yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    بین الاقوامی خبریں
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    • پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی، دونوں فریقین کی شرائط اور پاکستان کی تجاویز سامنے آ گئیں
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
کالم

کفایت شعاری ,عیدالفطر کا تہوار اور یوم پاکستان کا جشن

MH Kazmi March 17, 2026March 17, 2026 1 min read
Share this:

 

کفایت شعاری ,عیدالفطر کا تہوار اور یوم پاکستان کا جشن

اسلام آباد (اصغر علی مبارک) کفایت شعاری ایک ایسا ہنر ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو پائیدار اور پرسکون زندگی فراہم کرتا ہےاس سال عیدالفطر کا تہوار اور یوم پاکستان کا جشن اس موقع پر آیا ہے جب دنیا میں ایران اسرائیل جنگ کے بعد معاشی بحران عروج پر ہے سادگی اور کفایت شعاری پیغام کے ساتھ وزیراعظم پاکستان نے قوم کو چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فارمولہ بھی بتلا دیاہے جس سے پاکستان میں معاشی بحران پر قا بو پانےکیلئے حکمت عملی طےکرلی ہے
دین اسلام اور مغرب کی تعلیمات میں فرق ہے کہ مغرب کھپت کو بڑھا کر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ اسلام میں منافع کے بجائے وسائل کے درست اور ٹھیک استعمال کی تعلیم ہے۔ اسی لیے مغرب میں اگر فصل اچھی ہوجائے تو وہ اپنے ہی ملک کے بھوکے اور غریبوں کو دینے کے بجائے اس کو ضائع کردیتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں طلب و رسد میں فرق اس قدر برقرار رہے کہ وہ اپنے منافع کو بڑھا سکیں، مگر اسلام میں نہ تو بے تحاشا خرچ اور اسراف کی تربیت دی جاتی ہے اور نہ اس قدر بچت کہ انسان خود ہی محتاج ہوجائے۔کفایت شعاری اور وسائل کے بہترین استعمال کےلیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اور نبی کریم ﷺ کی احادیث ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا (۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا (۲۷)

ترجمہ: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو، اور فضول خرچ نہ کرو، بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل، آیت 27)

اوپر بیان کی گئی آیت سے پتہ چلتا ہے کہ فضول خرچی کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ اس کے علاوہ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ اخراجات میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ نہ تو کنجوسی کرو اور نہ ہی بے پناہ خرچہ، بلکہ دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔

فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مال دار بنا دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کردیتا ہے۔ (مسند البزار، 161/3، حدیث946)ایک اور موقع پر آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے۔نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ وضو میں اسراف سے گریز کرو چاہے بہتی ندی ہی کیوں نہ ہو۔

