counter easy hit

اک سفر میں منوّر رانا کے ماضی سے مصافحہ

Manowar Rana-Quasim Khursheed

Manowar Rana-Quasim Khursheed

ادھر لگاتار چھ مہینوں سے مختلف پروگراموں میں بہت ہی فعال شمولیت کی وجہ سے میں تھک سا گیا تھا۔ کچھ آرام کرنے کی خواہش تھی۔ لیکن بقیہ کمٹ منٹ بھی پوری شدت کے ساتھ میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ سون پورمیلے 2014 کے آل انڈیا مشاعرے میں بھی مجھے شامل ہونا تھا۔ عجیب کیفیت میں مبتلا تھا کہ کس طرح اپنے آپ کو سنبھال کر اس مشاعرے کا حصہ بنوں۔ ابھی تذبذب میں تھا ہی کہ منتظمین نے خبر دی کہ منوّر رانا تشریف لا چکے ہیں اور ان کی خواہش بھی ہے کہ اس بہانے ہم لوگوں سے ملاقات ہو جائے۔ چونکہ منوّر رانا سے میرے دیرینہ مراسم رہے ہیں اس لئے اپنے آپ کو تیار کرنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ اس مشاعرے میں شامل ہونے کا ارادہ بھی کر لیا۔

طبیعت ناساز ہونے کے باوجود اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور پہلے متعلقہ مقام یعنی سرکٹ ہائوس حاجی پور پہنچا۔ وہاں برآمدے میں ہی کالے لباس میں ملبوس ہمارے ہردلعزیز شاعر اور بڑے بھائی منوّر رانا سے ملاقات ہو گئی۔ وہ کھِل اٹھے۔ کہا ”بہت اچھا کیا جو آپ آ گئے” اور پھر یکے بعد دیگرے عزم شاکری، طاہر فراز، کلیم قیصر، شبینہ ادیب، جوہر کانپوری،تنگ عنایت پوری اور دوسرے مشاہیر شعرائے کرام سے ملاقات ہوئی۔ پروگرام کے روحِ رواں بہار قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب سلیم پرویز تو بیحد شاد تھے کہ کامیاب ترین شاعروں کی ایسی گیلیکسی کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

انہیں یقین تھا کہ یہ مشاعرہ پھر سے ایک تاریخ رقم کریگا۔ ہم لوگ مختلف گاڑیوں میں سوار ہوکر سون پر میلہ پہنچے۔ پورا سون پور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ چاروں طرف روشنی کا آبشار پھوٹ رہا ہو۔ ایک بہت ہی بڑے اور انتہائی سجے سنورے ہوئے پنڈال میں ہزاروں شایقین موجود تھے۔ باری باری تمام شعرائے کرام کی آمد کی خبر لوگوں کو دی جا رہی تھی۔ منتظم اور شاعر خورشید ساحل تو گویا پھولے نہیں سما رہے تھے کیوں کہ ان کی بے پناہ محنتوں سے بھی یہاں ایسے کامیاب ترین پروگراموں کا انعقاد ہوا کرتا ہے۔ محترم سلیم پرویز نے بھی بارہا ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ خورشید ساحل جیسے لوگوں کی بے لوث خدمات سے ہم ادب کی گیسو کو سنوارنے میں کامیاب ہوا کرتے ہیں۔

مشاعرہ پوری آب و تاب کے ساتھ چلتا رہا۔ صدارت منوّر رانا کو سونپی گئی۔ نظامت کے فرائض ہر دلعزیز بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر تنگ عنایت پوری نے بحسن خوبی انجام دیئے۔ یکے بعد دیگرے شعرائے کرام مائک پر تشریف لاتے رہے اور اپنے کلام سے پورے مجمے کو سحرزدہ کرتے رہے۔ جن میں کلیم قیصر، عزم شاکری، شبینہ ادیب، طاہر فراز، جوہر کانپوری، قاسم خورشید، شنکر کیموری، تنگ عنایت پوری، خورشید ساحل اور دوسرے شعرائے کرام شامل تھے۔ مگر سب کی نگاہ منوّر رانا پرتھی۔ لوگ باضابطہ طور پر منوّر رانا کو سننا چاہتے تھے۔ کیوںکہ لمبے وقفے کے بعد منوّر رانا بہار تشریف لائے تھے۔

