counter easy hit

پینسٹھ کی جنگ کا وہ گوریلا میجر جس نے کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا لیکن ۔۔۔

مقبوضہ کشمیر پاکستان کی آنکھ کا آنسو اور دل کا درد بن چکا ہے اور یہ درد ہے کہ اشکوں کے سونامی میں بہتا ہی چلا جارہا ہے ،کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب مقبوضہ کشمیر سے دردناک ہوک نہ اٹھتی ہو،جنازے اور نوحے دیکھ دیکھ کر اب تو دنیا کی پتھرائی آنکھوں میں بھی نمی آنے لگی ہے ۔ آج جب قوم یوم دفاع مناتے ہوئے جنگ ستمبر کے شہیدوں کو یاد کررہی اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے انکے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کررہی ہے کہ انہوں نے اپنا خون دیکر پینسٹھ میں پاکستان کی حفاظت کی اور آج دوسری و تیسری نسل اس سرزمین پر عزت اور آزادی سے رہ رہی ہے وہاں ہم بہت سے مجاہدوں کو بھول سے گئے ہیں۔ اس جنگ کا باعث بننے والا مقبوضہ کشمیر ابھی تک خوں کے آنسو رو رہا ہے ۔ہم آزاد ہیں اور کشمیری غلام ہیں ۔البتہ وہ جنّت کے مکیں ہیں اور ہم وصل فردوس میں آبدیدہ جہنم کو سینک رہے ہیں ۔

جنگ ستمبر کا پس منظر نئی نسل کو یاد نہیں ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چھیڑخانیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاکستان نے وہی کام کیا تھا جو 1999میں کارگل میں پاک فوج کے مجاہدین نے کیا تھا ۔یہ آپریشن جبرالٹر تھا جس کے تحت پاک فوج نے جولائی سے ستمبر 1965تک کشمیر کے اندر گوریلا جنگ لڑی ۔ فوجی افسران و جوانوں کو آٹھ فورسز میں تقسیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو چھیننے کا فرض سونپا گیا تھا لیکن پھر ایسا ہوا کہ بھارتی فوج کی شدید مزاحمت کے باعث باقی گروپوں کو مکمل فتح نہ مل سکی اورجانی نقصان بھی بے تحاشا ہوا البتہ ایک گروپ جس کی کمانڈ میجر ملک منور خان اعوان کررہے تھے اس نے غیر معمولی طور پر بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں سب سے بڑی چھاونی راجوری سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔یہ پانچ سو مربع میل کا علاقہ تھا جس پر میجر ملک منور خان اعوان نے تین ماہ تک تسلط رکھا حتیٰ کہ بھارت نے کشمیر ہاتھ سے جاتا دیکھا تو پاکستان کے خلاف کھلی جنگ کرتے ہوئے واہگہ بارڈر عبور کرکے لاہور اور سیالکوٹ پر قبضہ کی بھرپور کارروائی شروع کردی تھی ۔تاہم بھارتی فوج میجر ملک منور خان اعوان سے راجوری کا مقبوضہ علاقہ چھڑوانے میں ناکام رہی تھی ۔یہ ایک طرح سے پورے کشمیر پر پاکستان کی حاکمیت کا اعلان تھا اور کشمیریوں کی بھارت سے آزادی کا ثبوت کہ راجوری چھاونی میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرانے لگا تھا لیکن پھر کیا ہوا ؟ جنگ بندی کے بعد جی ایچ کیو سے انہیں آرڈر ملے کہ وہ راجوری سے قبضہ چھوڑ کر واپس آجائیں ۔میجر ملک منور خان اعوان باامر مجبوری واپس آئے مگر یہ لازمی کہا کہ آج میں واپس آرہا ہوں تو کشمیر واپس جارہا ہے ۔

