میں جس کے۔۔۔۔
میں جس کے پیار میں دنیا سے ماورا ہوں وہ مجھ سے جدا ہےمیں اس سےجداہوں اسے میری عافیت پوچھنے کی فرصت نہیں میں جس…
میں جس کے پیار میں دنیا سے ماورا ہوں وہ مجھ سے جدا ہےمیں اس سےجداہوں اسے میری عافیت پوچھنے کی فرصت نہیں میں جس…
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا یہی احباب…
محبت ان دنوں کی بات ھے فراز جب لوگ سچے اور مکان کچے تھے
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
کتنا مشکل ہے وفا کرنا خود کو خود سے ہی جدا کرنا جانے کوئی کیا کشمکش ہے جی کر مرنے کی دعا کرنا کوئی حسرت…
گو کہ تیری جدائی میں ہر شب بےچینی سے گزرے گی دل کے اندھیر خانوں میں وحشتوں کا رقص ہوگا گو کہ تجھ بن راتوں…
محبت میں کوئی فرمائش نہ کرنا میری غربت کی پھر نمائش نہ کرنا جان تو مسکرا کر دوں گا اگر چاہو وفا کے نام پہ…
چُپ نہ رہتے بیان ہوجاتے تجھ سے گر بدگُمان ہوجاتے ضبظِ غم نے بچا لیا ورنہ ہم کوئی داستان ہوجاتے تُو نے دیکھا نہیں پلٹ…
جمکتے یہ ستارے جب جب نظم کہوں غزل کہوں یہ چاند کی چاندنی کہوں میری ا س محبت کو کیا بوچھتی ھو میں تو جگمگانے…
زندگی ہے یا کوئی قیامت ہے دوستو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہےدوستو
نکھرتی صبحوں ڈھلتی شاموں بدلتے موسموں کو میرا سلام کہنا پردیس سے جانے والو میرے وطن کے باسیوں کو میرا سلام کہنا ان کو بتانا…
دل کا چین چراتی ہیں وہ پیاری پیاری آنکھیں شوخی سے مسکراتی ہیں وہ پیاری پیاری آنکھیں خوابوں میں لے جاتی ہیں وہ پیاری پیاری…
محبت کی طبیعت میں طلسماتی کرشمہ ہے مگر یہ دنیا کہتی ہے محبت ایک فتنہ ہے محبت پا کے دیکھا ہے، محبت کھو کے دیکھا…
ثنائے سرورِ عالم کا جام کب دو گے مری زبان کو اذنِ کلام کب دو گے تری عطائیں بہت ہیں مگر مرا تجھ سے وہی…
شگفتہ غزل ہاشمی کا شمار دنیائے شعرو ادب کی خوش نصیب شخصیات میں ہوتا ہے،انکے ہاشمی خاندان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہر سطح پر…
تَو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں میرے ہاتھوں کی لکیروں سے اَلجھ جاتی ہیں
چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی زمین زاد بھی بھُولا جو لفظِ رہداری فصیلِ شہر…
ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺣﺮﻑ ۔۔۔۔۔ ﺳﺮﺩ ﺁﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﺮﮮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎ ﻭﺻﻒ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ…
بڑی ویرانی ہےمیرےدل کہ دیار میں اب کہ برس خزاں چلی آئی ہےبہارمیں ًمیری امیدوں کاچمن ہرابھرا ہو جائے ایک بارتوجوآئے میرےاجڑےگلزارمیں
کوئی تو ہو جو میرادرد بٹانے آئے مجھےدوبول محبت کےسنانےآئے ہمیں توآج بھی اس کا انتظار ہے آخری بار ہی سہی وہ کسی بہانےآئے
اشکوں کےدےگیا ہے نالے مجھے وہ کرگیا ہے غموں کےحوالےمجھے اس کڑے وقت میں وہ میرےپاس نہیں اب ایسےعالم میں کون سنبھالے مجھے
کتنا مُشکل ہے ناں منانا اُس کو جو شخص روٹھا بھی نہ ہو اور بات بھی نہ کرے مہنگی سے مہنگی گھڑی پہن کر دیکھ…
آؤ مُجسف تمھیں اک شہر بتاؤں جہاں انسان کی کوئی قیمت نہیں جہاں انسان مَسل دیے جاتے ہیں پھولوں کی ماند ارمان کی کوئی قیمت…
چہرہ پہ چمک، باتوں میں کھنک ، آنکھوں میں شرارت تھوڑی سی کیا جرم تھا جو دل بھول گیا اپنی بھی شرافت تھوڑی سی آکاش…
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
We use cookies to ensure you get the best experience on our website.