اسلام ہمیں وسائل کو احتیاط سے کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کی ترغیب دیتا ہے۔ ان دنوں پاکستان میں توانائی کی شدید قلت ہے اور پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ایندھن بیرون ملک سے خرید سکے۔ ایسے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ حکومت نے مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ صورت حال کے باعث پیٹرولیم بحران سے بچنے کے لیے کفایت شعاری اقدامات کی منظوری دی ہے، جن پر عملدرآمد جاری ہے۔واضح رہے کہ خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال اور ملک میں کفایت شعاری پالیسی کے پیش نظر 23 مارچ کو منعقد ہونے والی یومِ پاکستان کی مسلح افواج کی پریڈ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان مشاورت کے بعد یہ اہم فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت نہ صرف پریڈ بلکہ ایوانِ صدر میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سول اور فوجی اعزازات کی تقریب بھی منسوخ کر دی گئی ہےموجودہ حالات کے پیش نظر حکومتی سطح پر سادگی اور کفایت شعاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اسی تناظر میں بتایا گیا ہے کہ یومِ پاکستان کی تقریبات کے لیے نئی تاریخ باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تقریبات اپریل کے آخری ہفتے میں منعقد کی جائیں گی۔حکام کے مطابق حالات معمول پر آنے اور مناسب انتظامات کے بعد نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان کیا جائے گاوزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حکومتی کفایت شعاری مہم کی نگرانی کے لیے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو ذمہ داری سونپ دی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آئی بی وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور خودمختار اداروں میں کفایت شعاری کے اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکریٹریٹ میں بھی اسی مہم کی مانیٹرنگ کا کام آئی بی کو سونپا گیا ہے آئی بی ہر ہفتے وزیراعظم اور متعلقہ کمیٹی کو حکومتی کفایت شعاری مہم پر پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے گی۔وزیرِاعظم نے اس موقع پر قومی سطح پر مہم پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔اس سے قبل عوامی ریلیف کے اقدامات کے جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی استحکام اور عوامی فائدہ حکومت کی اولین ترجیح ہے بروقت حکومتی اقدامات کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور کفایت شعاری کے اقدامات مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس پر مزید کام جاری ہے۔وزیر اعظم نے حالیہ جنگی حالات میں کٹوتی فیصلے سے قبل سادگی اختیار کرنے کا بیان دیا تھا تاکہ غریبوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ وزیر اعظم نے حکومتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں دو ماہ کے لیے بچت کے لیے پٹرول اخراجات میں کٹوتی، گاڑیاں کم کرنے، تنخواہوں میں کچھ کمی جیسے اعلانات کیے تھے جس کے بعد پنجاب اور سندھ حکومت نے بھی کفایت شعاری کے اعلانات کیے مگر پی ٹی آئی کی کے پی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں 65 روپے اضافے کے بعد کے پی کے نوجوانوں کو جو موٹرسائیکلیں استعمال کرتے ہیں 22 سو روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا رپورٹ کے مطابق ایوان صدر اور وزیر اعظم کے سرکاری اخراجات میں 60 فی صد اضافے کا بتایا گیا تھا مگر ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس و پی ایم سیکریٹریٹ، گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کی طرف سے کفایت شعاری مہم کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔

 

سیاسی اہمیت رکھنے والے تمام وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور ان کے وزیروں مشیروں میں کوئی غریب ہے نہ کوئی متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔دوسری طرف اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیئے گئے ہیں، جس کے تحت ارکان قومی اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی اور 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق یہ اقدامات وزیراعظم شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں۔ کفایت شعاری مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے جب کہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ سیکرٹریٹ میں تمام خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے جبکہ صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت دی گئی ہے۔قومی اسمبلی اور کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جب کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا۔

 

کفایت شعاری کو یقینی بنانے کے لیے گھر سے کام کرنے والے 80 فیصد ملازمین کو اضافی الاؤنس بھی نہیں دیے جائیں گے۔قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے، کفایت شعاری پالیسی کے تحت قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کی جائے گی اور غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد بچت کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ روایتی اخراجات میں مزید کمی لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

ادھرپنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی کفایت شعاری مہم کے تحت متعدد اقدامات کا اعلان کیا اور خود اسپیکر نے اپنی تنخواہ سرکاری پٹرول سمیت تمام سرکاری مراعات ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں اور سرکاری الاؤنسز میں آئندہ دو ماہ کے لیے 25 فی صد کمی اور پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی 70 فی صد سرکاری گاڑیاں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اسپیکر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ قابل ستائش ضرور ہے مگر وزیر اعظم، وفاقی وزرا، ملک کے وزرائے اعلیٰ اور ان کے تمام وزیروں کو بھی تنخواہیں اور سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ تمام گورنروں اور سب سے زیادہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات لینے والے ججز کو بھی اس نازک وقت میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا حصہ بننا چاہیے تھا۔ پاکستان میں سرکاری عہدے بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات کے حصول کے لیے سیاسی طور پر لیے جاتے ہیں۔ ملک کی بیورو کریسی تو ہر دور میں شاہی رہی ہے اعلیٰ سرکاری افسران تو بڑی تنخواہوں، سرکاری مراعات اور سہولیات کے حامل رہے ہیں جو بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول، مفت میں ملنے والی گیس و بجلی اور خادمین کی سہولیات رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں کسی سرکاری افسران نے تنخواہ تو کیا سرکاری مراعات ترک کرنے کا بھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔کفایت شعاری کا مطلب ہے وسائل، پیسے اور اشیاء کو ضرورت کے مطابق سمجھداری سے استعمال کرنا، یعنی کنجوسی اور فضول خرچی کے درمیان میانہ روی۔

