پاکستان کی بہترین متوازن سفارت کاری کی دنیامعترف
اسلام آباد (اصغر علی مبارک)پاکستان کی بہترین متوازن اور کامیاب سفارت کاری کی دنیامعترف ہے. جوخطے میں پاکستان کی نمایاں حیثیت کا عکاس ہے, مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابل عمل راستہ ہے دنیا واقعی اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک متوازن، غیر جانبدار سفارت کاری کا ماڈل اپنایا ہے یعنی بیک وقت امریکہ، چین، سعودی عرب، ایران اور دیگر طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنا، بجائے کسی ایک بلاک میں بندھ جانے کےہے پاکستان متوازن خارجہ پالیسی اورکامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے ،
امریکی جریدےفارن پالیسی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو “علاقائی سفارتی فاتح” قرار دیا ہےاور لکھا ہےکہ پاکستان نے امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور ایران کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھ کر خطے کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کھلے الفاظ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیاہے اور کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا؛ تجزیہ کاروں نے اسے پاکستان کی “شاندار سفارتی کامیابی” قرار دیاہے۔ دی ڈپلومیٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹوں میں واضح لکھا ہے کہ پاکستان “بلاک پالیٹکس کے بجائے اسٹیٹ کرافٹ” کو ترجیح دیتا ہے اور امریکہ و چین دونوں سے بیک وقت تعمیری تعلق رکھتا ہے۔
ووئی نیوز نے بھی اسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کہا کہ پاکستان کی “متوازن اور مستقل” خارجہ پالیسی کو عالمی سطح پر کریڈٹ مل رہا ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں ممکنہ خلل نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ڈی ڈالرائزیشن کا رجحان ، ایران، چین ،روس متبادل مالیاتی نظام کی جانب گامزن ، علاقائی اقتصادی بلاکس مضبوط ہوگا پاکستان نےمشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود ایک انتہائی اہم اور مثبت تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی خطے میں برادر ممالک کے درمیان امن کیلئے کی جانےوالی کاوشیں قابل ستائش ہیں جو جنگ کو محدود کرنے میں انتہائی اہم ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کابھرپور ساتھ دینے پرپاکستانی حکومت اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ پاکستان نے مشکل وقت میں ایرانی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کاعملی مظاہرہ کیا، پاکستانی حکومت اور عوام کے اس تعاون اور حمایت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، صیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستانی حکومت اور عوام نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستان نے بیک وقت عرب ممالک اور ایران کے ساتھ متوازن بات چیت قائم کرکے بہترین سفارت کاری کا عملی مظاہرہ کیا ،ایرانی وزیر خارجہ کا بیان پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور خطے میں نمایاں حیثیت کا عکاس ہے۔ پاسداران انقلاب نے ایران کی بسیح فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کر دی۔جاری بیان میں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی شہادت کے بعد وہ خون کا بدلہ لینے کے جذبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، دہشت گرد قاتلوں کو خبردار کرتے ہیں کہ شہید رہنما، کمانڈروں اور دیگر شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔پاسدارانِ انقلاب نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ان شہادتوں سے ایرانی قوم اور بسیج کے تمام اہلکاروں کے حوصلے مزید بلند ہوں گے اور وہ مزاحمت
کے راستے پر پہلے سے زیادہ مضبوطی سے قائم رہیں گے۔خیال رہے کہ اسرائیل نے ایک حملے میں ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا، ایران کی طرف سے علی لاریجانی کی شہادت کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس حوالے سے عرب ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انفرادی طور پر رہنماؤں کی شہادت سے نظام کو ہلایا نہیں جاسکتا، یہ ایک ایسا نظام ہے جو اداروں پر قائم ہے، سب سے اہم شخص سپریم لیڈر ہیں، ہمارے سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود بھی نظام کو فرق نہیں پڑا۔نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ایرانی سفیر رضا امیری نے ملاقات کی ہے ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے سفیر نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ سے ملاقات کی ، انہوں نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کی جانب سے بھرپور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ اسحاق ڈار نے تنازع میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار اور امید ظاہر کی یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا ۔ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابل عمل راستہ ہے ۔دریں اثنا اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ جیحون بایراموف نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ اور ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اورباہمی دلچسپی کے دوطرفہ امور پر گفتگو کی۔ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بھیانک اثرات عالمی معیشت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ دو ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل 103ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا جبکہ ایل این جی کے نرخ بھی جنوری 2023ء کے بعد بلند ترین سطح پر ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کیلئے خاصی مشکلات کا موجب ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالتااور مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ان حالات میںمعاشی منصوبہ بندی کیلئے خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔ایسے حالات جب عوام مہنگائی کے بوجھ سے پس رہے ہوں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کا بوجھ کم کرے اور مشکلات زدہ عوام کیساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر مؤثر قدامات کرے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات کے اعلان کو بھی اسی طرح تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کفایت شعاری کی یہ مہم جس کے تحت وفاقی حکومت نے ایندھن بچانے کیلئے سرکاری دفاتر میں استعمال ہونے والی 60 فیصد ٹرانسپورٹ کو دو ماہ کیلئے بند رکھنے سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا‘ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے شروع کی گئی ‘ تاہم حالات ایسے نہ بھی ہوتے اور ایندھن کی سپلائی اور قیمتیں معمول کے مطابق ہوتیں تب بھی ملک عزیز میں کفایت شعاری مہم کی ضرورت اپنی جگہ موجود تھی۔ایسی مہم پاکستان میں صرف وسائل کی بچت کے نقطہ نظر سے اہم نہیں بلکہ وسائل کے ضیاع کی روک تھام اور وسائل کی بد نظمی پر قابو پانے کیلئے بھی اہم ہے۔ ہمارا سرکاری شعبہ اس بد نظمی کی کلاسیکل مثال بن چکا ہے جہاں وسائل کی فراوانی ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔
ان وسائل کے اخراجات میں کوئی توازن یا مساوات بھی موجود نہیں ۔ وسائل کا بیشتر حصہ بڑے شہروں کی نذر ہو جاتا ہے اور جو ں جوں مرکز سے دور ہوتے جائیں وسائل کی رسائی کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔وسائل کے اخراجات کو مؤثر اور ثمر آور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ترجیحات کا تعین کیا جائے ‘ اخراجات کیلئے ضرورت و اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے اوردستیاب وسائل کی صلاحیت سے پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ بے جا اخراجات کو مکمل طور پر بند کیا جائے اور مالی وسائل سیاسی اور حکومتی اشرافیہ کی آسائشوں کے بجائے عوامی مقاصد اور مفادات پر خرچ کرنے کی پالیسی بنائی جائے جس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کفایت شعاری کا تصور دیکھنے میں بھلا اور پُر کشش معلوم ہوتا ہے چنانچہ ماضی میں تقریباً ہر حکمران اس کیلئے ارادے باندھتا رہا لیکن کفایت شعاری فی نفسہ ہمارے سسٹم سے دور ہی رہی۔
بلکہ سرکاری شخصیات اور اداروں کا اسراف کفایت شعاری کے تصور کا مذاق اڑاتا رہا۔ موجودہ حکومت ایک بار پھر کفایت شعاری کی داعی بنی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس حوالے سے بڑے دعوے اور اقدامات کیے گئے مگر جن کا حاصلِ جمع کچھ بھی نہ تھا۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تشویشناک حالات کی وجہ سے شروع کی گئی کفایت شعاری مہم کو ملکی سطح کی بچت مہم کا نقطہ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔حکومت نے توسرکاری ملازمین‘ سرکاری کاروباری اداروں اور سرکاری زیر سرپرستی خود مختار محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا ہوا ہے ‘تاہم بچت کی اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں نکل سکتی ہیں‘ مثال کے طور پر کابینہ اور حکومتی حجم کو مناسب حد تک کم کرنے سے اور دفاتر میں مشینی نظام لاگو کرنے سے‘ افرادی قوت کی باقاعدگی اور وقت اور سرمائے کی بچت سے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں میں 18ویں ترمیم کے بعد جو محکمے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں وفاقی سطح پر ان کے نام بدل دینے اور ادارے برقرار رکھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔خلیج فارس کے علاقے میں جنگی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے خدشات شدت اختیار کر رہے ہیں, ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد خلیجی ممالک میں توانائی کے وسائل کو ہدف بنائے جانے کے واقعات کے نتیجے میں‘ نیز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کو توانائی کے وسائل کی قلت سامنا ہے۔ حالیہ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں خام تیل کے صرف 11 دن‘ ڈیزل کے 21 دن‘ پٹرول کے 27 دن اور ایل پی جی کے صرف نو دن کے ذخائر باقی رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی خصوصاً خلیجی پانیوں میں غیر یقینی حالات پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے‘ ایران پر امریکی حملے کے بعد سے حساس صورت اختیار کر چکی ہے۔اگرچہ اطلاعات یہ ہیں کہ ایرانی افواج کی جانب سے جن ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے پاکستان ان میں سے ایک ہے اور حالیہ دنوں پاکستان کا ایک آئل ٹینکر بحفاظت اس راستے سے گزر کر آیا ہے لیکن کشیدگی کے اس ماحول میں تجارت اور ترسیلات میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ چنانچہ جنگ طول پکڑتی اور خلیج فارس میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو توانائی کی ترسیل میں مشکلات اور قیمتوں میں انتہائی اضافہ خارج از امکان نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہو گی۔ ملک میں تیل کے مہینے سے بھی کم ذخائر واضح کرتے ہیں کہ اس حوالے سے منصوبہ بندی اور پیشگی حکمت عملی میں بڑی خامیاں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ممالک توانائی کے محفوظ ذخائر کا اہتمام کرتے ہیں اور ہمہ وقت ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رہتے ہیں مگر ہمارے حالات یہ ہیں کہ چند ہفتوں کا پیشگی بندوبست بھی نہیں ہوتا نتیجتاً ہم ہمہ وقت عالمی منڈی کی اونچ نیچ کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اور طویل مدتی دونوں نوعیت کے اقدامات کرے۔
آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو پاکستان کو دیگر بندرگاہوں اور راستوں کے ذریعے توانائی کی ترسیل کے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا۔ توانائی کا بحران صنعتی پیداوار کو متاثر کرتا ہے اور عام شہری کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتا ہے جبکہ ایل پی جی کی قلت گھریلو صارفین کیلئے مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران معاشی بدحالی اور صنعتی جمود کے ساتھ ساتھ سماجی بے چینی کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کو محض وقتی بحران کے طور پر نہ لے بلکہ اسے ایک موقع سمجھتے ہوئے توانائی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کے سوا اب کوئی چارہ نہیں؛ چنانچہ ملک میں پٹرولیم کے محفوظ ذخائر کو بڑھانے کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ماضی میں اس حوالے سے متعدد مرتبہ غور وفکر اور منصوبہ بندی کی گئی۔ وقت آ گیا ہے کہ ملک میں پٹرولیم کے محفوظ ذخائر بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔یہ فیصلہ کن اقدامات اب نہ کیے گئے تو کل کلاں ایسا ہی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے‘ جس کے اثرات سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔ حکومت کو توانائی کے وسائل کیلئے خلیجی ممالک سے باہر بھی دیکھنا ہو گا۔
مثال کے طور پر روس اس سلسلے میں ایک اچھا شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔ 2023ء میں تجرباتی بنیاد پر روس سے خام تیل درآمد کیا گیا مگر یہ سلسلہ جاری نہ رکھا گیا۔ تاہم گزشتہ روز اسلام آباد میں روسی سفیر کا یہ بیان کہ پاکستان باضابطہ رابطہ کرے تو سستا تیل فراہم کیا جا سکتا ہے‘ ایک اچھی پیشکش معلوم ہوتی ہے جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے جائزہ لیا جانا چاہیے۔امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے بعد سے ایران نے خطے کے کئی ممالک پر ’جوابی حملے‘ کیے ہیں مگر اس دوران اس نے اپنے پڑوسی ملک پاکستان کا ’یکجہتی اور حمایت‘ پر شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل سے مل کر ایران پر 28 فروری کو حملوں کا آغاز کیا۔ جب حملے شروع ہوئے تو ایران نے جہاں ایک طرف اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے وہیں اس نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو بھی نشانہ بنایا۔ خلیجی ممالک نے ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کو اپنی سلامتی کے خلاف قرار دیا اور ان کی مذمت کی۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے خلیجی ممالک میں ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے اس دوران سعودی عرب کے متعدد دورے کیے۔ پاکستان کا براہ راست تو ایران سے کوئی رابطہ نہیں ہوا مگر اس کے باوجود منگل کو ایران نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا سامنا کرنے والے ایران اور اس کے عوام کے ساتھ پاکستان کی دکھائی گئی ’بھرپور یکجہتی اور حمایت‘ پر حکومت پاکستان اور اس کی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عباس عراقچی کے ایکس اکاؤنٹ سے اردو زبان میں جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ان بابرکت، الٰہی اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں، میں حکومت اور عوامِ پاکستان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے امریکہ اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں ثابت قدم اور پرعزم ہے، اور ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایسا کیا کیا ہے جو تہران اس کا شکریہ ادا کر رہا ہے؟ایک وجہ تو شاید خود پاکستانی حکام کے بیانات سے بھی عیاں ہو سکتی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ لڑائی کا سلسلہ ختم ہو سکے۔ انھوں نے ایران کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حق کی بھی حمایت کی۔ لیکن کیا واقعی پاکستان نے کچھ ایسا ہٹ کر کیا کہ جو تہران کو اچھا لگا۔ ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ پاکستان کی متوازن سفارت کاری ہے کہ وہ مسلم بھائیوں کو قریب لائے تاکہ ان کے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔پاکستانی قیادت نے جو حالیہ ملاقاتیں کی ہیں اور جس طرح اس معاملے میں کردار ادا کیا ہے لگتا ہے کہ اس سے ایران خوش ہے اور ایران سے متعلق خلیجی ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی قیادت کو پیغام ٹھیک ٹھیک انداز میں بھیجا ہے۔ پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تین سے چار دہائیوں پرانے اور انتہائی پیچیدہ تنازع میں ’محتاط پالیسی‘ اختیار کی۔
