا جا رہا ہے ؟کیا سیاست ریاست سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟میں ہمیشہ یہی لکھتی رہی کہ اس خونی جمہوریت کا راستہ مارشل لاء روک لیا کرتا تھا۔

جو آج تک ملک بچا رہا مگر اس بار انہوں نے بے نظیر کی قربانی دے کر بہت بڑی بازی کھیلی ایک طرف تو زرداری کی قسمت کھل گئی دوسری طرف نام نہاد جمہوریت پائیدار ہو گئی اس بار جرائم اس لیئے بھی بڑھ گئے اور مجرم توانا ہو گئے کہ انہوں نے سوچ لیا تھا اب فوج جرات نہیں کرے گی نہ ہی مارشل لاء کا ڈنڈا سر پہ آئے گا لہذا کھل کے لُوٹو اور ریاستی ڈھانچے کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لو ،بیوروکریسی کو خرید لو یا خوف میں جکڑ دو، جس پہ الزام لگتا ہے اس کو اس سے بڑا عہدہ مل جاتا ہے جس کی وجہ سے مجرم بے خوف ہو گئے جرم سرحدیں پھلانگ گیا کسی کو ذرہ سا بھی خطرہ محسوس ہوتا وہ دوسرے ملک کی راہ لیتا سیاں بنے کوتوال توڈر کاہے کے مصداق پولیس میں دہشت گرد بھرتی کر دیے گئے جو نہ صرف سسٹم کے لیے خطرہ بن گئے بلکہ اصل پولیس والوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیںمیرے پاس کئی پولیس والوں کے میسج آتے ہیں۔

جو لکھتے ہیں ہم اب ایک دوسرے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ہر کوئی بات کرتے ڈرتا ہے کہ نہ جانے اگلا کس کا بندہ ہے پولیس کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی جب تک اس سے سیاست نہیں نکالی جاتی ۔میرے اس سوال پر کہ آپ لوگ جرائم ختم کرنے کی بجائے اس میں حصہ دار کیوں بن جاتے ہو ؟وہ کہتے ہیں ہم بھی انسان ہیں انسانیت ہمارے اندر بھی ہے لیکن جب تک پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جاتا یہ لعنت ختم نہیں ہو سکتی ہم خاموش رہنے پر مجبور ہیں اپنی روزی پر لات تو نہیں مار سکتے میں نے کہا ایسی روزی کس کام کی جو جہنم واجب کردے لیکن اس کرپٹ سسٹم میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی مایوسی دلوں میں گھر کرتی جا رہی ہے قوم کا مورال ڈائون ہو رہا ہے لیکن حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہیں وہ قوم چاہیے جسے وہ ایک تھپڑ ماریں تو وہ دوسرا گال بھی پیش کر دے بلکہ جوتے کھانے کے لیے جوتے مارنے والے بڑھانے پر اصرار کرے اس کی بد ترین مثال ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ہیں جو حقیقت میں اپنے کارکنوں کو جوتوں سے پٹواتے او ر ان سے جھاڑو دلوایا کرتے تھے آخر الطاف حسین کا انجام بھی قریب آپہنچا ہے ۔

ایم کیو ایم کے اندر کے لوگ بھی خوف کی فضا سے آزاد ہو کر سچ بولنے پر اتر آئے ہیں کس کس جرم کی پوتھیاں نہیں کھل رہیں پہلے کراچی کی ہر سڑک پر بوری بند لاشیں ملا کرتی تھیں اب جرائم کی گٹھڑیاں کھل رہی ہیں ایم کیو ایم کے سابق وزیر ڈاکٹر صغیر احمد نے کہا کہ اگست میں صبح سویرے کراچی کی سڑکوں پر تیس سے پینتیس لاشیں ملتی رہیں شناختی کارڈ دیکھ دیکھ کر نوجوانوں سے زیادتیاں کی جاتیں (کیا یہ الطاف کی پاکستان سے دشمنی کی انتہا کا ثبوت نہیں کہ اگست میں ہی پاکستان بنا تھا ) ڈاکٹر صغیر احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو وہ افراد چاہیں جن کے چہروں سے لوگوں کو وحشت ہو اوپر سے کوئی آ جائے تو آپ اس کے پیر دھو دھو کر پیتے ہیں آپ بھول گئے کہ قوم کو آپ نے کہاں پہنچا دیا ہے ؟ڈاکٹر صغیر احمد پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو گئے اسی طرح رینجرز کی کاروائی کے دوران کراچی سے گرفتار ہونے والے دہشت گرد فیصل عرف ماما نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2009 میں کراچی میں عاشورہ کے مرکزی جلوس میں دھماکے بھی ایم کیو ایم نے کرائے تھے ۔