 

یہ نہ صرف مالی پریشانیوں، قرض اور محتاجی سے بچاتی ہے، بلکہ زندگی میں وقار، سادگی اور سکون پیدا کرتی ہے۔ وسائل کو ضائع کیے بغیر صرف ضرورت کے تحت استعمال کرنا۔یہ عادت انسان کو غیر ضروری اخراجات سے بچا کر معاشی طور پر مستحکم کرتی ہے۔ بجلی، پانی اور دیگر اشیاء کا محتاط استعمال تاکہ مستقبل کے لیے بچت ہو سکےکفایت شعاری اور بچت مہم عارضی اور صرف دو ماہ کے لیے ہے۔ اس مہم میں شامل حکام کو چاہیے کہ وہ کفایت شعاری اور بچت مہم کو مستقل بنائیں کیونکہ جب وہ یہ عارضی قربانی دے سکتے ہیں تو اربوں کھربوں ڈالر مقروض اپنے ملک کے لیے مستقل طور پر بھی کفایت شعاری اور بچت کرسکتے ہیں۔ یہ قربانی سیاسی و سرکاری عہدیداروں کو بھی دینا چاہیے کیونکہ یہ ملک ان کا بھی ہے صرف غریبوں اور متوسط طبقے کا نہیں ہے جو قربانی کے مستقل بکرے بنے ہوئے ہیں۔ غیر ملکی شہریتیں، اپنے گھر، مال، اولاد ملک سے باہر رکھنے اور ریٹائرمنٹ کے بعد خود بھی باہر منتقل ہونے کا منصوبہ رکھنے والوں کو بھی اس ملک کو کچھ ضرور دینا چاہیے کیونکہ اس ملک نے ہی انھیں سب کچھ دے رکھا ہے۔ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور سیاست پر مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی اس عالمی ہلچل سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ایسے ہی نازک حالات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی بلکہ معیشت کے استحکام، توانائی کی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے چودہ نکاتی فیصلوں کا اعلان بھی کیا۔ ان کا یہ خطاب دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ آج کی دنیا میں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران لمحوں میں عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور چند روز پہلے تک تقریباً ساٹھ ڈالر فی بیرل رہنے والا خام تیل اب سو ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن سکتا ہےمعیشت پہلے ہی کئی مشکلات سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی، توانائی کے مسائل اور عالمی مالیاتی دباؤ نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے، اور ایسے میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی جنگی صورتحال ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ حکومت نے فوری طور پر کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ آنے والے ممکنہ معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے فیصلوں میں سب سے نمایاں پہلو حکومتی اخراجات میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات کو محدود کرنا ہے۔ دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں پچاس فیصد کٹوتی اور ساٹھ فیصد گاڑیوں کو بند کرنے کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت خود بھی کفایت شعاری کی مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح کابینہ کے ارکان، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں روکنے اور ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں پچیس فیصد کمی کا اعلان بھی ایک غیر معمولی قدم ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ گریڈ بیس اور اس سے اوپر کے افسران کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے مختص کرنے اور سرکاری محکموں کے دیگر اخراجات میں بیس فیصد کمی جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ نئی گاڑیوں، فرنیچر اور دیگر سامان کی خریداری پر پابندی اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی وسائل کے ضیاع کو روکنا ہے۔ توانائی کی بچت کے لیے کیے گئے فیصلے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سرکاری اور نجی دفاتر میں پچاس فیصد اسٹاف کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دینا، ہفتے میں چار دن دفاتر کھولنا اور ہائی ویز اور موٹر ویز پر رفتار کی حد کم کرنا دراصل ایندھن کی بچت کے عملی اقدامات ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں دو ہفتے کی تعطیلات اور جامعات میں آن لائن کلاسز کا آغاز بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت آنے والے ممکنہ معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی تیاری کر رہی ہے۔