ان کی رائے میں یہ ’توازن برقرار رکھنا بہت مشکل ہے مگر پاکستان نے ایسا کیا۔‘‘اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر قندیل عباس کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے بعد اسلام آباد کی زیادہ ذمہ داریاں یا مجبوریاں بھی ہیں مگر بظاہر پاکستان نے اپنی دیرینہ پالیسی کو ہی مقدم رکھا کہ جب دو اسلامی ممالک میں لڑائی ہو تو پھر اس جنگ یا تنازع کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے۔ ایران نے سعودی عرب، آذربائیجان اور ترکی پر ہونے والے حملوں کو تسلیم نہیں کیا اور انھیں امریکہ کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ ان کی رائے میں پاکستان نے یہ بات سعودی عرب سمیت عرب ممالک کو باور کرائی ہوگی کہ یہ جنگ ان کے خلاف نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی کوشش تھی کہ خلیجی ممالک براہ راست اس جنگ میں شراکت دار بن جائیں۔امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ممالک نے انھیں ’شدید مایوس‘ کیا ہے کیونکہ انھوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون نہیں کیا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر نیٹو ممالک کا ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹامر سے بات کی تھی، جو پہلے ہچکچائے لیکن بعد میں کچھ مدد کی پیشکش کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے آپ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کی ضرورت نہیں، جب ہم پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔‘ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک امریکہ کے منصوبے میں مدد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انھوں نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی لیکن کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان اور چین جیسے ممالک کو بھی امریکہ کی مدد کرنی چاہیے۔ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’اپنے سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر موجود ہر ملک پر میزائل داغ رہا ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ایران ہزاروں میزائل ان ممالک پر داغ رہا ہے جو اس جنگ میں شامل ہونے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ایران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے بھی ایران کا شکریہ ادا کیا ہے ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تہران نے ’مشکل حالات کے دوران پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت، اور ایران کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مکمل سہولت فراہم کی۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحدیں بہترین طور پر کام کر رہی ہیں اور مختلف سرحدی مقامات پر گرین چینلز فعال ہیں، جو دونوں جانب اشیا کی تیز رفتار نقل و حرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان بھی تہران کو بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے تاکہ ہماری تجارت جاری حالات سے متاثر نہ ہو۔ رش اور بھیڑ کے مسائل بھی باہمی کوششوں سے حل کیے جا رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانہ پاکستان اور ایران دونوں میں سرکاری اور نجی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تجارت کی فوری سہولت یقینی بنائی جا سکے۔‘ ایران کی طرف سے تعریف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے عوام کی بھی کھل کر ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں اور میڈیا میں بھی ایران کے نقطہ نظر کو بھرپور کوریج مل رہی ہے، جس وجہ سے تہران یہ سب دیکھ کر پاکستان سے خوش ہے۔ پاکستان کے ایک تیل بردار جہاز کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جو اب اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔
ایران دوست ممالک یا وہ ممالک جو ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کے محفوظ گزرگاہ کے لیے ضروری اقدامات پر غور کر رہا ہے‘ پاکستان سب سے زیادہ دوستانہ ممالک میں سے ایک ہے پاکستانی جھنڈے والا جہاز آبنائے ہرمز سے قدرے طویل راستہ لے کر گزرا ہے۔ نسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کی عوامی سروے میں پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ، وزیر اعظم شہباز شریف و فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا دورہ امریکا اور پاک افغان کیشدگی کے موضوعات شامل ہیں۔ رپورٹ میں عوام نے عالمی افق پر مضبوط ہوتے اور ابھرتے ہوئے پاکستان پر مؤثر سفارت کاری پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ 80 فیصد عوام کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے نے ملک کے عالمی تشخص میں اضافہ کیا ہے، 79 فیصد پاکستانیوں نے معاہدے کی حمایت کی جبکہ 73 فیصد کے مطابق معاہدے سے حکومت اور افواج پاکستان پر اعتماد بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ پاک افغان کشیدگی میں 71 فیصد پاکستانیوں نے افغان طالبان کو کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا، 75 فیصد شہریوں نے کشیدگی میں پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ عوام کی رائے ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورہ امریکا سے پاکستان کے عالمی تشخص اور وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے رپورٹ پاکستان کی بہترین سفارت کاری اور عالمی امیج میں اضافے کی عکاس ہے۔



