counter easy hit

فرانس، مسلمانوں پر مذہبی اور معاشرتی پابندیوں کیلئے بنائے گئے چارٹر آف پرنسپلز پر مسلم تنظیموں کا اتفاق

اسلام آباد(ایس ایم حسنین) فرانس میں گزشتہ برس دہشت گردانہ حملوں کے بعد مسلمانوں کی مساجد اور مبینہ انتہا پسندانہ دیگر سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے فرانسیسی صدر ایمانوائل ماماکروں کے پیش کردہ ‘چارٹر آف پرنسپلز‘ کے ساتھ فرانسیسی مسلمانوں کی تنظیم نے اتفاق کر لیا ہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق ماکروں کے پیش کردہ ‘چارٹر آف پرنسپلز‘ پر فرانس میں سرگرم تمام ذیلی مسلم ایسوسی ایشنوں کی جانب سے اتفاق کیا گیا۔ ایسی ذیلی ایسوسی ایشنوں کی تعداد نو ہے اور یہ تمام مرکزی تنظیم فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کی رکن ہیں۔ قبل ازیں کئی اراکین اس چارٹر کے اصولوں پر کڑی نکتہ چینی کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔فرانسیسی صدر اپنے تجویز کردہ قواعد و ضوابط سے ملک میں آباد مسلمانوں میں پائے جانے والے مبینہ بنیاد پرستانہ رویوں اور انتہا پسندانہ مذہبی عقائد کی افزائش کو کنٹرول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ماکروں کے پیش کردہ ‘چارٹر‘ میں مذہبِ اسلام کے مبینہ ‘سیاسی پہلو‘ کو کلی طور پر مسترد کرنا شامل ہے۔ مسلمان مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہوں گے۔ خواتین کے جنسی اعضا کی قطع برید اور لڑکیوں کا شادی کے وقت باکرہ یا کنواری ہونے کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس چارٹر میں مسلمانوں میں امتیازی رویوں کا خاتمہ اور سامیت دشمنی کی حوصلہ شکنی بھی شامل ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ مساجد کو قوم پرستی اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کی حمایت کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو ملک کے سیکولر تشخص کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہونا ہو گا۔ فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ ماکروں کے اس چارٹر کی تفصیلات تمام آئمہ اور مقامی سطح کے سرکردہ افراد کو بھی بتائے گی۔ اس چارٹر کے تحت کونسل آف آئمہ کو قائم کرنا بھی شامل ہے۔مسلمان فرانسیسی حکومت سے مکالمت کریں، مرکزی کونسل کے نائب صدر محمد موسوعی اور ان کے دو ساتھیوں نے تنقید کرنے والے مسلمان لیڈروں کو قائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرانسیسی مسلمان شہریت کے ضوابط کا مکمل طور پر احترام کریں گے۔ اندرونی اختلافات ختم کرنے کے بعد مرکزی مسلم کونسل کے نائب صدر محمد موسوعی نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ ملکی وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات کر کے ڈیل پر دستخط کر دیے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں صدر ماکروں نے فرانسیسی مسلمانوں کی مرکزی تنظیم فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ کو کہا تھا کہ انتہا پسندی و بنیاد پرستی پر قابو پانے کے لیے ان کی تجاویز سے اتفاق کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔

ماکروں نے یہ تجاویز کلاس روم میں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے پر ایک اسکول ٹیچر کو قتل کرنے کے بعد پیش کی تھیں۔ ان تجاویز پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے فرانس میں مسلمان کے مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری تھا۔ انجام کار ان تجاویز کے ساتھ مسلم کونسل نے سترہ جنوری کو اتفاق کرنے کا اعلان کر دیا۔نیا فرانسیسی قانون امتیازی رویے کا باعث ہو گا

FRENCH, MUSLIMS, ORGANIZATION, AGREED, TO, SUGGESTIONS, OF, FRENCH, PRESIDENT, AMANUAIL MAMAKRUN

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website