counter easy hit

ویلنٹائن ڈے، اظہار محبت کا دن

Valentine's Day

Valentine’s Day

تحریر سجاد علی شاکر

ویلنٹائن ڈے کوہر سال محبت کرنے والے یومِ اظہارِ محبت کی حیثیت سے مناتے ہیں۔ بالخصوص مغربی ممالک میں یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی ممالک میں اِس کا کوئی رواج نہیں ہے۔ سب ممالک میں یہ دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے اور بعض ممالک بالخصوص ایشیائی اور مسلم ممالک میں اِس دن کو برا سمجھا جاتا ہے! یہاں تک کہ ہندوستان میں جہاں ویلنٹائن ڈے نوجوانوں میں مشہور ہوتا جارہا ہے، ہر سال دائیں بازو کے سخت گیر ہندو کارکن محبت کے اِیسے جوڑوں کے خلاف دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ویلنٹائن ڈے کا تہوار تیزی سے مقبول ہواہے۔

چند عشرے پہلے تک جنوبی ایشیاء میں یہ نام بھی شاید کم ہی لوگ جانتے تھے، مگر اب ویلنٹائن کے موقع پر پاکستان تک کے اکثر شہروں میں پھول ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔برطانیہ میں یومِ ویلنٹائن کو مقبولیت سترہویں صدی عیسوی میں ملی۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک دوستوں اور محبت کرنے والوں کے درمیان اس دن ہر پیغامات کا تبادلہ عام ہو گیا۔ اِس صدی کے اختتام تک ویلنٹائن ڈے کے طباعت شدہ کارڈز سامنے آگئے جو جذبات کے اظہار کا آسان ذریعہ بنے۔یہ برطانیہ کا وہ دور تھا جب عورتوں مردوں کا گھلنا ملنا زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ امریکیوں میں بھی ویلنٹائن ڈے کے پیغامات کا تبادلہ اٹھارویں صدی میں شروع ہوا۔

ویلنٹائن ڈے پر مختلف طرز کے تحفے دینے کا رواج ہے۔ان تحائف میں پہلی بار جو تحفہ سامنے آیاوہ نقش ونگار والی پیپرلیس تھی جس کو امریکہ میں تیار کیا گیا تھا اِس کے بعد بر طانیہ میں ویلنٹائن ڈے کارڈ کا رواج عام ہوا۔ امریکن گریٹنگ کارڈ ایسوسی ایشن نے اندازہ لگایا ہے کی دنیا بھر میں اِ س دن تقریباََ ایک ارب کارڈ بھیجے جاتے ہیں اور اِسی لحاظ سے یہ دوسرا بڑا دن ہے جس دن اتنے کارڈ بھیجے جاتے ہیں۔دنیا میں سب سے ذیادہ کارڈ کرسمس پر لوگ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے ایک اور اندازہ لگایا ہے کہ 85 فیصد عورتیں ویلنٹائن کی چیزیں خریدتی ہیں۔ انیس ویں صدی میں ہاتھوں سے لکھے گئے خطوط اِس دن بھیجنے کا رواج تھا جس نے بعد میں گریٹنگ کارڈ کی شکل اختیار کر لی۔

یوم ویلنٹائن اب ایک جشن ہی نہیں بلکہ بہت بڑے کاروبار کا دن بھی ہے۔ رواں سال کینیا، بھارت اور دیگر ممالک سے لاکھوں ڈالر کے سرخ گلاب برطانیہ پہنچے ہیں۔ بیس ویں صدی میں امریکہ میں کارڈز کے ساتھ ساتھ مختلف تحائف بھی بھیجے جانے لگے جو کہ عموماََ مرد عورتوں کو بھیجتے تھے۔ اِن تحائف میں سرخ گلاب کے پھول اور چاکلیٹ جن کو دل کی شکل کے ڈبوں میں رکھ کر سرخ رنگ کے ربن کے ساتھ سجایا جاتا ہے شامل ہیں۔ ویلنٹائن ڈے والے دن ہیر ے کے جواہرا ت بھی تحفے میں دیئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے بعض ایلیمنٹری اسکو لوں میں طلبہ سے اپنی جماعتوں کو سجانے کیلئے اور اپنی جماعت میں موجود تمام ساتھیوں کو ویلنٹائن کارڈ یا تحفہ دینے کیلئے کہا جاتا ہے۔

برطانیہ سے رواج پانے والے اِس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منا یا جانے لگا۔ تاہم جرمنی میں دوسری جنگِ عظیم تک یہ دن منانے کی روایت نہیں تھی۔دوسرے ممالک میں یہ دن مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ برطانیہ میں ویلنٹائن ڈے کو علاقائی روایات مانا جاتا ہے۔ نور فولک میں جیک نامی ایک کریکڑ گھروں کے پچھلے دروازوں پر دستک دتیا ہے اور بچوں کیلئے دورازے پر ٹا فیاں اور تحالف چھوڑ جاتا ہے۔ ویلز میں بہت لوگ اِس دن کی جگہہ 25جنوری کو سینٹ ڈائینونز ڈے مناتے ہیں۔ فرانس روایتی طور ہر ایک کیتھولک ملک ہے، یہاں ویلنٹائن ڈے کو سینٹ ویلنٹین” کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہاں یہ دن مغربی ممالک کی طر ح ہی منا یا جاتا ہے اور سپین میں بھی یہ دن دوسرے مغربی ممالک کی طرح منایا جاتا ہے۔

ڈنمارک اور ناروے میں یہ دن بڑے پیمانے پر نہیں منایا جایتا مگرکئی لوگ اِس دن اپنے ساتھی کے ساتھ رومانوی ڈنر پرجا تے ہیں اور ایک دوسرے کو کارڈز اور تحائف دیتے ہیں۔ سویڈن میں اِس دن کو ” آل ہارٹس ڈے” کہا جاتا ہے یہاں یہ دن پہلی بار 1960 میں منایا گیا جس کی بنیاد فلاور انڈسٹر ی نے رکھی تھی۔ فن لینڈ میں اِس دن کو”فرینڈ ڈے”کہا جاتا ہے اور اِس دن کو خاص دوستوں کیلئے اور ان کی یاد میںمنایا جاتا ہے۔ سلوانیا اور رومانیا میں یہ دن عام مغربی ممالک کی طرح منایا جاتا ہے۔ اور اِس دن روایتی طور پر چھٹی ہوتی ہے۔ برازیل میں اکیس جون کو” بوائے فرینڈ ڈے” منایا جاتا ہے اور اِس دن جوڑے آپس میں چاکلیٹ، تحائف، کارڈز اور پھولوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

جاپان، چین، کوریا اور دوسرے ایشیائی ممالک میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے اور اِس دن تحائف، کارڈز اور خاص طور پر ایک دوسرے کو سر خ گلاب تحفے اور محبت کی نشانی کے طور پر دئیے جاتے ہیں۔ بھارت میں بھی اِس دن کو بہت جوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔ کئی بھارتی تنظیمیں اِس دن کو منانے کے خلاف ہیں۔کئی ممالک میں اِس دن کو منانے پر پابندی ہے جن میں ایران، سعودی عرب اور دوسرے کئی ممالک شامل ہیں۔ سعودی عرب میں ویلنٹائن ڈے پر تحائف کے طور پر دی جانے والی چیزوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔پاکستان میں بھی یہ دن منانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ٹی وی چینلز پر اِس دن کی خصوصی نشریات دکھائی جاتی ہیں۔ ایک دوسرے کو تحائف دینا، تفر یحی مقامات پر جانا اور کھانے کی دعوت دینا اِس دن کی مناسبت سے عام ہے۔

پہلے محبت قربانی کا جذبہ مانگتی تھی، اب خرچہ مانگتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اِسے بھر پور اندازا میں منانے والے اِس بات سے لاعلم ہیں کہ اِسے کیوں منایا جاتا ہے۔ اِس دن شہر کی سڑکوں پر عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہو جاتے ہیں، بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے اور پھول پھینکتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں جب کہ تماِم پارکوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکیوں نے سرخ لباس زیبِ تن کئے ہوتے ہیں تاکہ اِس دن بھر پور انداز میں لطف اندوز ہوا جا سکے۔ اِب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور پاکستان میں ہرکوئی اِس فیشن کو اپنانے کے لئے سرگرداں ہے۔

ویلنٹائن ڈے کیا ہے یہاں اِس کا ذکر انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ اِسے ایک مغربی رسم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جبکہ بہت سوں کا خیال ہے کہ جب ہم جنگیں لڑنے کے دن منا سکتے ہیں تو سال میں ایک دن باہمی محبت کے نام کیو ں نہیں کرسکتے؟۔ ہمیں مغربی انداز پسند نہیں تو اِپنی مذہبی و معاشرتی اقدار میں رہتے ہوئے بھی ہم یومِ محبت منا سکتے ہیں۔لیکن ایک سوچ یہ بھی ہے کہ ہم جتنے پیسے اِس قسم کی سر گرمیوں پر خرچ کرتے ہیں اگر وہی رقم کسی ضرورت مند کو دے دیں تو کیا زیادہ مناسب نہیں ہو گا؟ ویلنٹائن ڈے کا مطلب ہے

