آنکھوں کے اس ڈاکٹر نے دوران معائینہ باتوں ہی باتوں میں مجھ سے میری عمر پوچھی جو میں نے ترپن سال بتائی معائینہ مکمل کرتے ہی اس نے رشک بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ماشاءاللہ قیصرانی صاحب حیرت ہے کہ اس عمر میں بھی آپ کی نظر 6 بائی 6 ہے …
میں نے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے اس “جعلی ڈاکٹر اور اسکی نقلی مشینوں” پر مسکراتا ہوا رخصت ہو گیا کہ مجھ سے کہیں زیادہ ماہر چشم کی ضرورت تو اس ڈاکٹر کو خود تھی کہ جو ایک ایسے اندھے شخص کو 6/6 نظر والا کہہ رہا تھا جسے اپنے ارد گرد موجود خون کے رشتے تک دکھائی نہیں دیتے …
رمضان شروع ہونے پر جسے اپنے گاؤں کا شبا ، زلفی اور بشکو نظر نہیں آتے ، جسے اپنے گھر کام کرتی نسرین نظر نہیں آتی کہ جس نے ابھی تک رمضان کا راشن نہیں لیا اور جسکی یتیم بیٹی کی عید کے فورا بعد ہونے والی شادی تک وہ نہیں دیکھ سکتا ، اس شخص کی آنکھوں کو یہ اندھا ڈاکٹر ٹھیک کہہ رہا تھا جو اپنے گریبان تک میں نہیں جھانک سکتا جسے راہ تکتے سینکڑوں وہ لوگ نظر نہیں آتے جو ہر سال کی طرح اس سال بھی امید بھری نگاہوں سے صبح شام فون پر نظریں گاڑے اسکی کال کے منتظر ہوں گے کہ راشن کےلیے انہیں اسلام آباد سے کال ضرور آئے گی …
میں اس حکومت کے سخت خلاف تھا مگر ایک ہی دن پہلے اس حکومت کے ایک فیصلے نے میرا دل جیت لیا کہ انہوں نے رمضان اور عید سے ٹھیک تین دن پہلے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آٹھ روپے تک بڑھا دیں تاکہ …
غریب آسانی سے مر سکیں زخیرہ اندوز اور منافع خور مزے کر سکیں اور منہ مانگے دام لے کر ان بلکتے سسکتے قحط زدہ لوگوں کا رہا سہا خون بھی وہ منافع خور آسانی سے چوس سکیں …
بحرحال اس اندھے ڈاکٹر کے پاس اب مزید کوئی بھی نا جائے جو صرف آنکھیں دیکھ سکتا ہے مگر ان آنکھوں میں چھپا کرب نہیں دیکھ سکتا ، سلگتے خواب نہیں دیکھ سکتا اور جو انکھیں تو ضرور دیکھ سکتا ہے مگر “بینائی” نہیں …
افسوس ہے اس ڈاکٹر پر اور افسوس ہے مجھ جیسے چھ بائی چھ آنکھوں والے پر جو سب کچھ دیکھ کر بھی “کچھ نہیں دیکھ سکتے” اور جو بینا ہو کر بھی نابینا اور اندھے ہیں کہ …
یا رب 🙏 _____ محروم تماشا کو پھر دیدہ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
تحریر : احمد افتخار قیصرانی/بشکریہ