واضح رہے کہ فیصل عرف ماما ایم کیو ایم کا مبینہ ٹارگٹ کلر اور کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن سیکٹر کا ممبر ہے ملزم کو گذشتہ برس اکتوبر میں رینجرز نے گرفتار کیا تھا ملزم نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ماتمی جلوس کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر کی گئی اس وقت کراچی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی بھی موجود تھے دھماکے کے بعد جلائو گھیرائو بھی منصوبے کا حصہ تھا فیصل ماما نے تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ دس منٹ پہلے کارکنوں نے بم نصب کیے اور پھر کیمپ چھوڑ دیا تھا واضح رہے کہ کراچی میں اٹھائیس دسمبر 2009کو ایم اے جناح روڈ پر عاشورہ کے جلوس میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے تھے دھماکے کے بعد تخریب کاروں نے آتش گیر مادے کی مدد سے بولٹن مارکیٹ کی چار ہزار دکانوں کو آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی اشیا جل کر خاکستر ہو گئیں یقناً یہ بھی ایک ڈیل ہی ہو گی مارکیٹ والوں نے بھتہ نہیں دیا ہوگا یا پھر مارکیٹ والی جگہ خالی کرانی ہوگی جس طرح کہ سانحہ بلدیہ ٹائون میں ہوا ۔

متحدہ کے قائد الطاف حسین کے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے علاوہ بی جی پی سرکار سے بھی قریبی رابطوں کے شواہد مل گئے ہیں انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے برطانیہ کے دورے کے دوران الطاف حسین کو سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں گرفتاری سے بچانے کے لیے حکومت پر دبائو ڈالا تھا متحدہ جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنڈے کے مطابق کام کر رہی ہے برطانوی ایجنسیوں اور بالخصوص سکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے تفتیش کا عمل مکمل کر کے گرفتاریوں کا عمل شروع ہونے والا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے برطانوی حکام سے ملاقات میں واضح کر دیا وہ برطانیہ اور بھارت کے تعلقات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے الطاف حسین کے خلاف کاروائی کے عمل کو سست کر دیں جس کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ کو حکومتی شخصیات کی جانب سے سخت دبائو کا سامنا کرناپڑااس لیے الطاف حسین اب تک گرفتاری سے بچے ہوئے ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ہر بات کا ذمہ دار آرمی کو ٹھیرایا جاتا ہے کوئی گرفتار نہیں ہو رہا تو سوال ہو گا فوج کیا کر رہی ہے؟ کوئی بچ کے نکل گیا تو ایجنسیاں کس مرض کی دوا ہیں کسی کو سزا نہیں ہوئی تو آرمی نے ڈیل کر لی ہو گی اس سے یہ ہو رہا ہے کہ اس واحد ادارے کا مورال بھی گرنے لگتا ہے قوم مایوس ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یہی اس قوم کی سب سے بڑی بد بختی ہے! ۔

Mrs. Jamshed Khakwani
Mrs. Jamshed Khakwani

تحریر: مسز جمشید خاکوانی

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Kidney
Previous Post گردوں کے فیل ہونے کے اسباب، علامات، علاج اور پرہیز
Next Post شان نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
Muhammad PBUH

Related Posts

What Happens to Melania Trump If President Dies?

اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟

July 18, 2026

اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے صدارتی دور میں انتقال کر جائیں تو میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوگا؟

July 18, 2026

پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، مشکوک بیانیے کی تحقیقات ہونی چاہئیں: قاری فاروق احمد

June 11, 2026

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.