اپنے محبوب کو تحفہ دینا اور محبت نبھانے کا عہد کرنا۔ ویلنٹائن ڈے پر تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ یہ صدیوں پرانی روایت ہے مگر وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ اِب یہ جدید شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جب سے کمیونیکیشن نے فاصلے کم کرنے شروع کیئے ہیں ایک علاقے کے رسم و رواج دوسرے علاقوں میں تیزی سے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ٹی وی، ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ نے اِب گھر کا کوئی فرد ایسا نہیں چھوڑا جو دوسرے خطوں کے رسم ورواج سے متاثر نہ ہواہو۔ انڈیا کی ثقافت کی پاکستان پر یلغار سب کے سامنے ہے۔

ویلنٹائن ڈے بھی عاشقوں کیلئے ایک نعمت بن کر واردہوا ہے۔ اِب آپ جس سے محبت کرتے ہیں مگر اِب تک اظہار کرنے کی جرات نہیں کر پائے اسے صرف پھول یا پھر ایک سستا سا کارڈ بھیج کر اپنے دل کی آواز اس تک پہنچا سکتے ہیں۔ آگے آپ کے محبوب کی مرضی ہے کہ وہ بہت ساری آفروں میں سے کس کی آفر قبول کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہم نے ویلنٹائن ، بسنت اور ہندوانہ طرز کی شادی کی رسومات کو تو بہت آسانی سے اپنا لیا مگر یورپ اور ہندوستان کے اچھے اصولوں کو نہیں اپنایا۔ویلنٹائن ڈے کو عاشقوں یا محبت کرنے والوں کا دن کہا جاتا ہے۔

یہ دنیا کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلا ویلنٹائن 498 عیسوی میں روم میں منایا گیا تھا یعنی 15 سو سال سے بھی زیادہ پہلے مگر محبت کی تاریخ اس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اتنی ہی پرانی جتنا کہ آدم وحوا اگر محبت نہ ہوتی تو دنیامیں اولاد آدم بھی نہ ہوتی۔ مگر محبت ہے کیا؟ شاعر اور ادیب اسے سب سے لطیف اور پاکیزہ جذبہ قرار دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے اوب و فن میں جتنا کچھ اس پر تخلیق کیا گیا ہے، اس کا عشر عشیر بھی کسی اور موضوع کے حصے میں نہیں آیا۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ محبت کا جذبہ کرہ ارض کے ہر ذی روح مخلوق میں موجود ہے۔

طبی ماہرین کا کہناہے کہ محبت دماغ کے ایک مخصوص حصے میں رونما ہونے والی کیمیائی تبدیلی ہے۔ یہ اس تبدیلی کے متشابہ ہے جو کوئی نشہ آور چیز کھانے سے دماغ میں پیدا ہوتی ہے۔طب یونانی میں اسے دیوانگی قراردیتے ہوئے اس کا علاج تجویز کیا گیا ہے۔ نفسیاتی ماہرین محبت کو عورت اور مرد کے درمیان ایک دوسرے کے لیے موجود فطری کشش کا نام دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ماؤں کواپنے بیٹوں سے، بہنوں کو اپنے بھائیوں سے اور بیٹیوں کو اپنے والد سے زیادہ پیار ہوتا ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ صنف مخالف سے محبت کے سوا تمام محبتیں معاشرے اور ماحول کے تقاضوں، ضرورتوں اور ان کے اثرات کے تابع ہوتی ہیں۔رہی ان کی محبت تو اس کا اظہار ہر روز ہونا چاہئے تو پھر صرف 14 فروری کا دن ہی کیوں؟اور اگر ویلنٹائن ڈے اظہار محبت کا وہ دن ہے جس روز آپ جسے پیار کر تے ہیں اس کی جانب اپنے احساس کا اظہار کرتے ہیں تو پھر یہ دن ان تمام افراد کیلئے ہونا چاہئے جن سے آپ کو پیار ہے۔ یہ افراد آپ کے والدین، بھائی، بہنیں، دوست یا رشتہ دار ہو سکتے ہیں کیونکہ محبت صرف ایک شخص کیلئے نہیں ہوتی ہے۔ اگر ویلنٹائن ڈے پیارکے اظہار کا دن ہے تو اِس میں اِن تمام لوگوں کو کیوں نہ شامل کریں جن سے آپ محبت کرتے ہیں؟

Sajjad Ali Shakir

Sajjad Ali Shakir

تحریر سجاد علی شاکر
sajjadalishakir@gmail.com 03226390480