اسلام آباد (اصغر علی مبارک )پاکستان بھر میں “یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ” انتہائی عقیدت، جوش و جذبے اور ایمانی غیرت کے ساتھ منایا گیا۔ سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے بدترین توہین مذہب توہین رسالت و صحابہ و اہل بیت، کو روکنے کے حوالے سے 15 مارچ کو اسلامی فوبیا کے دن کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منایا گیاہے
یومِ تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر پاکستان اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر ایک جامع اقوام متحدہ ایکشن پلان کی تیاری پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد اسلاموفوبیا کو بہتر انداز میں سمجھنا، روکنا اور ختم کرنا ہے۔
عوام میں توہین مذہب کے متنازع مواد کو روکنے کے حوالے سے آگاہی ,سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے بدترین توہین مذہب، توہین رسالت و صحابہ و اہل بیت کو روکنے کے حوالے سے حکومت پاکستان نے 15 مارچ اسلامی فوبیا کے دن کو یوم تحفظ ناموس رسالت کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا,دوسری طرف صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر خصوصی پیغام میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے۔ اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج اسلامو فوبیا کے تدارک کا عالمی دن ہے، دین اسلام تمام نوع انسانی کے لیے امن و آشتی کا پیغام ہے، اسلام کو انتہا پسند خیالات سے منسوب کرنا صریحاً لاعلمی ہے یہ دن دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کی مذمت میں عالمی آواز ہے۔ آج کا دن مسلمانوں کو مذہبی تعصب اور متشدد واقعات کے خلاف تخفظ فراہم کرنے کا عالمی احساس ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلامو فوبیا معاشرتی عدم برداشت، بنیادی مذہبی آزادی اور باہمی اتحاد و رواداری جیسی اقدار کو کمزور کرنے کا باعث ہے۔ مہذب معاشرے عقائد کی بنیاد پر انسانی حقوق میں تفریق نہیں کرتے بلکہ باہمی احترام و ایثار پر قائم ہوتے ہیں۔ پاکستان اسلامو فوبیا پر مبنی تمام طرزعمل اس کی تمام صورتوں کی مذمت کرتا ہے، اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور بین الاقوامی قوانین کی نظر میں تمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ذمہ دارانہ انداز میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آئندہ بھی پاکستان اقوام عالم کے درمیان مذہبی رواداری کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا یاد رکھیں کہ جید علماء کرام و مشائخ عظام ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالے سےوفاقی وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے متفقہ طور پر درج ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و حرمت ہر مسلمان کے ایمان کا جزوِ لازم ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قانونی اور سماجی کوشش کرے, پاکستان نے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا, اس موقع پر تمام مسلم اور غیر مسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام اور مقدساتِ اسلام کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر گستاخانہ حرکات کو روکنے کے لیے عالمی قوانین بنائیں۔
پاکستان میں ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے پہلے سے موجود قوانین کا سختی سے نفاذ یقینی بنایا جائے ۔ ساتھ ہی اس امر پر بھی زور دیا گیا تھاکہ ان قوانین کا غلط استعمال نہ ہو تاکہ بے گناہ افراد کسی جھوٹے الزام کا شکار نہ ہوں ,ملک بھر کے علمائے کرام اور مشائخ سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جمعہ کے خطبات میں تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کریں, نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کی تعلیم دیں اور انہیں گستاخانہ یا اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے سے روکنے کی ترغیب دیں,عوام میں یہ شعور اجاگر کریں کہ گستاخانہ مواد کا جواب قانون کے دائرے میں رہ کر دیا جائے، اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حکومتی اداروں سے رجوع کیا جائے, اعلان کیا گیا تھاکہ “سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں – سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اس بات پر غور کیا جائے کہ نوجوان نسل کو اسلامی اقدار کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال سکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی گستاخانہ مواد کو آگے نہ پھیلائیں بلکہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں۔ اس حوالے سے وزارتِ مذہبی امور کے ویب پورٹل کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی، قانونی اور سماجی اقدامات جاری رکھے گا۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذہبی مقدسات کی توہین کو عالمی جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرے۔,حکومتِ پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اینٹی بلاسفیمی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے اور ان قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کرے۔,سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی نگرانی اور اس کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کیا جائے اور عوام الناس کو ان قوانین سے مکمل آگاہی دی جائے , پاکستان میں تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے قانون کو کمزور کرنے یا اس میں کسی قسم کی نرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی , تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مشائخ اور مذہبی اسکالرز متحد ہو کر قوم میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں , اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ دینِ اسلام کے اصولوں پر کاربند رکھے، ہمیں عشقِ رسول ﷺ میں ثابت قدمی عطا کرے اور نبی کریم ﷺ کے ناموس کے تحفظ کے لیے ہماری کوششوں کو قبول فرمائے,وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان نے 15 مارچ 2025 یومِ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے طور پر منانے کا مراسلہ جاری کیاتھا۔ عوام میں توہین مذہب کے متنازع مواد کو روکنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی سفارشات صوبائی سیکریٹری مذہبی امور، اوقاف پنجاب، سندھ، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، بلوچستان، مظفر آباد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو جاری کی گئی تھی۔

