yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • شاعری
    • شاعر
      • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    • Animals
    • Child
    • Fail - Shock
    • Fun & Performance
    • Music & Movies
    • News Events & Travel
    • Religious
    • Sports
    • Technology
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    • اچھی بات
    • صحت و تندرستی
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    بین الاقوامی خبریں
    • ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار
    • پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی، دونوں فریقین کی شرائط اور پاکستان کی تجاویز سامنے آ گئیں
    شوبز
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    • بڑی عمر کی خواتین پسند ہیں،کہتا ہوں اپنی ماوں کو مجھ سے بچاو،بشری انصاری کے شوہر کےاس مزاح والے بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ 
    مقامی خبریں
    • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 
    • عالمی بحران,وزیراعظم شہباز شریف کااعلان ,عوامی امنگوں کا ترجمان ….؟
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
    • شیہان راجہ خالد محمود جنجوعہ امریکہ میں چوتھی بار ہال آف فیم ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی مارشل آرٹسٹ بن گئے
  • تارکین وطن
  • شاعری
    شاعر
    • کس کو ہے میں نے کھویا مجھ کو کیا ملا
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    • عاکف غنی
  • ویڈیوز - Videos
    Animals
    • Chairman Mao Zedong meets U.S. President Richard Nixonچیئرمین ماو زڈونگ نے امریکی صدر رچرڈ نکسن سے ملاقات کی
    • Grizzly Bearدیو قامت ریچھ اپنے بچوں کے ساتھ ، دلچسپ ویڈیو دیکھیں
    Child
    • My, 18 ,month, old, grandson, showing, off, his ,tricksاٹھارہ ماہ کا پوتا اپنے دادا کو اپنی چالیں دکھاتے ہوئے۔۔ حیران کن ویڈیو دیکھیں
    • بچے اور چڑیا جانور
    Fail - Shock
    • White, Trash, Prank Now, this, is, what, a, true, joke/prank, should, be!, Something, innocent, they, everyone, laughs, at, the, end!, Not, this, crap, where, people, are, throwing, spiders, on, people, or, putting, oil, on, the, floor, and, making, them, fall, and, get, hurt, or, sticking, your, butt, in, sleeping, people’s, faces., This, was, awesome, thanks, for, a, laugh!وائٹ ردی کی ٹوکری پرسکون ویڈیو دیکھیں یہاں کلک کریں
    • This, isn't, going, to, go, well. CLICK, HERE, TO, WATCH, VIDEO The, last, time, he, tried, to, do, it, and, flipped, so, many, times, at, the, end,, it, made, me, laugh, more, thanناممکن چیز کرنے کی کوشش کریں جب آپ اس کے اہل ہوں ورنہ ایسا بھی ہوسکتا ہے!
    Fun & Performance
    • ایک بچہ اپنے والد کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ باپ کے پسینے کا حق ادا نہیں ہوسکتا یہ سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگ جاتی ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    Music & Movies
    • پاکستان اوربھارتی پنجاب کے فنکاروں سے سجی چل میرا پت کی کینیڈا میں سکریننگ، بہترین مناظر
    • best, tick tock, video, till, yet, for, Pak, Army, and, ISIپاک فوج پربنائی جانیوالی اب تک کی سب سے بہترین ٹک ٹاک، دلکش نغمے کے ساتھ
    News Events & Travel
    • خامنہ ای کی واپسی؛امریکی حملے اور اس کے بعد کے واقعات پر مبنی ایرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا ہے
    • میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی،شادی نہ کرنے کے علاوہ سب سے بڑا پچھتاوا، شیخ رشید کا حیرت انگیز انکشاف
    Religious
    • Map, of, the, world, reshaping, DG, ISPR, Asif Ghafoor, condemned, effort, to, burn, Quran, in,Norway, and, support, the, young, man, who, tried, to,stop, the, bad, effortدنیا کا نقشہ تبدیل ہونے کا وقت ۔۔۔!!!نارروے میں قران پاک جلانے کے واقعہ کے حوالے سے پاک فوج کے فخر ’ میجر جنرل آصف غفور کا بڑا اعلان‘ ۔۔۔۔ امت مسلمہ میں جوش کی لہر دوڑ گئی
    • The time when an unbelieving general refused to see the face of the Holy Prophet (peace be upon him).وہ وقت جب ایک کافر جرنیل نے رسول پاک ﷺ کا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
    Sports
    • ورلڈ کپ 1992 کے یادگار لمحات٫دارالحکومت میں پروقار تقریب اور راولپنڈی میں کھلاڑیوں کا تاریخی استقبال. یادگار مناظر
    • Great news: Australia vs Pakistan after Sri Lanka - The Australian team was also announcedبڑی خوشخبری : سری لنکا کے بعد آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان ۔۔۔ آسٹریلوی ٹیم کا اعلان بھی کر دیا گیا
    Technology
    • Great news for iPhone giantsآئی فون کے دیوانو ں کے لیے بڑی خوشخبری
    • سام سنگ کا فولڈ ایبل فون نئی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ مارکیٹ میں آ گیا ۔۔۔ سکرین سے فولڈ ہونے والے اس فون میں کیا خصوصیات ہیں ؟ جانیے
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
    اچھی بات
    • Hazrat MUHAMMAS SAWعشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    • بالآخرقرآن پوری دنیا پر غالب آ گیا۔۔۔کروناوائرس خدشات، کل جمعے کے روز پوری دنیا میں دوران نماز سورۃ فاتحہ اور مختصر آیات پڑھنےکا فیصلہ کر لیا گیا
    صحت و تندرستی
    • اس موسم گرما آڑو کھانا نہ بھولیں
    • پیازکا ایسا استعمال جو جسم کے تمام فاسد مادوں کے اخراج اورچہرے کی تروتازگی (کلینزنگ) وخوبصورتی میں مدد کرے اور اعصاب کو سکون پہنچائے
  • کالم
  • کرائم
اہم ترین

