counter easy hit

، رمضان کے آخری عشرے کا مشہور پولیس ناکہ “سانحہ بہاولنگر اور عیدی مہم کا آپس میں تعلق

ضلع بہاولنگر میں رمضان کے آخری عشرے میں یہی پولیس کا ناکہ زیادہ “سخت اور قانونی “ ہو جاتا ہے ۔ ضلع کی زیادہ تر عیدی یہیں سے اکٹھی ہونی ہوتی ہے ۔
محترم رضوان عباس صاحب اس علاقے کے ایس ایچ او ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے جانور اور چرند پرند بھی ان کے غضب اور ظلم سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

مورخہ 8 اپریل کو اِسی ناکے پر عیدیاں وصولی مہم زوروں پر تھی ، ہر گاڑی ، موٹرسائیکل ، بندے کو روکا جا رہا تھا ، گالی گلوچ ، تھپڑ مکا ، وغیرہ ۔
ایک موٹرسائیکل سوار کے ساتھ پیسے کم دینے پر تلخ کلامی ہوئی ، اس کو مارا ماری بھی کی گئی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے وہ سوار وہاں سے بھاگ نکلا ۔
حضرت رضوان عباس صاحب کے ناکے سے زندہ بھاگ نکلنا کوئی معمولی بات نا تھی ، اس لئے اسی رات شناخت اور نشاندہی کے بعد اس بندے کے گھر پر دھاوا بولا گیا ، بغیر کسی وارنٹ یا ایف آئی آر کے ۔

وہ لڑکا تو گھر میں نا تھا ، البتہ اس کے دو بھائی جو کے فوج کے ملازم ہیں ، ایک وزیرستان سے اور دوسرا راولپنڈی سے عید منانے گھر آئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے بغیر وارنٹ و قانونی جواز پولیس سے آنے کی وجہ دریافت کی ۔ بات بگڑی ، پولیس نے خواتین کے کپڑے تک پھاڑے اور دونوں بھائیوں کو اٹھا کر متعلقہ تھانے میں لے آئی ۔ ساری رات ان پر تشدد ہوا ، صبح کے وقت دونوں بھائیوں کی حالت زیادہ خون بہنے اور چند ایک ہڈیاں ٹوٹنے کی وجہ سے تشویشناک ہو گئی ۔ موقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ، پولیس نے دونوں کو بیہوشی کی حالت میں ڈی ایچ کیو بہاولنگر پہنچایا اور بتایا کے ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور دونوں سڑک پر بیہوش پڑے ملے ہیں ۔
شام کو جب ایک بھائی کو ہوش آیا تو اس نے متعلقہ ڈاکٹر کو ساری بِپتا بیان کی ۔ ہسپتال والوں نے ضابطے کے مطابق فوراً متعلقہ فوجی ادارے کو ان کے ملازمین کی ہسپتال میں موجودگی اور میڈیکل کنڈیشن کے بارے اطلاع دی ۔
جب بات عام ہوئی تو معلوم ہوا کے تھانہ میں نا تو کوئی اینٹری کی گئی اور نا ہی کوئ ریکارڈ تھا ۔ بہاولنگر پولیس حکام نے معاملے کو دبانے کے لئے ایک ہلکی سی ایف آئی آر کر کے ایس ایچ او اور دیگر دو سے تین ملازمین کو معطل کر کے دوسرے تھانے کی حوالات میں بند کر دیا ۔
فوج کے متعلقہ ادارے نے بہاولنگر پولیس کو معاملے کی شفاف انکوائری کرنے اور اس پر ایکشن لینے کا کہا ۔

