counter easy hit

دریچے کے اُس پار

Society

Society

تحریر: محمد ایوب صابر

جب ذہن کے نہاں خانوں سے فکر کی ہواگزرتی ہے تو دریچے کے اس پار ساری فضائ مہمیز ہو جاتی ہے۔ اس دریچے کا ایک پٹ بند کر کے باہر کے منظر کا نظارہ کرتے ہیں تو سامنے بہت سے کینوس نظر آتے ہیں ۔ جن پر معاشرتی زندگی کی مختلف اشکال کے ذریعے نمائندگی کی گئی ہے۔ان اشکال میں کچھ خوشنما چہروں کے علاوہ معاشرے کے گھنائونے کرداروں کو بھی پورٹریٹ کیا گیا ہے۔ اس دریچے کی دوسری طرف کچھ ایسے کردار نظر آتے ہیں جو معاشرے کی اساس ہیں اس کے برعکس وہ کردار بھی دکھائی دیتے ہیں جو جدیدیت کے نام پر تہذیبی روایات کو مسمار کرنے پر آمادہ ہیں ۔ اسی لیے اس دریچے کے باہر کی دنیا کو قوس قزح کا نام دیا جا سکتا ہے جس میں ہر رنگ اپنی شناخت کی تگ و دو میں ہے۔

افسانہ دراصل مغربی ادب سے مستعار لیا گیا ہے۔ افسانہ ادب کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک منفرد مقبولیت کا حامل رہا ہے۔ اس مقبولیت کا قصہ یوں ہے کہ افسانہ انسان کی فطری جبلت یعنی داستاں سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کی تسکین کا ذریعہ بھی ہے اور زندگی کی سچائیوں کی دریافت اور بازیافت کا طریقہ بھی ہے۔ افسانہ جمالیاتی اظہار کی سطح پر کسی ایک تاثر کے وسیلے سے کسی حقیقت کی بازیافت کرتا ہے یا کئی ایسی سچائیوں سے شناسائی فراہم کرتا ہے جو ایک ہی تاثر کو جنم دیتی ہے۔ داستاں گوئی افسانے میں ذریعہ اظہار کا بنیادی جوہر ہے جس سے اظہارمیں پوشیدہ پیغام ادب کی دوسری اصناف کے مقابلے میں زیادہ قو ت اور شدتِ احساس کے ساتھ قاری تک پہنچ جاتا ہے۔یہی قوت اور شدتِ احساس ہمیں ارم زہرائ کے افسانوں کے مجموعے’’اَدھ ُکھلا دریچہ‘‘میں نظر آتا ہے۔

میں بھی اس دریچے سے جھانکنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ارم زہرا کے افسانوں میں زبان کی سلاست اور داستان کی سحرانگیزی نکھر کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں کی منظر کشی اس دل پذیر انداز میں کی ہے کہ قاری افسانہ پڑھتے ہوئے خود اس افسانے کا ایک کردار بن جاتا ہے۔ افسانے پر سب سے بڑی بحث یہی ہوتی ہے کہ افسانہ نگار لکھتے ہوئے افسانے اور کہانی کے درمیان باریک سی لکیر کے اس پار چلاجاتا ہے جہاں قدم رکھتے ہی افسانہ اپنی اصلی ہیت کھو کر کہانی کے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔ارم زہرائ نے اس لکیر کے فرق کو نہ صر ف پہچانا ہے بلکہ اپنے قلم کو قرطاس پر چلاتے ہوئے افسانے کے حاشیے سے ہاہر نکلنے کی کبھی غلطی نہیں کی ہے۔ وہ جانتی ہیں کے افسانہ اپنے لباس میں رہ کر ہی اپنی پہچان قائم رکھ سکتا ہے ورنہ افسانے پر کہانی کی چادر اوڑھ دی جاتی ہے اور وہ آدھا تیتر آدھا بٹیربن کر اپنی پہچان کی لیے ورق در ورق سفر کرکے بھی اپنی منزل سے کوسوں دور رہتا ہے۔

ارم زہرا کے افسانے جدید اور قدیم طرز کے افسانے کی تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے اپنے قاری کی تسکین اور آگہی کا سامان مہیا کرر ہے ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’اَدھ ُکھلا دریچہ‘‘ اپنے اندر افسانے کے جملہ خصائل کے ساتھ رعنائی پیش کر رہاہے۔اس کتاب کے پہلے افسانے ’’اَدھ ُکھلا دریچہ‘‘ پر ایک نظر ڈالیں جس سے کتاب کا نام لیا گیا ہے تو اس افسانے میں عاشی نے اقدار اور روایات کا دامن مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔ وہ پروفیسر عمان سے پیار کرتی ہے لیکن اپنے پیار کو رسوا نہیں ہونے دینا چاہتی۔یہی وفا کا امتحان ہے۔

