کوپر کا بی بی سی کو انٹرویو
برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے واضح کیا ہے کہ برطانوی حکومت کا کام دوسرے ممالک سے اتفاق کرنا یا اپنی خارجہ پالیسی ان کے حوالے کرنا نہیں ہے۔ بی بی سی کے سیاسی پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو اپنے قومی مفاد کا فیصلہ کرنے کا حق ہے، لیکن برطانیہ کی حکومت کا فرض برطانوی قومی مفاد کا تعین کرنا ہے۔
ٹرمپ کی برطانیہ پر تنقید
کوپر کے بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ پر تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہیں برطانیہ کے ایئر کرافٹ کیریئرز کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر پر الزام لگایا کہ وہ “جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں”۔ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ خطے میں ایک ایئر کرافٹ کیریئر تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تعلقات میں کشیدگی
واشنگٹن اور لندن کے تعلقات اس وقت کم ترین سطح پر ہیں جب ٹرمپ نے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں میں فوری برطانوی حمایت نہ کرنے پر اسٹارمر کی سخت تنقید کی۔ کوپر نے جواباً کہا کہ برطانیہ “ایک تنازعے میں دفاعی حمایت فراہم کر رہا ہے”۔
ایران میں تازہ حملے
اس دوران ایران کے دارالحکومت تہران کے آس پاس تیل کے مقامات پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔ تہران کے ایک تیل پلانٹ پر حملے کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جبکہ مقامی رہائشیوں کے مکانات پر کالک کی تہہ جم گئی۔
ایرانی صدر کا متناقض موقف
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خطے کے ممالک سے معافی مانگنے کے بعد اب کہا ہے کہ ان کے ملک پر “دباؤ بڑھانے” سے “ہمارا ردعمل مزید طاقتور ہوگا”۔ انہوں نے کہا کہ ایران “کسی بھی قسم کے دباؤ یا جارحیت کے آگے آسانی سے جھکنے والا نہیں ہے”۔ تاہم ان کے معافی کے بیان پر ملک کے اندر سخت گیر حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
خلیجی ممالک پر نئے حملے
اتوار کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی نئی لہر آئی، جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت سبھی متاثر ہوئے۔ بحرین میں ایک اہم آب شیرین کن پلانٹ کو “مواد کا نقصان” پہنچا، جبکہ کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایندھن کے ٹینکوں کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
سیپرس پر ڈرون حملوں کا انکشاف
قبرص کے وزیر خارجہ کانسٹنٹینوس کومبوس نے گارڈین کو بتایا کہ جزیرے پر برطانوی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون لبنان سے لانچ کیے گئے تھے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ “ہمیں لبنانی محاذ کی طرف دیکھنا ہوگا”۔
ٹرمپ کی سخت ترین پوزیشن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے، جس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایران جنگ صرف اس وقت ختم ہوگی جب تہران کے پاس فعال فوج نہ رہے اور اس کی قیادت مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
خلاصہ
- خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی نئی لہر
- ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت ترین موقف
- برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی
- ایرانی صدر کا متناقض بیانات
- خطے میں فضائی رابطے متاثر