 

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں معاشرے کے صاحبِ حیثیت طبقے کی ذمہ داری کی طرف بھی خاص توجہ دلائی۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب قومیں مشکل وقت سے گزرتی ہیں تو سب سے پہلے آگے بڑھ کر مدد کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں اللہ نے وسائل سے نوازا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے عام لوگ ہمیشہ قربانی دیتے آئے ہیں مگر اب وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پاکستان کو صرف معاشی دباؤ ہی نہیں بلکہ مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی جانب سے دراندازی اور حملوں کے خدشات کے باوجود پاکستانی افواج ملک کے دفاع کے لیے مسلسل سرگرم ہیں جس کے باعث قومی اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان خطے میں امن اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا خواہاں ہے اور ایران سمیت خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔وزیر اعظم کا پیغام یہی تھا کہ مشکل وقت میں صبر، اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری ہی قوموں کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

 

اگر حکومت، کاروباری طبقہ اور عام شہری سب مل کر قربانی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو پاکستان نہ صرف اس بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش کے لمحے ہی قوموں کے عزم کا امتحان ہوتے ہیں اور پاکستان ماضی کی طرح اس بار بھی اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی بحران اکثر اْن قوموں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں جو بروقت حکمت عملی اختیار کر لیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ صرف مشکلات کا نہیں بلکہ خود احتسابی اور اصلاح کا موقع ہے۔ اگر توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیا جائے، مقامی صنعت کو مضبوط بنایا جائے اور غیر ضروری درآمدات پر قابو پایا جائے تو ملک بتدریج بیرونی دباؤ سے نکل سکتا ہے۔

 

اسی طرح ٹیکس نظام کی بہتری، برآمدات میں اضافہ اور حکومتی نظم و ضبط مستقبل میں معیشت کو زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم وقتی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی پر بھی توجہ دیں تاکہ پاکستان نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکے بلکہ آنے والے برسوں میں ایک خود کفیل اور مستحکم معیشت کی جانب بھی بڑھ سکے۔ عالمی منڈی میں تیل 103ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا جبکہ ایل این جی کے نرخ بھی جنوری 2023ء کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کیلئے خاصی مشکلات کا موجب ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالتااور مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ان حالات میںمعاشی منصوبہ بندی کیلئے خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔ایسے حالات جب عوام مہنگائی کے بوجھ سے پس رہے ہوں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کا بوجھ کم کرے اور مشکلات زدہ عوام کیساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر مؤثر قدامات کرے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کے اعلان کو بھی اسی طرح تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

کفایت شعاری کی یہ مہم جس کے تحت وفاقی حکومت نے ایندھن بچانے کیلئے سرکاری دفاتر میں استعمال ہونے والی 60 فیصد ٹرانسپورٹ کو دو ماہ کیلئے بند رکھنے سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا‘ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے شروع کی گئی ‘ تاہم حالات ایسے نہ بھی ہوتے اور ایندھن کی سپلائی اور قیمتیں معمول کے مطابق ہوتیں تب بھی ملک عزیز میں کفایت شعاری مہم کی ضرورت اپنی جگہ موجود تھی۔ایسی مہم پاکستان میں صرف وسائل کی بچت کے نقطہ نظر سے اہم نہیں بلکہ وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور وسائل کی بد نظمی پر قابو پانے کیلئے بھی اہم ہے۔

 