عوام الناس میں آگاہی کے حوالے سے ملک بھر کی مذہبی قیادت ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ مولانا محمد حنیف جالندھری، مفتی منیب الرحمان، علامہ محمد افضل حیدری، پروفیسر ڈاکٹر ساجد میر، مولانا عبد المالک سے لائحہ عمل بنا کر عوام الناس میں آگاہی مہم چلانے کی اپیل کی گئی تھی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخی فیصلے کے لیے اہم کردار ادا کیا جس کے تحت 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا گیا یہ اقدام مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کی عالمی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے مظاہر میں قرآن مجید کی بے حرمتی، حجاب پہننے والی خواتین پر حملے، مساجد کی توڑ پھوڑ، مذہبی بنیادوں پر پروفائلنگ اور عوامی و میڈیا مباحث میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ شامل ہیں۔ اسلاموفوبیا عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ پاکستان نے ایک اور قرارداد کی منظوری میں بھی کلیدی کردار ادا کیا جس کا مقصد اسلاموفوبیا کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کو مضبوط بنانا تھا، جس کے تحت اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری کی درخواست کی گئی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا اور اس تعصب کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو متحد ہو کر اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے مئی 2025 میں اسلاموفوبیا کے انسداد کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تقرری اور مئی 2024 میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کی تقرری کا خیرمقدم کیا تھا۔
اسلاموفوبیا کے انسداد کا عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف تعصب، امتیاز، دشمنی اور تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان ساختیاتی عوامل کو بھی ختم کرے جو اس رجحان کو فروغ دیتے ہیں، اور باہمی احترام، مکالمے اور برداشت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔یاد رکھیں کہ14 دسمبر 2024 کوپاکستان اور ترکیہ نے اپنے سرکاری ٹیلی ویژن چینلز کے درمیان مشترکہ نشریات کے ذریعے میڈیا تعاون کو مضبوط بنانے اور اسلاموفوبیا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر اتفاق کیاتھا,یہ پیش رفت پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ترکیہ کے ہیڈ آف کمیونیکیشنز پروفیسر فرحتین التون کے درمیان ترک ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوئی تھی۔پروفیسر فرحتین التون کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے میڈیا تعاون کو مضبوط بنانے، عوامی سفارتکاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کی طرف سے اسلامو فوبیا اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے پر تبادلہ خیال کیاتھا۔ دونوں فریقین نے پی ٹی وی اور ترکیہ کے سرکاری ٹیلی ویژن ’ٹی آر ٹی‘ کے درمیان مشترکہ نشریات پر اتفاق کیاتھا انہوں نے کہاتھا کہ دونوں ممالک کے درمیان میڈیا کے تعاون سے اسلاموفوبیا اور غلط معلومات کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی ,اسی طرح اسلام مخالف بیانیے پر امریکی ریپبلکن قیادت تنقید کی زد میں، اشتعال انگیز ریمارکس اور پالیسی تجاویز نے امریکی سیاست میں اسلامو فوبیا پر نئی بحث چھیڑ دی امریکی کانگریس میں ریپبلکن رہنماؤں کو اسلام مخالف بیانیے پر ردعمل دینے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ اشتعال انگیز ریمارکس اور پالیسی تجاویز کے ایک سلسلے نے امریکی سیاست میں اسلامو فوبیا (اسلام دشمنی) پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تازہ ترین تنازعہ ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے اینڈی اوگلز اور فلوریڈا کے رینڈی فائن سمیت ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان کے بیانات سے پیدا ہوا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات سیکیورٹی خدشات کی حد عبور کر کے بطور مذہبی گروہ مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز بیانیے کو خود صدر ٹرمپ کی جانب سے حوصلہ افزائی ملی ہے۔ مخالفین ان کی پہلی صدارتی مدت کے دوران کئی مسلم اکثریتی ممالک سے امریکہ آمد پر عائد کردہ پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں،جسے عوامی سطح پر ’’مسلم بین‘‘ (مسلمانوں پر پابندی) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔14 جنوری 2026 کو امریکی سینیٹر مارک وارنر نے سینیٹ کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا میں مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی انتہاپسندی میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جس کا الزام انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد کیاتھا۔ وارنر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات اور پالیسیوں نے اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ نیو یارک سٹی کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی کو ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع کامیابی کے بعد اسلام مخالف آن لائن حملوں کا سامنا ہے،مسلم حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم کیر ایکشن کے مطابق، تقریباً 6,200 آن لائن پوسٹس میں اسلام مخالف جملے یا دشمنی کا اظہار کیا گیاتھاکیر ایکشن کا کہنا تھا کہ وہ نفرت انگیز مواد پر نظر رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس کی خودکار نگرانی، عوام کی جانب سے آن لائن رپورٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اطلاعات پر انحصار کرتا ہے 3 دسمبر 2025 کوکیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ لیو نے اسلام کے خلاف خوف پھیلانے والے ‘تارکین وطن مخالف’ گروہوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تعاون یورپ اور امریکا کے لیے مثال بننا چاہیے۔ اسلام مخالف جذبات اکثر اُن لوگوں کی جانب سے ابھارے جاتے ہیں جو تارکینِ وطن کو نسلی یا مذہبی بنیادوں پر روکنا چاہتے ہیں۔





