دامن دل چھڑائےجارہاھے
دامن دل چھڑائےجارہاھے غم حیات پکڑائےجارہاھے کیسےکٹےگےماہ وسال اتنے ہجرکاحساب لگائےجارہاھے غموں کابوجھ لئےدل میں بظاہر مسکرائے جارہاھے چاندنی رات کووہ بام پر اشاروں سےبُلائےجارہاھے…
دامن دل چھڑائےجارہاھے غم حیات پکڑائےجارہاھے کیسےکٹےگےماہ وسال اتنے ہجرکاحساب لگائےجارہاھے غموں کابوجھ لئےدل میں بظاہر مسکرائے جارہاھے چاندنی رات کووہ بام پر اشاروں سےبُلائےجارہاھے…
حبیب جالب سے معذرت کے ساتھ دیپ اب تو محلات ہی میں جلے ساری خوشیاں ہماری ہی لے کر چلے سائے میں ہر مصلحت کے…
رب دا گھر اے دل عنبر کدی دل کسے دا ڈھائیے نہ
یا پریت کسے ناں پائییے نہ پائیے تے چھوڑ کے جائیے نہ جو درد نوں آپے جانے نہ اوہنوں اپنا طبیب بنائیے نہ جو اوکھے…
وہ جب سامنے آجاتے ہیں نظر کے ہم درد بھول جاتے ہیں عمربھرکے اس سے پہلے کتنی پرامن تھی زندگی ہم تو پچھتا رہے ہیں…
دیکھادنیامیں جومحشرسااک نظارہ ھے اے آنکھ اشکبار!قصوراسمیں کیاتمہاراھے؟ الگ رنگ کےسانچےمیں خودکوڈالاھے تیری خاطرعجب ذندگی نےروپ دھاراھے گل لالاسےیہ چمن ساراسجایاھے بیچ اسکےخون شہیدسےابلتاہوافوارہ ھے…
میں جس کے پیار میں دنیا سے ماورا ہوں وہ مجھ سے جدا ہےمیں اس سےجداہوں اسے میری عافیت پوچھنے کی فرصت نہیں میں جس…
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا یہی احباب…
محبت ان دنوں کی بات ھے فراز جب لوگ سچے اور مکان کچے تھے
کتنا مشکل ہے وفا کرنا خود کو خود سے ہی جدا کرنا جانے کوئی کیا کشمکش ہے جی کر مرنے کی دعا کرنا کوئی حسرت…
گو کہ تیری جدائی میں ہر شب بےچینی سے گزرے گی دل کے اندھیر خانوں میں وحشتوں کا رقص ہوگا گو کہ تجھ بن راتوں…
محبت میں کوئی فرمائش نہ کرنا میری غربت کی پھر نمائش نہ کرنا جان تو مسکرا کر دوں گا اگر چاہو وفا کے نام پہ…
چُپ نہ رہتے بیان ہوجاتے تجھ سے گر بدگُمان ہوجاتے ضبظِ غم نے بچا لیا ورنہ ہم کوئی داستان ہوجاتے تُو نے دیکھا نہیں پلٹ…
جمکتے یہ ستارے جب جب نظم کہوں غزل کہوں یہ چاند کی چاندنی کہوں میری ا س محبت کو کیا بوچھتی ھو میں تو جگمگانے…
زندگی ہے یا کوئی قیامت ہے دوستو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہےدوستو
نکھرتی صبحوں ڈھلتی شاموں بدلتے موسموں کو میرا سلام کہنا پردیس سے جانے والو میرے وطن کے باسیوں کو میرا سلام کہنا ان کو بتانا…
دل کا چین چراتی ہیں وہ پیاری پیاری آنکھیں شوخی سے مسکراتی ہیں وہ پیاری پیاری آنکھیں خوابوں میں لے جاتی ہیں وہ پیاری پیاری…
محبت کی طبیعت میں طلسماتی کرشمہ ہے مگر یہ دنیا کہتی ہے محبت ایک فتنہ ہے محبت پا کے دیکھا ہے، محبت کھو کے دیکھا…
ثنائے سرورِ عالم کا جام کب دو گے مری زبان کو اذنِ کلام کب دو گے تری عطائیں بہت ہیں مگر مرا تجھ سے وہی…
شگفتہ غزل ہاشمی کا شمار دنیائے شعرو ادب کی خوش نصیب شخصیات میں ہوتا ہے،انکے ہاشمی خاندان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہر سطح پر…
تَو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں میرے ہاتھوں کی لکیروں سے اَلجھ جاتی ہیں
چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی زمین زاد بھی بھُولا جو لفظِ رہداری فصیلِ شہر…
ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺣﺮﻑ ۔۔۔۔۔ ﺳﺮﺩ ﺁﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﺮﮮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎ ﻭﺻﻒ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ…
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