امریکی صدر کاایران سے مذاکرات کا دعویٰ ,پاکستانی سفارتی کوشش، ہندوستانی میڈیا میں کہرام مچ گیا,شہباز شریف کا ایرانی صدر سےرابطہ

MH Kazmi March 23, 2026March 23, 2026 1 min read
Share this:

امریکی صدر کاایران سے مذاکرات کا دعویٰ ,پاکستانی سفارتی کوشش ,شہباز شریف کا ایرانی صدر سےرابطہ

اسلام آباد (اصغر علی مبارک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کیاہےجبکہ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔یاد رہے کہ پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو روز سے جاری مذاکرات بڑے مثبت اور نتیجہ خیز رہے ہیں، مذاکرات کی بنیاد پر ایران کے جوہری اہداف کے خلاف فوجی کارروائی اگلے پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔ `بعد ازاں ایران نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی خبروں کی تردید کی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔
اس دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہےاور پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان خطےمیں امن کےفروغ کے لیے تعمیری کردار جاری رکھےگا۔ وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی میں کمی اور مذاکرات اور سفارتکاری کی فوری ضرورت پر زور دیا اور امت مسلمہ کے درمیان اتحادویکجہتی کی اہمیت پربھی زور دیا۔ شہباز شریف نے ایران کے صدر اور برادر ایرانی عوام کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارک باد دی۔ایرانی صدر نے وزیراعظم کے جذبات کا پرتپاک جواب دیا اورپاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا۔وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرےدکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں ومتاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔ فلوریڈا میں امریکی صدر نے کہاتھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرعزم ہیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی، اُمید ہے ایران کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیاتھا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا، اگر ڈیل ہوئی تو ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا، یہ اسرائیل اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے بھی اچھا ہوگا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے، صرف مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے وہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلیتا، ہم نے اسرائیل سے بھی رابطہ کیا ہے، اسرائیل بھی بہت خوش ہے، امن کی گارنٹی ہوگی، اسرائیل بھی دیرپا امن چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے، ڈیل کی بات میں نے نہیں ایران نے کی ہے، اب نہ نیوکلیر ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی کوئی جنگ، ہم نہیں چاہتے کہ ایران اب نیوکلیر کے قریب بھی آئے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ میری پوری لائف ڈیل میں گزری، کل صبح ہم ایران کا سب سے بڑا توانائی پلانٹ تباہ کرنے والے تھے، ایک حملے میں یہ گرجاتا، دوبارہ بنانے میں 10 ارب ڈالرز لگتے، اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ہم نے فیز ون اور فیز تین تک ان کی قیادت ختم کردی، ہم نے ابھی تک دوسرے سپریم لیڈر سے متعلق کچھ نہیں سنا، ہم نہیں جانتے دوسرا سپریم لیڈر زندہ بھی ہے یا نہیں اور میں نہیں چاہتا مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے۔یاد رکھیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز کے لیے ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔ پیر کے روز امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ فوجی حملے 5 روز کے لیے مؤخر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران نے امریکا سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔ امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ دو روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا کہ ایران میں ایسا کوئی لیڈر موجود نہیں جس سے بات چیت کی جا سکے تاہم اس کے بعد انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیاتھا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور دھمکی کے بعد ہی امریکی صدر نے بات چیت کا بیان دیا تھاجب کہ ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایران کی وارننگ کے بعد ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی رابطے نہیں ہوئے، ٹرمپ کے حالیہ بیان کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت لینا ہے، کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں، امریکا کو خود اس معاملے میں بات چیت کرنی چاہیے کیوں کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، ہوسکتا ہے ٹرمپ کچھ بڑا کرنے سے پہلے ٹائم خرید رہا ہو، اور یہ سب دھوکا ہو۔ دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔ ادھر امریکی صدر کے اعلان کے بعد ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فوری طور پر سیزفائر کا مطالبہ کیا ہے ، لاروف نے کہا کہ ایران اور تمام فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھ کر حل تلاش کیا جائے۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہاتھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو روز کے دوران ”بہت اچھے اور نتیجہ خیز“ مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہاتھاکہ جاری بات چیت کے نتائج سامنے آنے تک ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیاتھا جب ایران کو آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی، جس کی مدت آج ختم ہو رہی تھی۔ رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے بعد اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل کے پاور پلانٹس اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ ادھر ایک ذریعے نے بتایا تھاکہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ اپنی بات چیت سے اسرائیل کو آگاہ رکھا ہے اور امکان ہے کہ اسرائیل بھی ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے عارضی طور پر گریز کرے گا تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دریں اثنا ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی، برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تاہم بعد ازاں یہ دوبارہ 105 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ اسی طرح عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ عالمی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست اور مثبت مذاکرات جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی آئل مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 14 فیصد سے زائد کمی کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی کم ہو کر 84.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے کشیدگی میں ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ یہ مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے، جبکہ امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے، جسے کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل اسی طرح جاری رہا تو خطے میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔یاد رکھیں کہ ایران نے ایک بار پھر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے جنوبی ساحل یا جزائر پر حملہ کیا گیا تو خلیج میں تمام بحری راستے بند کر دیے جائیں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ڈیفنس کونسل نے بیان میں کہا کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا جزائر کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں خلیج کے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے، مختلف اقسام کی بحری بارودی سرنگیں، جن میں تیرنے والی سرنگیں بھی شامل ہیں، ساحل سے چھوڑ دی جائیں گی۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسی صورت حال میں پوری خلیج طویل عرصے تک آبنائے ہرمز جیسی حالت اختیار کر سکتی ہے، جس سے عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوگی۔ ایرانی ڈیفنس کونسل نے مزید کہا کہ 1980 کی دہائی میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے تعینات 100 سے زائد مائن سوئپرز بھی محدود کامیابی حاصل کر سکے تھے، اس لیے ایسی کارروائی کے نتائج سنگین ہوں گے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے اس کے اہم آئل ایکسپورٹ حب خارگ جزیرے پر قبضہ یا ناکہ بندی کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایرانی ڈیفنس کونسل نے یہ بھی کہا کہ غیر متحارب ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے ساتھ ہم آہنگی کرنا ہوگی۔ایران کے اہم جوہری مرکز ’نطنز‘ پر ایک بار پھر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صبح کے وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا جس میں اس جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے باوجود اس مقام پر کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی قریبی آبادی کو فوری طور پر کسی خطرے کا سامنا ہے۔