’’وقت کی رحل پر‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جہاں معاشرے کی عام اور قبول صورت لڑکیوں کے لیے اپنی چاہتوں کی زمین کم ہوتی نظر آتی ہے اور والدین بے بسی اور سمجھوتوں کے چکی میں پستے رہتے ہیں ۔ افسانہ ’’خواب سراب‘‘معاشرے کی ایک ایسی لڑکی کی آپ بیتی ہے جو کٹیا میں رہتے ہوئے محلوں کے خواب دیکھتی ہے۔ اس کی شکل وصورت ایسی کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے لیکن اس کی تقدیر اس کے چہرے کی طرح خوبصورت نہیں ہے۔ اسی لیے بالآخر اسے سمجھوتہ کرتے ہوئے ایک شادی شدہ مرد سے شادی کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

’’سانسوں کا جہنم‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں زلزلے کے دل دہلا دینے والے مناظر ہیں ۔ ایک انسان جو زلزلے میں زندہ بچ جاتا ہے اس کو کس کرب اور سرانڈزدہ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے بچ جانے کی خوشی منائے یا ان لوگوں کے مرنے کا سوگ منائے جو اس کے وجود کا ہی حصے تھے۔
اس کتاب میں شامل ایک افسانہ ’’آبگینے‘‘ایک خاندان کے آبگینے کی روداد ہے جس سے لاپرواہ ہوکر ماں باپ اپنے روزو شب میں کھوئے ہوئے ہیں اور جب بیٹے کو چوٹ لگتی ہے تو والدین کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس میں ایک نوکرانی کے جذبوں کی بھی ترجمانی کی گئی ہے جو انعام پانے کے بعد حواس باختہ ہوکر ہمیشہ کے لیے اس گھر کو خیر با د کہہ دیتی ہے۔

’’جگنوکی تمنا مہنگی پڑی‘‘ایک ایسا افسانہ ہے جس میں ایک اناپرست انسان کی داستان ہے جو ایک امیر خاندان کی بے جا فرمائشیں پوری کرنے کی حیثیت میں نہیں ہوتالیکن یہی بے جا فرمائشیں اس کے لیے ترقی کا زینہ ثابت ہوتی ہیں اور اس نے زندگی کی ہر آسائش حاصل کر لی۔ اس کے باوجود دل میں ایک کسک باقی رہ جاتی ہے۔

’’جنگل میں جمہوریت‘‘ایک ایسا افسانہ ہے جس کی منظرکشی نے اسے بیشتر افسانوں سے ممتازکر دیا ہے۔ اس میں معاشرے کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے جنگل کو علامت کے طورپر استعما ل کیا گیا ہے۔ہمارے موجودہ سیاسی اور معاشرتی زندگی کو اس افسانے میں دلکش اور پُر تاثیر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

’’تم ساکوئی نہیں ‘‘ افسانے میں ایک غریب شاعر اور اس کے گھریلوحالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ایک قلیل آمدنی والے گھرکے روزوشب کس طرح بسر ہوتے ہیں ۔ دن رات کے گوشوارے سے نپٹتے ہوئے بھی کس طرح ایک انسان پریشانیوں سے دامن بچا کر خوشی کے دوپل تلاش کرلیتا ہے۔میاں بیوی کی نوک جھونک کو اس افسانے میں دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

’’بھوک‘‘رونگٹے کھڑے کر دینے والا ایک افسانہ ہے۔ جس میں ایک ایسے آدمی کا احوال بیان کیا ہے جو اپنی اور بیوی کی بھوک مٹانے کے لیے آخرکار حرام اور حلال کی حدود بھی پھلانگ جاتا ہے۔ وہ اپنی غیرت اور انسانیت کا سودا کر لیتا ہے تاکہ جسم کے ساتھ سانسوں کا رشتہ قائم رہے۔وہ اپنی بیوی کی نظروں میں اس کا سب سے بڑا ہمددر بننے نکلا تھا لیکن اس کی ایک گھٹیا حرکت نے اسے بیوی کی نظروں سے ہمیشہ کے لیے گرادیا اور اُن دونوں کے راستے جدا ہوگئے۔
’’آرزوئوں کی گلی‘‘ معاشرے میں جدیدیت اور قدامت پسند لوگوں کی داستان ہے۔ اس میں ایک طبقہ چاند کو اپنی مٹھی میں بند کر لینا چاہتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ فرسودہ سوچ کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہے۔