دیر تک منوّر رانا کے اشعار لوگوں کے ذہن و دل میں گھر بناتے رہے۔ انہیں بار بار سننے کی فرمائش ہوتی رہی اور نہ جانے کب رات کے پچھلے پہر کے آنے کی آہٹ سنائی دینے لگی۔ پھر اچانک ساعتیں تھم گئیں۔ مشاعرہ بظاہر اختتام پذیر ہوا۔ مگر ہزاروں شایقین کے اندر تشنگی باقی رہی۔ بانیان مشاعرہ سلیم پرویز صاحب نے انہیں یقین دلایا کہ اگلی بار ہم مشاعرے کو عالمی سطح پر لے جائیں گے اورشایقین کو مزید مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔

مشاعرے کے اختتام کے بعد کا ماحول ایک طرح سے جدائی کا ماحول ہوا کرتا ہے اور یہیں رشتے آپس میں ملتے بھی ہیں اور کھُلتے بھی ہیں۔ عزم شاکری بہت جذباتی تھے۔ کہنے لگے ”یار میرا موبائل اٹھا لیا کرو۔ میں جانتا ہوں کہ آپ بہت مصروف رہتے ہیں۔” شبینہ ادیب نے ایک بار پھر اپنے بے پناہ خلوص کا اظہار کرتے ہوئے بعض جذباتی مکالمے کئے۔ طاہر فراز کے خاموش لب رک رک کر جدائی کا اظہار کر رہے تھے اور میں انہیں یقین دلا رہا تھا کہ انشاء اللہ جلد ہی ملاقات ہوگی۔ منور رانا میرے ساتھ دیر تک بیٹھے رہے۔ خوش گپیاں ہوئیں۔ انہوں سرگوشی کرتے ہوئے مجھے ایک خوبصورت لطیفہ سنایا۔ (یہ لطیفہ میں شرفاء کو نہیں سنا سکتا کیوں کہ ان کے محظوظ ہونے میں تہذیب کی بعض ناگزیر دیواریں حائل ہو جائیں گی۔) تھوڑی دیر بعد منوّر جذباتی ہو گئے۔ ہم دیر تک مختلف شعری محاسن پر باتیں کرتے رہے۔ لوگ ہماری تصویریں اتارتے رہے۔

منوّر رانا ایک بار پھر ماضی اور حال کے امتزاج سے میرے اندر تیزی سے ابھر رہے تھے۔ یہ خبر انہیں بھی نہیں تھی۔ میں نے الوداعی ساعتوں میں صرف مسکرا کر ان سے کچھ کہے بغیر چپ چاپ اپنی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور سے کہا چلو اب گھر چلتے ہیں۔ رات کی ڈھیر ساری ساعتیں ابھی باقی تھیں۔ منوّر رانا نے چلنے سے ذرا پہلے کہا تھا ”یار مجھ پر کچھ لکھ دو۔” میں نے حامی میں سر ہلایا تھا کیوں کہ ان کا کوئی قرض تو میرے اوپر تھا ہی۔ انہوں نے اپنی لگ بھگ تمام کتابیں مجھے پہلے ہی دے رکھی ہیں۔ کبھی کبھی مختصر تاثرات کے بعد میں خاموش ہو گیا۔ تفصیل سے کچھ لکھنے کا موقع نہیں مل سکا۔ مگر میں نے سوچ لیا کہ لکھوں گا ضرور۔ جب رات کا عالم ہو، سوچ تیزی کے ساتھ سفر طے کر رہی ہو تو پھر ذہن میں مختلف خیالات ضرور ابھرتے ہیں۔ گھر لوٹتے ہوئے میرا بھی کچھ یہی عالم تھا۔ منوّر رانا کے کئی اشعار میرے ذہن میں ابھر رہے تھے۔
کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا
تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا
وہ جسکے واسطے پردیس جا رہا ہوں میں
بچھڑتے وقت اسی کی طرف نہیں دیکھا
٭٭
وقت نے چہرے کو بخشی ہیں خراشیں ورنہ
کچھ دنوں پہلے یہ چہرا بھی غزل لگتا تھا
٭٭
ہم کچھ ایسے تیرے دیدار میں کھو جاتے ہیں
جیسے بچے بھرے بازار میں کھو جاتے ہیں
٭٭
یہ چڑیا بھی مری بیٹی سے کتنی ملتی جلتی ہے
کہیں بھی شاخِ گل دیکھے تو جھولا ڈال دیتی ہے
٭٭
بس اسی احساس کی شدت نے بوڑھا کر دیا
ٹوٹے پھوٹے گھر میں اک لڑکی سیانی اور ہے
٭٭
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
٭٭
اگر حریفوں میں ہوتا تو بچ بھی سکتا تھا
غلط کیا جو اسے دوستوں میں چھوڑ آیا
٭٭
یاروں کو مسرت مری دولت پہ ہے لیکن
اک ماں ہے جو بس میری خوشی دیکھ کے خوش ہے
٭٭
لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
٭٭
کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوںگے
تجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہے
٭٭

٭٭
رنجش کی آنچ قریۂ جاں تک پہنچ گئی
چھوٹی سی بات بڑھ کے کہاں تک پہنچ گئی
اس خوف سے کہ ملک کا نقشہ بدل نہ جائے
خاموش تھے تو بات یہاں تک پہنچ گئی
٭٭
نئے کمروں میں اب چیزیں پرانی کون رکھتا ہے
پرندوں کے لئے شہروں میں پانی کون رکھتا ہے
ہمیں گرتی ہوئی دیوار کو تھامے رہے ورنہ
سلیقے سے بزرگوں کی نشانی کون رکھتا ہے
٭٭
ہوا کے رخ پہ رہنے دو یہ جلنا سیکھ جائیگا
کہ بچہ لڑکھڑائے گا تو چلنا سیکھ جائیگا
٭٭
یا پھر یہ کہ
کبھی تھکن کے اثر کا پتہ نہیں چلتا
وہ ساتھ ہو تو سفر کا پتہ نہیں چلتا
٭٭

ہم دور تک نکل آئے تھے۔ چند میلوں کی دوری اور طے کرنی تھی۔ رات کے گہرے سناٹے میں گاڑی تیزی سے رواں تھی۔ شاید بہت تیز۔ مگر خیال کے کینوس پر منوّر رانا حاوی تھے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔پھر میں سوچنے لگاکہ آخر اتنے سارے تخلیق کاروں سے الگ انہوں نے کیسے اپنی الگ راہ بنائی۔ ایسا ہونا تو ممکن نہیں ہے۔ شاید فطری بھی نہیں کیوں کہ اشعار اپنی روایت، اپنے مزاج، اپنے ڈکشن، اپنے اسکول کی وجہ سے پہنچانے جاتے ہیں۔ یہ منوّر رانا بیچ میں کہاں سے آگئے اور کیسے آ گئے۔ بھلا سوچئے گھر کا ماحول بھی ایسا نہیں جہاں ادب کی آبیاری ہو رہی ہو۔ ان کا بچپن تگ و دو میں گذر رہا تھا۔

وہ دھوپ کا پربت کاٹ رہے تھے۔ ان کی ماں تمام رات دہلیز پر اپنی آنکھوں کے چراغ روشن رکھتی تھیں کہ کسی لمحے ان کا شوہر آن کھڑا ہو سکتا تھا۔ منوّر جانتے تھے سب کچھ۔ منوّر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا محسوس کیا۔ ان کی ماں اکثر فاقے میں رہا کرتی تھیں اور والد لگاتار رزق کے لئے کئی کئی روز تک اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھ کر تیز رفتار ٹرک چلاتے رہتے۔ انہیں اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کو سنبھالنے کی فکر بھی ہمیشہ رہتی۔ ساتھ ہی بچوں کے مستقبل کا بھی خیال ہوتا۔

منوّر رانا کو پڑھتے ہوئے یہ خیال تو بارہا ذہن میں آیا کہ تخلیق صحیح معنوں میں ایک وجدانی کیفیت کا نام ہے۔ اگر جد و جہد اور زمینی سچائیاں ساتھ ہو جائیں تو پھر ایک نیا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ منوّر کا ماضی ایسا ہے جہاں دور تک صرف اور صرف کڑی دھوپ کی شدت ہے مگر باپ کی شفقت اور ماں کی بے پناہ محبتوں نے انہیں ایک نیا صحیفہ گڑھنے کا حوصلہ دیا۔ نثر بھی ایسی کہ پڑھنے والا کوئی بھی حساس قاری ایک کیفیت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ منوّر خود کہتے ہیں یا میں کہوں کہ انہوںنے لکھا بھی ہے کہـ