 

حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے اور نگرانی جاری ہے۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نطنز میں قائم شہید احمدی روشن افزودگی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے نے ان حملوں کو ”مجرمانہ کارروائی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور دیگر حفاظتی اصول شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نطنز نیوکلئیر فیسیلیٹی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں یہاں حملہ کیا گیا تھا جس میں سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ یہ مرکز تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور ایران کے اہم ترین جوہری پروگرام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنایا جائے یا انہیں کسی طرح اپنے کنٹرول میں لیا جائے۔ اس حوالے سے حساس نوعیت کے مشنز کے لیے ’جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ‘ جیسے خصوصی یونٹ کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک بنیادی ہدف ہے۔

 

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ہتھیار بنانے لائق سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ہفتے کے روز بھی میزائل حملے جاری رہے، جبکہ سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے مشرقی علاقے میں چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 ڈرونز کو مار گرایا۔ یہ علاقہ تیل کی بڑی تنصیبات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کے توانائی کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل کے پاور پلانٹس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کو بھی نشانہ بنائے گا، یہ اعلان ایرانی انقلابی گارڈز نے کیا۔بیان میں پہلے دی گئی وہ دھمکیاں واپس لے لیں گی جو خطے میں پانی کے پلانٹس پر حملے کے حوالے سے تھیں، جو خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جھوٹ بولنے والے امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ انقلابی گارڈز پانی کے میٹھا کرنے والے پلانٹس پر حملہ کرنے اور خطے کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو بالکل غلط ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو دھمکی دی تھی کہ اگر تہران ہرمز کے تنگ گزرگاہ کو 48 گھنٹوں میں مکمل طور پر تمام شپنگ کے لیے نہ کھولے تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انقلابی گارڈز نے کہا کہ ہم کسی بھی خطرے کا جواب اسی سطح پر دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ اگر آپ بجلی پر حملہ کریں، تو ہم بھی بجلی پر حملہ کریں گے۔ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کے ردعمل میں اپنے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خطے میں متوازن جوابی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکہ اور اسرائیل جنگ نے ایران پر ایک واضح سبق دیا ہے: حکومت کی تبدیلی کے خواب اکثر حقیقت سے ٹکرانے پر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور ابتدائی حملوں میں کئی سینئر کمانڈرز کی موت کو واشنگٹن اور تل ابیب میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔

 

تاہم اس کے بعد کے واقعات اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔ ایرانی حکومت ٹوٹنے کے بجائے مستحکم رہی، اپنی قیادت کو جلدی منظم کیا اور زیادہ تر عوام کو اپنے پیچھے متحد کیا۔ خامنہ ای کی شہادت کے چند دنوں کے اندر، ایران کی طاقتور روحانی باڈی، اسمبلی آف ایکسپرٹس نے ان کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ یہ انتخاب متنازع لگ سکتا ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ نے ہمیشہ حکومتی اصول کے طور پر موروثی جانشینی کو مسترد کیا ہے۔ تاہم، اس فیصلہ کن ووٹ نے دو اہم پیغامات بھیجے: بیرونی دباؤ کے سامنے مزاحمت اور سیاسی نظام میں تسلسل۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو قم کی مدارس میں تعلیم یافتہ درمیانی درجے کے عالم اور ایران-عراق جنگ کے تجربہ کار ہیں، کو طویل عرصے سے پس پردہ اثر و رسوخ رکھنے والا شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔

