counter easy hit

نریندر مودی اپنی ہی پولیس سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ بھارتی وزیر اعظم نے خود ہی اعتراف کر لیا

Why is Narendra Modi afraid of his own police? The Indian Prime Minister himself admitted

نئی دہلی (ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارت اپنی ہی پولیس کے کشمیری اہلکاروں سے بھی خوفزدہ ہوگیا، کشمیری پولیس اہلکاروں سے اسلحہ لے کر انہیں سائیڈ لائن کر دیا۔کشمیری پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی حیثیت صرف بھارتی فوجیوں کے مددگار کی سی رہ گئی ہے، 5 اگست کے بعد سے وادی میں بھارتی پولیس اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔امریکی خبر رساں ایجنسی سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کشمیری پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے پہلے ان سے سرکاری اسلحہ واپس لے لیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بھارت کو خوف تھا کہ پولیس میں موجود کشمیری اہلکاروں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف بغاوت سامنے آسکتی ہے۔وادی میں پولیس کو سائیڈ لائن کرنے کے بعد پولیس اہلکاروں میں بد دلی اور غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ پانچ اگست کے بعد سے وادی میں پولیس اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے تین واقعات ہو چکے ہیں جن میں دونوں طرف کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کی اہلیہ بھارتی چترویدی اسلام آباد سے اپنا ضروری سامان سمیٹ کر واپس بھارت لوٹ گئی ہیں۔پاکستان کی طرف سے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان بدر کیے جانے کے بعد ان کی اہلیہ 21 اگست کو پاکستان آئی تھیں۔ بھارتی چترویدی نے ایک ہفتہ اسلام آباد میں گزارا۔ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن میں اپنی رہائش گاہ سے ضروری سامان پیک کروا کر واپس بھیج دیا اور آج خود بھی واپس لوٹ گئی ہیں، بھارتی چترویدی نے واپسی سے قبل اسلام آباد میں سفارتی عملے کی فیملیز سے بھی ملاقات کی جبکہ اپنی پاکستانی دوستوں کوبھی الوداع کہا، بھارتی سفارتخانے کی گاڑی انہیں واہگہ بارڈر چھوڑنے آئی تھی۔بھارتی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجے بساریہ کو شاید اب واپس پاکستان نہ بھیجا جائے اور انہیں جلدہی کسی دوسرے ملک میں ہائی کمشنر تعینات کیاجاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں واہگہ بارڈرکے راستے افغان انڈیا تجارت جاری ہے، پاکستان سے روزانہ دو، تین ٹرک خشک میوہ جات لیکربھارت جاتے ہیں۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website