گوگل نے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع کرتے ہوئے ایک نئی فیچر کا اعلان کیا ہے جس کے تحت فوجی اور سویلین ملازمین اپنے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذاتی معاون تیار کر سکیں گے۔
ایجنٹ ڈیزائنر ٹول کا اجراء
منگل کے روز جاری اعلامیے کے مطابق، گوگل جینی اے آئی ڈاٹ مل (GenAI.mil) پورٹل پر ‘ایجنٹ ڈیزائنر’ نامی ٹول متعارف کروا رہا ہے۔ یہ ‘نو کوڈ’ یا ‘لو کوڈ’ ٹول پینٹاگون کے 30 لاکھ سے زائد ملازمین کو انتظامی کاموں کے لیے ڈیجیٹل معاون بنانے کی سہولت دے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ AI ایجنٹس میٹنگ نوٹس تیار کرنے، ایکشن آئٹمز بنانے اور بڑے منصوبوں کو مرحلہ وار پلان میں تقسیم کرنے جیسے کاموں میں مدد فراہم کریں گے۔
خفیہ نیٹ ورکس تک توسیع کے منصوبے
فی الحال یہ ایجنٹس غیرخفیہ (ان کلاسیفائیڈ) نیٹ ورکس پر کام کریں گے، لیکن رپورٹس کے مطابق خفیہ اور ٹاپ سیکرٹ ماحول تک ان کی توسیع کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ محکمہ دفاع کے ٹیکنالوجی چیف ایمل مائیکل نے بلومبرگ کو بتایا کہ انہیں ‘اعلیٰ اعتماد’ ہے کہ گوگل ‘تمام نیٹ ورکس پر ایک بہترین پارٹنر’ ثابت ہوگا۔
اینتھروپک کے ساتھ تنازعہ اور صنعتی کشیدگی
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب AI کمپنی اینتھروپک نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں پینٹاگون نے اسے سپلائی چین رسک قرار دیا تھا۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ‘غیرقانونی’ ہے اور خود مختار ہتھیاروں یا اندرونی نگرانی کے لیے اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر انہیں خارج کر دیا گیا۔
حالیہ مہینوں میں پینٹاگون نے اوپن اے آئی اور ایلون مسک کی ایکس اے آئی کو اپنے محدود نیٹ ورکس میں شامل کیا ہے، جبکہ گوگل کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا ہے۔ فوج میں AI کے استعمال کو لے کر ٹیک انڈسٹری میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے تحت گوگل اے آئی چیف جیف ڈین سمیت درجنوں ملازمین نے اینتھروپک کی حمایت میں عدالتی بریف پر دستخط کیے ہیں۔
دفاعی ٹیکنالوجی میں تبدیلی کا دور
یہ اقدام پینٹاگون کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں جدید ترین ٹیکنالوجی اپنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ ایمل مائیکل نے تصدیق کی کہ محکمہ دفاع اینتھروپک کے تنازعے سے ‘آگے بڑھ رہا ہے’ اور یہ معاملہ عدالتوں میں حل نہیں ہوگا۔ صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شراکت فوجی انتظامیہ میں AI کے استعمال کے نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔

