سن رائزرز لیڈز نے پاکستان کے اسپنر ابرار احمد کو ہنڈرڈ نیلامی میں تقریباً 2.34 کروڑ روپے میں خریدا
انگلینڈ کے ہنڈرڈ ٹورنامنٹ میں سن رائزرز لیڈز نے پاکستان کے لیگ اسپنر ابرار احمد کو تاریخی خریداری کی ہے۔ یہ ٹیم آئی پی ایل فرنچائز سن رائزرز حیدرآباد کی ملکیت ہے۔ نیلامی میں ابرار احمد کو 1,90,000 پاؤنڈ (تقریباً 2.34 کروڑ روپے) میں خریدا گیا۔
آئی پی ایل میں سن رائزر حیدرآباد کی مالکن اور ہنڈردیڈ لیگ انگلینڈ میں سن رائزرز لیڈز کی مالکن کاویہ مارن نے ابرار احمد کو 7 کروڑ 12 لاکھ پاکستانی روپے میں ہنڈردیڈ لیگ 2026 کیلئے خرید لیا
خریداری کے فوری بعد سن رائزرز لیڈز کا ایکس اکاؤنٹ معطل
ابرار احمد کی خریداری کے بعد سن رائزرز لیڈز کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ ‘قوانین کی خلاف ورزی’ کے باعث معطل کر دیا گیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ٹیم نے کون سے مخصوص قوانین توڑے ہیں۔
آئی پی ایل سے وابستہ ٹیموں اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان تاریخی رکاوٹ
2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی عائد ہے۔ آئی پی ایل سے وابستہ ٹیمیں دنیا بھر میں دیگر ٹی20 لیگز میں بھی تاریخی طور پر پاکستانی کھلاڑیوں سے پرہیز کرتی رہی ہیں۔
نیلامی سے قبل جاری کی گئی تھی واضح ہدایت
ہنڈرڈ نیلامی سے قبل انگلینڈ کرکٹ بورڈ اور فرنچائزز نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی کھلاڑی کو اس کی قومیت کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ سن رائزرز لیڈز ان چار ہنڈرڈ فرنچائزز میں سے ایک ہے جن میں آئی پی ایل سے وابستہ ٹیموں کی جزوی یا مکمل ملکیت ہے۔
ابرار احمد کی خریداری مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
سن رائزرز لیڈز کی جانب سے ابرار احمد کی خریداری ایک اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ:
- دنیا بھر میں دیگر ٹی20 لیگز میں آئی پی ایل سے وابستہ ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں پر غور کر سکتی ہیں
- ہنڈرڈ میں یہ خریداری ایک مثال قائم کر سکتی ہے
- مستقبل میں پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں
یہ واضح رہے کہ 2025 میں ہندوستان نے پاکستان سے وابستہ سوشل میڈیا ہینڈلز پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سن رائزرز لیڈز کے ایکس اکاؤنٹ کی معطلی ہندوستانی حکومت کی ہدایت پر کی گئی ہے۔
بہادر خاتون کاویہ مارن نے بھارتیوں کے سامنےجھکنے سے انکار کردیا
یہ میری ٹیم ہے اور آپ ہوتے کون ہے مجھ سے سوال کرنے والے آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی مالکن کاویہ مارن نے تنقید کرنے والے بھارتیوں کو خاموش کردیا ،انگلینڈکے دی ہنڈریڈ لیگ میں اپنی ٹیم میں ابرار احمد کو شامل کرنے پر بھارت کی کچھ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب کاویہ مارن پر سخت تنقید کی جاری تھی اور مطالبہ کررےتھے کہ پاکستانی کھلاڑی ابرار کو ٹیم سے فوراً باہر کیا جائے جس پر کاویہ مارن نے جواب دیتےہو کہا کہ یہ میری ٹیم ہے ایک ٹیم میں نےآئی پی ایل میں خریدا ہوا سن رائزرز حیدر آباد اور ایک ٹیم میں نے انگلینڈ کی ہنڈریڈ لیگ میں خریدی ہے ہمیشہ کیلئے
پاکستان کی کھلاڑی آئی پی ایل میں بند ہے کیونکہ آئی پی ایل بھارت کی لیگ ہے لیکن ہنڈریڈ لیگ انگلینڈ کی لیگ ہے بھارت کی نہیں اور میں اپنی ٹیم کیلئے جو بھی کھلاڑی خریدوں گی وہ مری مرضی ہے میں نے ابرار احمد کو خریدا کس لیے تھا کہ اب اس کو آپ کے کہنے پر باہر کروں میں نے اربوں روپے لگا کر ٹیمیں خریدی ہے اور یہ فیصلہ میں کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی مرضی اور اپنی ٹیم کی بہتری کیلئے کروں گی فالتو میں تنقید کرنے والوں کو اپنے ذہنوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے
انگور کھٹے ہے
شاہین آفریدی نے ہنڈردیڈ لیگ کیلئے سب سے پہلے رجسٹریشن کرائی تھی لیکن آج جب کھلاڑیوں کو خریدا جارہا تھا اس سے ایک گھنٹہ قبل شاہین کو معلوم ہوا کہ اس کو کوئی فرنچائز خریدنے میں دلچسپی نہیں رہا ہے تو شاہین نے بولی سے ایک گھنٹہ پہلے اعلان کیا کہ وہ ہنڈردیڈلیگ ک حصہ نہیں بنے گا زاتی مصروفیت کی وجہ سے سوال یہ ہے اگر اتنی مصروفیت تھی تو سب سے پہلے رجسٹریشن کیوں کرائی یہ پاکستان کی ٹیم نہیں ہے جس میں تم دونوں اپنے سسرال کی سفارش پر بغیر پرفارمنس کے کھیلوگے جبکہ ہنڈردیڈ لیگ میں شاداب کا نام بولی میں تین بار لیا گیا لیکن کسی فرنچائز نے گھاس نہیں ڈالا