 

اگرچہ انہوں نے کبھی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن انہوں نے اسلامی انقلاب گارڈ کورپس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، جو اب ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جنگ کے وقت ایسے تعلقات رسمی عہدوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا عہدہ سنبھالنا، اس لحاظ سے، محض خاندانی تعلقات کا نتیجہ نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ میں اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی قائم رکھنے کی حکمت عملی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے، یہ منظم جانشینی اس کہانی کو پیچیدہ کر دیتی ہے کہ ایرانی حکومت ختم ہونے کے قریب تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس انتخاب پر کھل کر تنقید کی، کہا کہ انہیں ایران کی قیادت کے انتخاب میں حق ہونا چاہیے—یہ بیان واضح طور پر جنگ کا اصل مقصد ظاہر کرتا ہے: محدود فوجی کارروائی کے بجائے حکومت کی تبدیلی۔ بیرونی حملے عموماً وہ حکومتیں مضبوط کرتے ہیں جو اندرونی مخالفت کا سامنا کر سکتی ہیں۔ ایران اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

 

اگرچہ کئی ایرانی اقتصادی مشکلات اور سیاسی پابندیوں سے ناخوش ہیں، غیر ملکی مداخلت ایک پرچم کے گرد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے حکمت عملی کا مسئلہ واضح ہے: اگر ان کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے، تو کامیابی کا معیار انتہائی بلند ہو جاتا ہے: ایران کے حکومتی نظام کا مکمل خاتمہ یا اس کی غیر مشروط سرنڈر۔ اس کے بغیر، حتیٰ کہ طویل تنازعہ بھی ایران کے لیے بقا اور اس لحاظ سے فتح کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ساتھ ہی، ہر گزرتے دن کے ساتھ تصادم کے مزید بڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے، جو پورے مشرق وسطیٰ کو گھیر سکتا ہے اور عالمی معیشت کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ غلط حساب کتاب میں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ اس دباؤ میں ہیں کہ وہ واضح نتائج پیش کریں، حالانکہ جنگ کا اختتام ابھی غیر واضح ہے۔ مایوسی میں، وہ اضافی اسٹریٹجک اہداف یا اور زیادہ تباہ کن آپشنز پر حملے کے لیے مائل ہو سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات کے نتائج ایران سے کہیں آگے کے لیے ناقابل تصور ہوں گے۔ حکمت اور اثر و رسوخ رکھنے والی آوازیں واشنگٹن میں چاہیے کہ وہ مزید تصادم کو روکیں اور علاقے کو ناقابل واپسی کے مقام تک پہنچنے سے پہلے بحران کو قابو میں رکھیں۔

Share this:
Tags:
claim contact diplomatic efforts Iran Iranian of Pakistani President President's Shehbaz Sharif's talks US With

MH Kazmi

25,235 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
Previous Post موجودہ دورِ حکومت میں روایتی اقدامات میں چند نمایاں تبدیلیاں
Next Post یوم پاکستان ہائی کمیشن برائے پاکستان، نیروبی، کینیا میں منایا گیا

Related Posts

مستقبل کی معیشت اسلام آباد مذاکرات کے تناظر میں

April 26, 2026

وائٹ ہاؤس پریس ڈنر میں فائرنگ، ٹرمپ اور میلانیا کو بحفاظت نکال لیا گیا،مشتبہ شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس ایلن کے طور پر ہوئی

April 26, 2026

ایران بات چیت کیلئے تیار، امریکی صدر کا ایک بار پھر ڈیل کیلئے اصرار

April 25, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر جائزہ اجلاس، ترجمان دفتر خارجہ 

April 25, 2026
© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.