جلوے کیا کیا دکھاتی رہی چاندنی
جلوے کیا کیا دِکھاتی رہی چاندنی میرے دل کو لُبھاتی رہی چاندنی ہجر کی رات غم تھا جو تنہائی کا میرے غم کو بِتاتی رہی…
جلوے کیا کیا دِکھاتی رہی چاندنی میرے دل کو لُبھاتی رہی چاندنی ہجر کی رات غم تھا جو تنہائی کا میرے غم کو بِتاتی رہی…
کبھی وفاداری فطرتا” اور کبھی مجبوری ہوتی ہے : روٹی کا ٹکڑا کتے اور انسان کا ہے مشترکہ دکھڑا
جنہیں ارتفاع ء فلک تو نے سمجھا نہیں ھیں سوا جلتے بجھتے شرارے تمدن کو جن سے ھیں خطرات لاحق اتباع میں نہیں ان کی…
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے! بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے…
اقبال تیری عظمت کی داستاں کیا سناؤں تیری زندگی پھ لکھوں تو الفاظ نہ پاؤں کوئ نہ کرسکا کیا کام وھ تو نے تیرے کام…
قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں اک شخص کی محنت سے ملتیں تشکیل پاتی ہیں کیا خوب تھا وہ شخص جس نے دنیا…
درد ہی درد اور کیا ہے عشق روگ ہے مستقل سزا ہے عشق دونوں عالم کی ابتدا ہے عشق کربلا کی بھی انتہا ہے عشق…
ہم ان کی یاد میں وفا کا دیا جلاۓ رکھتے ہیں غم ان کا سینےمیں چھپاۓ رکھتے ہیں دیتا ہے دل ان کو بہت سی…
دونوں میں سے کوئی ایک رہے گا باقی تم ہی بتاؤ، تم کو کیا چاہئے میری جان دو تلواریں سما نہیں سکتیں میان میں باقی…
پہلی ہی مُلاقات میں اقرار کر گئے ہم پہ عنائیتیں وہ بےشُمار کر گئے ہم نے محبت میں صرف دل ہی دیا تھا وہ دل…
جو مانگنا ہے مانگلے اپنے پروردگار سے سبکی جھولی بھرتی ہے اُسی کے دربار سے اے موت تيرا شکريە کيسے اداکروں ميں تو نے ملايا…
چھوڑ گئے سناٹا پی تم تو ہمرے پاس دھوپ کنارے باقی لیکن پیا ملن کی آس ہوا کے ہاتھ تم کو کل بیھجا تھا سندیس…
میر ے دم سے ہو اجالا مجھے یہ ہے کمال کرنا تیرے تاریک زدہ شہر کو شہر جمال کرنا میری طلب وفا پہ فقط اس…
آئینہ پیار کا ہر وقت دکھاتا ہے مجھے دل کی دیوار پہ وہ اتنا سجاتا ہے مجھے کیسا اعزاز دیا ہے یہ خدا نے مجھ…
اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟ ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے روشنی دن کی وہي تاروں بھري…
بن تمہارے یہ دل اداس ہوتا ہے جو کاٹے نہ کٹے وہ لمحہ عذاب ہوتا ہے لوگ کہتے ہے محبت تکلیف دہ احساس ہو تا…
دو پل حیات جینے کے لیے کافی ہے تھوڑی سی شراب شیخ سے سُنا تھا وقتِ ضرورت معافی ہے تھوڑی سی شراب
میں ہر دوری مٹا دیتی گر وہ نزدیک ہونا چاہتا میں ہررسم توڑدیتی گروہ تعلق مجھ سےجوڑناچاہتا میں نہیں جانتی محبت کے کیا اسباق ھے…
جیسا سورج کل نکلا تھا ویسا نکلا آج ہے صبحِ سالِ نو کا بھی کل صبح جیسا آغآز ہے وہی زندگی ہے وہی معمولات ہیں…
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پيار کيوں يہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کيوں سيماب وار رکھتي ہے تيري ادا اسے…
فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر…
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
میں جب کہتا ہوں آؤ پاس تو تم دُور جاتی ہو بتاؤ کیا میرے دل کو دُکھا کے چین پاتی ہو ہر اِک سے بات…
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
