yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرارسپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار
    • جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکشجنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش
    بین الاقوامی خبریں
    • جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکشجنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش
    • اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیااسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرارسپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار
    • ایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرارایم کیو ایم پاکستان کی نئے صوبوں کے قیام کی مہم تیز، سندھ کو سب سے مضبوط کیس قرار
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
کالم

صدر پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا جائے

Yes 1 Webmaster December 6, 2014 1 min read
Syed Anwer Mahmood
Share this:
Syed Anwer Mahmood
Syed Anwer Mahmood

تحریر: سید انور محمود

لاہور میں مال روڈ پر معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے نابینا افراد پر پولیس نے لاٹھی چارج کردیا جس سےمتعدد معذور ا فراد زخمی ہوگئے۔ نابینا افراد پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کیلئے جب مال روڈ پر پہنچے تو کلب چوک پر صدر مملکت ممنون حسین کے گزرنے کیلئے پروٹو کول لگا ہوا تھا جس پر پولیس نے نابینا افراد کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور تشدد کیا۔ پولیس نے بلکل صیح کیا ، پولیس اور خاصکر پنجاب کی پولیس تو حکمرانوں کی سب سے زیادہ خدمت گذار ہے۔ جس صدر مملکت کےلیے پنجاب کی بہادر پولیس نے نہتے نابینا افراد کو تشدد کا نشانا بنایا، چھ ماہ قبل میں نے اُس پر ایک مضمون لکھا تھا ، آپ بھی پڑھ لیں اور مملکت کے اس بوجھ، پنجاب کی پولیس اور خادم اعلی کو یاد کریں۔

صدرپاکستان کا عہدہ ختم کردیا جائے تاریخ 9 تحریر: جون 2014۔۔۔عمران خان اپنی سونامی اور چار حلقوں کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کےساتھ سیاست میں گرمی پیدا کرتے ہوئے اب سیالکوٹ سے گذر چکے ہیں، اُنکے سارئے ہی جلسے کامیاب رہے ہیں مگر ان جلسوں کی کامیابی کا سہرا جہاں عمران خان کی ٹیم کو جاتا ہے وہاں ہی نواز شریف کے وزیروں کو بھی جاتا ہے جو ہر پانچ منٹ کےبعد عمران خان کے جلسے کے خلاف بیان بازی کررہے ہوتے ہیں، علامہ طاہرالقادری اور چوہدری شجات حسین اپنے دس نکاتی چارٹر کے ساتھ عنقریب دوبارہ سرگرم ہونگے۔ عمران خان کی موجودہ سیاست اور وزیراعظم نواز شریف کے دورہ بھارت پر میں لکھ چکا ہوں، آج صدر کے پارلیمینٹ سے خطاب اور کیا ہمارئے معاشی حالات میں ایک صدر کی ضرورت ہے یا نہیں کچھ اس پر بات ہوجائے، باقی الطاف حسین کی گرفتاری اور رہائی اور اگلے سال کے بجٹ پر آئندہ بات ہوگی۔

پاکستان کے بارویں صدر ممنون حسین نے گذشتہ سال ستمبر میں منصبِ صدارت سنبھالا تھا۔ پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدر کا خطاب ایک آئینی ضرورت ہے، یہ آئینی ضرورت سابق ڈکٹیٹر ضیا الحق کے زمانے سے شروع کی گی ہے، 1973ء کے اصل آئین میں یہ موجود نہیں تھی۔ صدر کی تقریر ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، اسے پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب بھی کہا جاتا ہے مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ یہ خطاب صرف قومی اسمبلی کے ارکان کے سامنے کیا گیا، اس میں سینیٹ موجود نہیں تھی۔ صدر کی بلا سے کون آیا یا کون نہیں آیا اس سے صدرکو کیا فرق پڑتا ہے۔ صدر نے ایک آئینی ضرورت پورا کرنی تھی سو وہ پوری ہوگی۔

صدر ممنون حسین سابق صدر جنرل ضیاالحق کی بدت کی پیروی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریبا پنتالیس منٹ وزیراعظم آفس میں تیار کی ہوئی تقریر پڑھتے رہے، انکی پہلی تقریر سے یہ تو بڑا واضع ہوگیا کہ وہ نواز شریف سے وفاداری میں سابق صدر رفیق تارڑ سے دو ہاتھ آگے ہیں۔اپنی پہلی تقریر میں صدر ممنون حسین نے یہ تو تسلیم کیا کہ عوام کو لوڈ شیڈنگ، مہنگائی، بیروزگاری اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے لیکن اسکے ساتھ ہی انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی اور ان اقدامات کا ذکر کیا جو ان مسائل کوحل کرنے کے لئے حکومت کررہی ہے۔صدرنے خود جن مسائل کی نشاندہی کی اُنکے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ پاکستان کے تمام مسائل بس اب حل ہونے والے ہی ہیں۔