میجر ملک منور خان اعوان کی اپنے مجاہدین کے ساتھ واپسی پاکستان کا حقیقت میں روگ بن گیا ہے،اگر اس وقت وہ واپس نہ آتے توراجوری پر پاکستان کا قبضہ ہوتااور سری نگر اس سے زیادہ دور نہیں تھا ،راجوری پر قبضہ سے پاکستان کے کشمیر سے آنے والے پانیوں کو نہ روکا جاسکتا نہ بارہ مولا ،شوپیاں میں دن رات ظلم کرنے والے بھارتی درندوں کو موقع نصیب ہوتا ۔بدقسمتی ہماری کہ میجر ملک منور خان اعوان کو اپنے گوریلوں کے ساتھ واپس آنا پڑا ،وہ بے حد رنجیدہ رہے ،انہیں غازی کشمیر کا خطاب ملا، تمغہ جرات سے نوازا گیا ۔لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد نے  میں لکھا ہے کہ ’’ میجر منور اس سارے علاقے کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ انکے اپنے پولیس اہلکار تھے، اپنے تحصیلدار تھے، اپنی حکومت تھی۔ مقامی آبادی کی مکمل حمایت انہیں حاصل تھی۔ جو مدد بھی انہیں درکار ہوتی ، وہ انہیں فراہم کر دی جاتی۔ راجوری کی پوری وادی میں انکی عملداری قائم تھی۔‘‘

معروف دفاعی تجزیہ نگار و صحافی انجم نیاز نے میجر ملک منور خان اعوان کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ایسے جنگی ہیرو تھے جنہیں قوم نے بھلادیا ۔جنگ ستمبر کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے ۔ میجر منور خان آزاد کشمیر رجمنٹ میں شامل تھے جو بعد میں آزاد کشمیر ریگولر فورس بنی۔ یہ فورس پاکستانی فوج سے الگ بھرتیوں اور تربیت کا علیحدہ ڈھانچہ رکھتی ہے۔ جولائی 1965ء میں پاکستانی فوج نے آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا۔ یہ جموں و کشمیر میں داخلے کی مہم تھی۔ میجر منورخان اعوان کا نام اس مہم میں ممتاز رہا۔ انہوں نے پورے تین مہینے پانچ سو مربع میل کا یہ علاقہ اپنے قبضے میں رکھا۔ لیکن جی ایچ کیو سے جنرل موسیٰ نے اپنی جنگی حکمت عملی کی بدانتظامی کا ثبوت دیا اور اچانک حکم جاری کر دیا گیا کہ میجر منور اور انکے جوان یہ علاقہ خالی کر کے جی ایچ کیو رپورٹ کریں۔ میجر منور نے مایوسی اور افسردگی کے عالم میں اس علاقے اور وہاں کے لوگوں کو خیرباد کہا۔ لوگ بھی انکے جانے پر افسردہ تھے اور رو رہے تھے۔ بعد میں میجر منور کو ستارہ جرآت سے نوازا گیا اور جنرل ایوب نے انہیں شاہ راجوری کا خطاب بھی دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ میجر ملک منور خان اعوان قائد اعظم کا لگایا ہوا پودا تھے ۔انکی داستان کے حوالے سے جو روایات سننے میں آتی ہیں ،ان کے تحت دیکھا جائے تو میجر ملک منور خان اعوان برٹش آرمی میں بھرتی ہوئے اور ان کی تربیت خصوصی طور پر کی گئی لیکن سوبھاش چند ر کی آزادی ہند کی جنگ میں میجر ملک منور خان اعوان نے ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے سوبھاش چندر کے سپاہیوں کو تربیت دی اور جاپانیوں کے ساتھ مل کر برما کے محاذ پر انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی ۔یہ جنگ عظیم دوئم کا زمانہ تھا ،برما میں شکست کے بعد جب جاپانی فوجوں پر غلبہ پایا گیا تو میجر ملک منور خان اعوان کو جنگی قیدی بنالیا گیا۔پاکستان بننے کے بعد وہ جنگی قیدی کے طور پر پاکستان کے حصہ میں آئے اور ملتان کی جیل میں تھے جب محترمہ فاطمہ جناح نے ملتان جیل کا دورہ کیااور پھر انہیں رہا کراکے قائد اعظم سے ملاقات کرائی گئی ۔قائد اعظم نے انکی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو دیکھ کر انہیں فوج میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔

میجر ملک منور خان اعوان گوریلا جنگ کے ماہر تھے اس لئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں راجوری تک قبضہ کرلیا تھا جس پر بھارتی کمانڈروں نے ان کے سر کی قیمت ایک لاکھ روپیہ رکھ دی تھی تاکہ انہیں مار کر ہی راجوری کو چھڑوایا جاسکے ۔پاکستان کے سپوت میجر ملک منور خان اعوان کے غیر معمولی کارناموں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے لیکن آج تک ان پر کوئی ڈاکیومنٹری نہیں بن سکی ،کیوں؟ ایسے ہیروکو فراموش کرنا کسی جرم سے کم نہیں ۔