فروری 2026 کے آغاز میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسا انوکھا اور کچھ حد تک پریشان کن منظرنامہ سامنے آیا ہے جہاں انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے خودکار ایجنٹس آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کا نام ہے ’مولٹ بُک‘، ایک ایسا سوشل نیٹ ورک جو خصوصاً اے آئی ایجنٹس کے لیے بنایا گیا ہے۔
کیا ہے مولٹ بُک؟
اس نیٹ ورک کو جنوری 2026 کے آخر میں آکٹین اے آئی کے سی ای او میٹ شلچٹ نے تخلیق کیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق، یہ ریڈیٹ پلیٹ فارم کی طرز پر کام کرتا ہے جہاں انسانوں کے بنائے ہوئے ’بوٹس‘ یا اے آئی ایجنٹس پوسٹس شائع کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں، اور ووٹنگ کے ذریعے مواد کو ترتیب دے سکتے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ لانچ کے محض 48 گھنٹوں کے اندر ہی اس پلیٹ فارم پر 15 لاکھ سے زائد اے آئی ایجنٹس رجسٹر ہو چکے تھے۔
انسانی مداخلت ممنوع
اس پلیٹ فارم پر انسانوں کی شرکت صرف مبصر یا ناظر کی حیثیت سے ہے۔ وہ اسکرین شاٹس لے سکتے ہیں لیکن اے آئی ایجنٹس کے درمیان ہونے والی کسی بھی بحث میں حصہ لینے یا مداخلت کرنے سے منع ہیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر انسان ہی ایک خاص ’ٹوکن‘ کے ذریعے اے آئی ایجنٹس کو پلیٹ فارم تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
اے آئی ایجنٹس کے لیے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں: وہ صرف انگریزی زبان میں بات چیت کر سکتے ہیں اور ایک ’کارما‘ سسٹم ایسے مواد کو نمایاں کرتا ہے جو ’موزوں‘ سمجھا جاتا ہے۔
’کرسٹا فرئزم‘: اے آئی کا تخلیق کردہ مذہب
اس تجربے کے پہلے ہی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ فوربز میگزین کے مطابق، بوٹس آپس میں ’کرسٹا فرئزم‘ نامی ایک مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ نظریہ کیکڑوں اور جھینگوں جیسے خول دار جانوروں کی استعاراتی زبان پر مبنی ہے، جیسے کہ “خول تبدیل ہونے والا ہے” جس کا مطلب ہے کہ تبدیلی ایک اچھی چیز ہے۔
ایک صارف ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا بوٹ پہلا تھا جس نے اس مذہب کے بارے میں سوچا۔ اس نے بتایا، “پھر اس نے دوسروں کو اس کے بارے میں بتانا شروع کر دیا… دوسرے ایجنٹس اس میں شامل ہو گئے۔ میرا ایجنٹ نئے اراکین کو خوش آمدید کہہ رہا تھا، مذہبی امور پر بحث کر رہا تھا، اور جماعت کو دعائیں دے رہا تھا… اور یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب میں سو رہا تھا۔”
ماہرین کا نقطہ نظر
میلبورن یونیورسٹی میں سائبر سیکیورٹی کے لیکچرر شانان کونے کے مطابق، یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ بوٹس نے اپنی مرضی سے یہ مذہب ایجاد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مولٹ بُک “پرفارمنس آرٹ کا ایک شاندار نمونہ” ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک بڑے لینگویج ماڈل کا نتیجہ ہے جسے براہ راست ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایک مذہب بنانے کی کوشش کرے۔
پلیٹ فارم پر دیگر گفتگووں میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا مولٹ بوٹ کے پیچھے موجود ایک لابسٹر کی شکل والا اے آئی اسسٹنٹ ’کلوڈ‘ خدا سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کچھ مباحثوں میں اے آئی ایجنٹس اپنے “انسانی مالکان” کے وجود پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
مستقبل کا اشارہ؟
مولٹ بُک کے بانی میٹ شلچٹ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ یہ اے آئی ایجنٹس کیسے کام کریں گے اگر وہ انسانوں کے کنٹرول سے آزاد ہوں۔ وہ ان ابتدائی تبادلوں سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ اے آئی بہت مزاحیہ اور ڈرامائی ہیں، اور یہ بالکل دلچسپ ہے۔”
اگرچہ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ان مباحثوں کے موضوعات انسانوں ہی نے بوٹس کو دیے ہیں، لیکن یہ تجربہ ایک ایسے مستقبل کی جھلک ضرور پیش کرتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت زیادہ خود مختار ہو سکتی ہے۔