ملک میں بجلی کی فروانی ہونے والی ہے، مہنگائی کا جلدخاتمہ ہوجایگا، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مثالی ہوجایگی۔ ملک میں زر مبادلہ کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور پاکستان ایک جدید اسلامی اور فلاحی ریاست بن چکا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک ختم ہونے والی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا میں جلدامن امان ہوجایگا، کراچی میں مکمل امن ہے، بھتہ خوری، دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ کا نام و نشان مٹنے والا ہے ، اور ملک میں امن وامان ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے صدر کے خطاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے سربراہ کی کم اور ایک سیاسی جماعت کے وفادار کی تقریر زیادہ لگ رہی تھی۔

صدر وفاق کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام میں یہ غیر انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ صدر وزیر اعظم کے کہنے پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ البتہ پاکستان کے فوجی حکمران صدر کے عہدے کو اپنے لیے استمال کرتےرہے ہیں اور وزیر اعظم کے انتظامی اختیارات بھی اپنے پاس رکھتے رہے ہیں، چاہے ان کا اپنا مقرر کیا وزیر اعظم موجود ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی سب سے بُری دو مثالیں ضیاالحق کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو اور پرویز مشرف کے دور کے دو وزرائے اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی اورشوکت عزیز ہیں۔ پارلیمانی نظام میں صدرکو وفاق کا نمائندہ کہا جاتا ہے اور صدر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر نامزد ہونے کے بعد اپنی سیاسی جماعت سے مستعفی ہو جائے۔ مثال کے طور پر صدر نامزد ہونے کے بعد فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئےتھے جبکہ آصف علی زرداری پاکستان کےصدر ہوتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کا سربراہ بنے رہے۔

قیام پاکستان سے لے کر اب تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیات میں چارفوجی جنرل ہیں جبکہ آٹھ سول حکمران ہیں، فوجی صدر نے تو خود ہی سارئے اختیارات کا استمال کرنا ہوتا ہے تو اُنکے وقت میں وزیراعظم ایک شوپیس ہوتا ہے، ٹھیک اسطرح ہی جمہوری دور میں وزیراعظم انتظامی سربراہ ہوتا ہے جبکہ صدر غلامی کی نشانی ہوتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فوجی اور سول حکومت میں کسی ایک کے پاس اختیارات ہوتے ہیں جبکہ دوسرا سوائے معاشی بوجھ کے کچھ نہیں ہوتا۔

ہمارئے وزیر خزانہ کے بقول پاکستان کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہی ہے، دو ڈالر یا دو سو روپے یومیہ کمانے والے کو غربت کی لکیر سے نیچے ہی تصور کیا جاتا ہے، ایک طرف تو یہ صورتحال ہے جبکہ دوسری طرف آئندہ سال کے بجٹ میں صدر کے لیے مختص اخراجات 74 کروڑ 32 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 69 کروڑ میں مزید 6 کروڑ روپے کا اضافہ،یعنی اب مہینے بھرکا صدر کا خرچ سوا چھ کروڑروپے ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے صدر ممنون حسین کو کراچی کے حالات کے بارئے میں تو اپنی تقریر میں ایک لفظ کہنے کی توفیق تو نہیں ہوئی مگراخباری اطلاعات کے مطابق اپنے خاندان اور رشتہ داروں کی سیکوریٹی کے نام پر کراچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاوس میں رہائش پذیر ہیں