ساتھ ہی ساتھ ، گیریژن کمانڈر بہاولنگر کو زخمی ملازمین کے بہترین علاج اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے احکامات دئیے گئے۔
عید کی صبح نماز عید کے فوراً بعد گیریژن کمانڈر نے ڈی ایچ کیو میں زیر علاج ملازمین کی تیمارداری کی ، اور وہیں سے ڈی پی او بہاولنگر سے فون پر اب تک ہونے والی قانونی کارروائی کی تفصیل دریافت کی ۔ کمانڈر کو بتایا گیا کہ تمام ملازمین اس وقت حوالات میں بند ہیں اور واقعے کی سخت ترین ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش جاری ہے ۔
اس کے بعد کمانڈر ہسپتال سے سیدھے تھانہ اے ڈیویژن بہاولنگر گئے تا کہ درج کی گئی ایف آئی آر اور موجودہ قانونی کارروائی کا جائزہ لے کر فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو مطلع کیا جا سکے ۔
تھانے پہنچ کر کمانڈر نے جب ایس ایچ او کے آفس میں ملاقات کی تو تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ ایس ایچ اوکی کرسی پر بیٹھا شخص تھانہ اے ڈیویژن کا انچارج نہیں بلکہ مرد مجاہد رضوان عباس ہے اور تھانے کا اصل انچارج ساتھ دوسری کرسی پر براجمان طنزیہ مسکرا رہا ہے ۔ جبکہ باقی تینوں پولیس ملزمان بھی اسی دفتر میں بیٹھے عید کی مٹھائی اور چائے نوش فرما رہے ہیں ۔

کمانڈر صاحب نے اصلی والے انچارج سے استفسار کیا کہ یہ کون سی حوالات اور کون سی انکوائری چل رہی ہے ۔

بجائے کوئی جواب دینے کے تھانے کے عملے نے اعلیٰ افسر سے بدتمیزی کی اور گالی گلوچ اور دھکم پیل کے ساتھ گیریژن کمانڈر کو تھانے سے باہر نکال دیا گیا ۔ یہاں یہ امر بیان کرنا ضروری ہے کہ فوجی افسر نے اپنے اسٹاف اور اسکارٹ کو ردعمل دینے سے منع کیا اور واپس اپنے آفس آ کر پولیس کے اعلیٰ حکام کو پورے واقعہ سے مطلع کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ پورے معاملے کی فوٹیج تھانے کے سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
پولیس حکام نے اپنے تھانے کی یقین دہانی پر واقعہ کو مسترد کر دیا ۔

اس کے بعد کمانڈر نے اپنے اعلیٰ حکام کو تمام واقعے سے آگاہ کیا ۔ وہاں سے حکم ہوا کے آپ اپنی ایک ٹیکنیکل ٹیم بھیج کر تھانہ اے ڈیویژن سے سی سی ٹی وی ریکارڈ کی کاپی منگوائیں تا کہ آئندہ کی محکمانہ کارروائی میں استعمال کی جا سکے ، اس سلسلے میں پولیس کو بھی تعاون کے لئے ایک دفتری چٹھی بھجوائی جا چکی ہے ۔
اسی چٹھی کی کاپی کے ساتھ دو بندوں کی ٹیکنیکل ٹیم کو تھانہ اے ڈیویژن بھجوایا گیا ، ٹیم کے پہنچنے پر تھانے کے عملہ نے دوبارہ وہی طوفان بدتمیزی بھرپا کیا ، ٹیم کے دونوں افراد کو زدوکوب کرنے کے بعد حوالات میں ڈال دیا گیا اور سی سی ٹی وی کا بھی سارا ریکارڈ زائل کر دیا گیا۔ ٹیم کے واپس نا پہنچنے پر جب بہاولنگر گیریژن نے تھانے سے رابطہ کیا تو جواب دیا گیا کہ سی سی ٹی وی سسٹم خراب تھا ، اس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ، آپ کے دونوں بندوں نے تھانے کے عملے سے بدتمیزی کی ہے ، اس لئے ایف آئی آر کاٹ کر ان کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے ، لہٰذا ان کی ضمانت کا بندوبست کریں ۔
پھر اس کے بعد ، آرمی کے بیس افراد کی ایک ٹیم بھجوائی گئی ، اپنے بندوں کی “ضمانت “اور ضروری “قانونی کارروائی “ کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔ جس کی تفصیلات سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں ۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website