یہ افسانہ انہی دوطبقات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا عکاس ہے۔ دونوں طبقات کو اپنے اندر معقولیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معاشرتی ڈھانچے میں بڑی بڑی دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ افسانہ ’’دو کنارے‘‘ایک ایسی داستان ہے جو اپنے منگیتر کو اپنا آئیڈیل سمجھتی ہے اور خود کو اُس کے سانچے میں ڈھال لیتی ہے اس کے باوجود منگیتر کی توقعات پر پورا نہیں اترتی۔ وہ اپنے رنگ روپ اور چال ڈھال کو بدل لیتی ہے تاکہ منگیتر کے دل میں اس کے لیے مقام پیدا ہو سکے، بالآخر تھک ہار کر منگنی کی انگوٹھی اتار کر خود کو اس بندھن سے آزاد کر لیتی ہے۔

’’اعتبارِ محبت‘‘ایک ایسا افسانہ ہے جس میں امیر کبیر گھرانے کی ایک لڑکی کی غریب لڑکے سے محبت کی داستان ہے۔ اس امیرلڑکی کی ماں اسے کسی بڑے گھر کی بہوبنانا چاہتی ہے لیکن وہ اپنا جیون ساتھی ایک ایسے لڑکے کو بنانا چاہتی ہے جو غریب ہو کر بھی دل کا امیر ہے۔ آخرکار ماں کو بیٹی کے احساسات کا علم ہو جاتا ہے اور وہ بیٹی کی محبت کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔

’’واپسی کا سفر‘‘ بے نام سے جذبوں کی داستان ہے جس میں لڑکی اور لڑکا دونوں ہی شاید اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ سامنے والا اس رشتے کو کوئی نام دے گا۔ وہ دونوں اتنے مہذب ہوتے ہیں کہ دلوں میں پیار کے باوجود زبان سے اس کا اظہار نہیں کر پاتے اور واپسی کے راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ واپسی کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا۔

’’چالیسواں دن‘‘ معاشرے کے ایک ایسے فرد کی روداد ہے جس نے بھر پور زندگی گزارنے کے باوجود اپنے آخری ایام تنہائی اور کسمپرسی کی حالت میں گزارے ہیں ۔ وقت کی ستم ظریفی دیکھےے کہ اس کی آنکھ بند ہوتے ہی ہر ایک اس کے لیے بے پناہ پیار کا اظہار کرنے لگتا ہے تاکہ اس کی وراثت میں زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کر سکے۔ اس افسانے میں معاشرے کے لالچی اوربے حس طبقے کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

’’خبروں کے پیچھے‘‘ ایک صحافی کی زندگی کا گوشوارہ ہے۔ کس طرح کٹھن مراحل سے گزر کر ایک خبر اخبارکی زینت بنتی ہے۔ وہ خبر جس کو عام لوگوں تک پہنچنے کے لیے کتنی بار چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی شفافیت پر قاری کو یقین آجائے۔صحافت کے پرپیچ راستوں کو قرطاس پر لایا گیا ہے جو عموماًنظروں سے اوجھل رہتے ہیں ۔

’’بکھرے رنگ دھنک کے‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں طویل انتظار کو قلمبند کیا گیا ہے۔ ایک لڑکی پیار کے سچے جذبوں کے ساتھ برسوں کسی کے انتظار میں گزار دیتی ہے تاکہ ایک دن ملن کا موسم آئے اور اسے انتظار کی لمبی مسافت کا صلہ وصل کی صورت میں ملجائے۔ اس کے برعکس جس کا وہ انتظار کر رہی ہے اس نے سفر پر نکلتے ہی اپنی ایک الگ دنیا بسا لی ہے اور جب طویل عرصے کے بعد لوٹ کے آتا ہے تو اپنی بے وفائی کو مجبوریوں کا لباس پہنانا چاہتا ہے،لیکن اسے نامراد ہی لوٹنا پڑتا ہے۔

’’احساسِ محرومی‘‘ایک معصوم بچی کا دکھ ہے جسے باپ کی نفرت نے وقت سے پہلے شعور کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے۔وہ جانتی ہے کہ بیٹی ہونے کی وجہ سے اس کا باپ اس سے نفرت کرتا ہے، اگر وہ بیٹا ہوتی تو اس کو ماں اور باپ دونوں کا بھر پور پیار حاصل ہوتا۔ احساسِ محرومی کا شکار یہ بچی اپنے لیے بھائی کی دعائیں کرتی اس دنیا سے منہ موڑ لیتی ہے۔ ارم زہرا نے اپنے افسانوں کے موضوعات اپنے ارد گرد معاشرے سے کشید کےے ہیں یہی وجہ ہے کہ قاری ا ن افسانوں کے سحر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔زبان وبیان کی چاشنی اور منظرنگاری ا یسے پُر کشش انداز میں کی گئی ہے کہ قاری افسانہ پڑھتے ہوئے حیرت کی تصویر بن جاتا ہے۔اَدھ ُکھلا دریچہ‘‘ میں شامل تمام افسانے ارم زہرا کے منفرد اسلوب کا مظہر ہیں۔

Mohammad Ayub Sabir

Mohammad Ayub Sabir

تحریر: محمد ایوب صابر