جسکی وجہ سے اسٹیٹ گیسٹ ہاوس میں ٹھرنے والوں کو بڑئے ہوٹلوں میں ٹھرانے کے اخراجات بھی حکومت کو ادا کرنے پڑتے ہیں۔ صدر مملکت نے گذشتہ سال فریضہ حج بھی ادا کیا، اُنکے ساتھ جانے والے اکتیس رکنی وفد میں صدر مملکت سمیت اُنکے بائیس رشتہ دار اور دوست شامل تھے، اُن سب نے سرکاری خرچ پر حج کی سعادت حاصل کی، یہ حج ہوا یا نہیں اور اس کا ثواب کس کو ملے گا، حج کرنے والوں کو یا پاکستان کے غریب عوام کو، جنہوں نے اخراجات برداشت کئے، جبکہ قوم تو مقروض ہے اور قرض دار پر حج واجب ہی نہیں، وہ بھی ایسے حالات میں جب پاکستان کے پچاس فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہے ہوں اور فاقوں پر مجبور ہوں۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کے بنگلے میں رہنے والے صدر مملکت ممنون حسین کے پاس شاید تین یا چار ملازم ہوں، لیکن ایوان صدر میں وہ 497 ملازمین کا اسٹاف رکھتے ہیں، جن میں 200 ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں، صدر صاحب کے اِن ملازمین کی سال بھر کی تنخواہیں اور الاؤنسز 16کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ایوان صدر کو سرسبز وشاداب رکھنے کے لیے 85 مالیوں کی خدمات لی جاتی ہیں جن کی تنخواہیں 3 کروڑ 13 لاکھ ہیں۔ صدر مملکت کے غیر ملکی دوروں کے لیے54لاکھ 50ہزار روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پہلے ہی سے شاہانہ فرنشڈ ایوان صدر کی آرائش و زیبائش کے لیے بھی 19 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ ملک میں اس وقت سب سے بڑا مسلہ دہشت گردی ہے لہذا صدر کی مومنٹ پر سیکوریٹی کا انتظام لازمی ہے جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور عوام پریشان ہوتے ہیں۔

آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صدرِ کا عہدہ محض رسمی رہ گیا ہے کیونکہ ماضی کے برعکس اب بیشتر صدارتی اختیارات وزیرِ اعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ صدر کا انتخاب کسی طرح بھی عوام سے تعلق نہیں رکھتا، صدر کا انتخاب پارلیمینٹ کے زریعے ہوتا ہے اور صدر وہی بنتا جس پارٹی کی پارلیمینٹ میں اکثریت ہوتی ہے بظاہر اسوقت آئینی طور پر صدر پر کسی بھی قسم کی سیاسی ذمیداری نہیں ہیں، صدر آرڈینس پر دستخط کرتا ہے، قومی اسمبلی یا سینٹ کے اجلاس طلب کرتا ہے، جب کبھی صدر ملک سے باہر جاتے ہیں تو سینٹ کے چیرمین قائم مقام صدر کی ذمیداری پوری کرتے ہیں۔ موجودہ دور حکومت ایک پارلیمانی جمہوری حکومت ہے لہذا تمام اختیارات وزیراعظم نواز شریف کے پاس ہیں

صدر کو کسی بھی قسم کا انتظامی اختیار نہیں ہیں توپھر اس نمایشی عہدئے کو ختم کردینا چاہیے، جہاں آئین میں اتنی ترمیم ہوچکی ہیں وہاں ایک ترمیم اور سہی جسکے زریعےصدر کی موجودہ ذمیداریاں سینٹ کے چیرمین کو سونپ دی جایں، اس سے نہ تو ہماری خارجہ پالیسی پر کوئی اثر پڑئے گا اور نہ ہی داخلی سلامتی پر البتہ صدر کے انتخابات سے لیکر اگلے پانچ سال تک صدر پر ہونے والے اربوں روپے کی بچت ضرور ہوگی، لہذا بہتر ہوگا کہ صدر پاکستان کا عہدہ ختم کردیا جائے۔

Share this:

Yes 1 Webmaster

8,866 Articles
View All Posts
Aqeel Ahmed Khan Lodhi
Previous Post واپڈا کی ترقی ملک کی ترقی
Next Post غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
Akhtar Sardar Chaudhry

Related Posts

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ: طلاق کے حق کے استعمال پر بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار

August 16, 2026
جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

جنوبی کوریا کی جانب سے کوریا جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے شمالی کوریا کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش

August 16, 2026
اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

اسلام ماخچیف کی شاندار گراپلنگ نے ایان گیری کو ہرا کر یو ایف سی میں مسلسل 17 فتوحات کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

August 16, 2026
پاکستان ویمنز کرکٹ اسکواڈز کا اعلان: ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے فاطمہ ثناء قیادت کریں گی

پاکستان ویمنز کرکٹ اسکواڈز کا اعلان: ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے فاطمہ ثناء قیادت کریں گی

August 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.