counter easy hit

بل کلنٹن نے صدام پر بمباری مونیکا لیونسکی سکینڈل سے توجہ ہٹانے کیلئے کی تھی

Bill-Clinton-Bomb-Iraq-&-Sadam-Hussian-in-1998-to-divert-attentions-from-Monica-Levinsky-Scandal2

Bill-Clinton-Bomb-Iraq-&-Sadam-Hussian-in-1998-to-divert-attentions-from-Monica-Levinsky-Scandal3

Bill-Clinton-Bomb-Iraq-&-Sadam-Hussian-in-1998-to-divert-attentions-from-Monica-Levinsky-Scandal3

واشنگٹن(یس ویب ڈیسک)بل کلنٹن نے 1998میں عراق پر بمباری مونیکا لیونسکی سکینڈل سے توجہ ہٹانے کیلئے کی تھی ،برطانوی اخبار’ڈیلی میل ‘ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں لکھا کہ یہ دعویٰ ہیلری کلنٹن کی صدارتی مہم کی نائب چیئروومین ہما عابدین کے ایک مسلم جریدے کی طرف سے کیا گیا جس کی وہ بارہ سال تک اسسٹنٹ ایڈیٹر تھی۔

Iraq women near their destroyed house in 1998 after US bombarment

Iraq women near their destroyed house in 1998 after US bombarment

روزنامہ جنگ کے مطابق 2002 میں ایک علمی جریدے میں شائع مضمون میں لکھا گیا کہ 1998 میں عراق پر بل کلنٹن کی طرف سے حملہ صرف اس لئے کیا گیا کہ وہ مونیکا لیونسکی سکینڈل سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ،کلنٹن کی صدارتی مہم کاروں کا دعویٰ ہے کہ عابدین جریدے کی ایڈیٹنگ میں شامل نہیں تھی ،اس کی والدہ اس جریدے کی ایڈیٹر ان چیف تھی جس کے خیال میں نائن الیون واقعے کا ذمہ دار امریکا خود تھا۔ برطانوی اخبار کے

مطابق مسلم جریدے ’مسلم مینارٹی افیئرز‘نے یہ دعویٰ شائع کیا تھا۔دعویٰ کے مطابق بل کلنٹن نے اپنے مونیکا لیونسکی کے معاشقے سے توجہ ہٹانے کیلئے صدام حسین پر بمباری کی۔یہ آرٹیکل ایک2002میں کینڈا کی ایک قانون کی طالبہ سینا علی مسکاتی کی طرف سے لکھا گیا۔اس نے1991کے بعد کے حالات کے متعلق لکھا جب صدام حسین اقتدار میں تھے۔
مضمون کے مطابق 1996اور1998میں بھی عراق پر بمباری کی گئی۔عراق بحران نے بل کلنٹن کو فائدہ پہنچایا جو اس وقت ذاتی بحرانوں کا شکار تھے جن میںان کی مہم فنڈنگ سکینڈلز، قانون سازی کی ناکامی اور مونیکا لیونسکی معاشقہ شامل تھے۔ بل کلنٹن کے مواخذے کے مقدمے کی سماعت کے عروج کے وقت انہوں چار دن تک 1998میں عراق پر بموں اور کروز میزائلوں سے حملے کیے جس کا مقصد مونیکا معاشقے سے توجہ ہٹانا تھا ،جارج بش نے عراق پر دوبارہ حملے کا جواز بل کلنٹن کے انہیں حملوںکو بنایا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website