ہمارا سرکاری شعبہ اس بد نظمی کی کلاسیکل مثال بن چکا ہے جہاں وسائل کی فراوانی ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ان وسائل کے اخراجات میں کوئی توازن یا مساوات بھی موجود نہیں ۔ وسائل کا بیشتر حصہ بڑے شہروں کی نذر ہو جاتا ہے اور جو ں جوں مرکز سے دور ہوتے جائیں وسائل کی رسائی کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ قومی سطح پر اعتماد اور یکجہتی کو مضبوط بنایا جائے۔ جب حکومت مشکل فیصلے کرتی ہے تو عوام کا تعاون اور اعتماد اس کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح شفافیت، مؤثر پالیسی سازی اور مسلسل عوامی رابطہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لوگ خود کو اس قومی جدوجہد کا حصہ محسوس کریں۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور تعلیمی ادارے بھی اس شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ موجودہ حالات محض حکومتی چیلنج نہیں بلکہ پوری قوم کا امتحان ہیں۔ اگر ریاست اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد اور ذمہ داری کے رشتے کو مضبوط کریں تو کوئی بھی معاشی یا سیاسی بحران زیادہ دیر تک قوم کو کمزور نہیں کر سکتاوسائل کے اخراجات کو مؤثر اور ثمر آور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ترجیحات کا تعین کیا جائے ‘ اخراجات کیلئے ضرورت و اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے اوردستیاب وسائل کی صلاحیت سے پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ بے جا اخراجات کو مکمل طور پر بند کیا جائے اور مالی وسائل سیاسی اور حکومتی اشرافیہ کی آسائشوں کے بجائے عوامی مقاصد اور مفادات پر خرچ کرنے کی پالیسی بنائی جائے جس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کفایت شعاری کا تصور دیکھنے میں بھلا اور پُر کشش معلوم ہوتا ہے چنانچہ ماضی میں تقریباً ہر حکمران اس کیلئے ارادے باندھتا رہا لیکن کفایت شعاری فی نفسہ ہمارے سسٹم سے دور ہی رہی۔ بلکہ سرکاری شخصیات اور اداروں کا اسراف کفایت شعاری کے تصور کا مذاق اڑاتا رہا۔ موجودہ حکومت ایک بار پھر کفایت شعاری کی داعی بنی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس حوالے سے بڑے دعوے اور اقدامات کیے گئے مگر جن کا حاصلِ جمع کچھ بھی نہ تھا۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تشویشناک حالات کی وجہ سے شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کو ملکی سطح کی بچت مہم کا نقطہ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔

 

حکومت نے توسرکاری ملازمین‘ سرکاری کاروباری اداروں اور سرکاری زیر سرپرستی خود مختار محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا ہوا ہے ‘تاہم بچت کی اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں نکل سکتی ہیں‘ مثال کے طور پر کابینہ اور حکومتی حجم کو مناسب حد تک کم کرنے سے اور دفاتر میں مشینی نظام لاگو کرنے سے‘ افرادی قوت کی باقاعدگی اور وقت اور سرمائے کی بچت سے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں میں 18ویں ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں وفاقی سطح پر ان کے نام بدل دینے اور ادارے برقرار رکھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔

Share this:
Tags:
and Austerity celebration Day Eid-ul-Fitr festival Pakistan

MH Kazmi

25,235 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
Previous Post قصور،رمضان المبارک میں فارم ہاؤس میں مبینہ ریو اور فحش پارٹی پر پولیس کا چھاپہ، بااثر خاندانوں کے بیس سے زائد لڑکیاں لڑکے گرفتار ویڈیو وائرل، پولیس انسپکٹر معطل
Next Post کابل کے قہوہ خانوں میں اب پاکستانیوں کی اپنے افغان دوستوں سے گپ شپ کے مناظر خواب ہوئے, آی ایس ائی کے سابق افسر میجر (ریٹائرڈ)عامر اور راقم الحروف  

Related Posts

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026

ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار

April 25, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 

April 25, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.