”زخم کیسا بھی ہو کریدیئے تو اچھا لگتاہے۔ ماضی کیسا بھی رہا ہو سوچئے تو مزا آتا ہے۔ بچپن جیسا بھی گذرا ہو راج سنگھاسن سے اچھا ہوتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم زمینداری کیسی ہوتی ہے۔ کیوںکہ میں کرائے کے گھر میں پیدا ہوا۔ میں نہیں جانتا خوش حالی کیا ہوتی ہے، کیوںکہ میں نے بارہا ماں کو بھوکے پیٹ سوتے دیکھا ہے۔ مجھے کیا پتہ زمیدار کیسے ہوتے ہیں، کیوںکہ میں نے مدتوں اپنے ابّو کے ہاتھوں میں ٹر ک کا اسٹیرنگ دیکھا ہے۔ میں نے بہت سے خواب دیکھے ہیں۔ ممکن ہے میرے ابّو نے بھی خواب دیکھے ہوں کیوں کہ ایک تھکا ماندا ٹرک ڈرائیور بہت بے خبری کی نیند سوتا ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے میری ماں نے کبھی خواب نہیں دیکھا تھا، کیوںکہ خواب تو وہ آنکھیں دیکھتی ہیں جو سوتی ہیں، لیکن میں نے امی کو کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کی آنکھیں ہمیشہ گھر کی دہلیز پر رکھی دیکھی ہیں، جسم جائے نماز پر رکھا دیکھا ہے

جوانی اس ٹرک ڈرائیور کے انتظار میں قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھی ہے جو میرے ابّو بھی تھے اور امی کے سر کا آنچل بھی!” یہ اعتراف ہے کہ جب کبھی ہم منوّر رانا کو سوچتے ہیں تو ان کی خود نوشت کے اوراق پر بھی کسی نہ کسی طور پر نگاہ رہتی ہے۔ اسی لئے ہم نے کہا ہے کہ تخلیق کار ایسا پینوراما تبھی گڑھ سکتا ہے جب بہت سی سچائیاں جو ماضی کے نہاں خانوں میں چھپی بیٹھی ہیں، ہم انہیں نہ صرف یہ کہ زندہ رکھیں بلکہ اپنی یادوں کے جزدان سے نہایت عقیدت کے ساتھ اپنی نم آنکھوں سے انہیں چومیں بھی اور حرف حرف روشن تحریروں کو زندہ و تابندہ بھی کریں۔ در اصل یہ کسی سوچ یا کسی منصوبے کا حصہ تو ہو نہیں سکتا کیوں کہ حادثوں کی اپنی الگ تہذیب ہوا کرتی ہے۔

کچھ لوگ اس حصار میں مر جاتے ہیں مگر ایسے بھی افراد ہیں جو حادثوں سے مرتے نہیں بلکہ زندہ و تابندہ ہوتے ہیں۔ منوّر رانا کی پوری شاعری ماں کی اس محبت کی طرح ہے جو یقینا بے لوث ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خوشبو کا پتہ دیتی ہے جو صحیح معنوں میں ہماری زندگیوں کو معتبر اور مہذب بھی بنانے کے اہل ہو۔ کیوںکہ یہ وہ دولت ہے جو ہر کسی کو وراثت میں نہیں ملتی اور شاید کوئی اس کی خواہش بھی نہیں کرتا کیوںکہ یہاں بے پناہ اذیتیں ہیں، آزمائشوں کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ ٹوٹی امیدوں کی موہوم سی لکیریں بھی نہیں ہوا کرتیں۔ اب ایسے میں بھلا کوئی کیسے اپنے لئے وہ راہ اختیار کرے جہاں صرف اور صرف آگ کا دریا ہے۔

اور پھر دیر تک میں خاموش رہا…….. سوچ کی و سعتیں طویل ہوتی گئیں…….. سوچنے لگا کہ یہ گفتگو شاید بند نہ ہو کیوں کہ جب کوئی اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہے تو یہ سلسلہ تادم حیات جاری رہتا ہے۔ منوّر بھی میری ان ہی ساعتوں کے ہم سفر ہیں کیوں کہ کہیں نہ کہیں محسوس کرتا ہوں کہ میرے بچپن کی بہت ساری محرومیوں، ناکامیوں، مایوسیوں میں منوّر کی تخلیقات مشعل راہ بنتی رہی ہیں۔ جب وہ روتے ہیں تو میری آنکھیں بھی نم ہوتی ہیں اس باپ کے لئے جسے میں نے اپنے بچپن میں کھویا تھا۔ جب وہ روتے ہیں تو مجھے بھی اپنی ماں کی وہ تمامتر قربانیاں یاد آتی ہیں جو اس نے اپنے جوان شوہر کی موت کے بعد ہم تین معصوم بچوں کے لئے دی تھیں۔ فاقے کی مہذب تاریخ سے ہمارا بچپن بھی آشنا رہا ہے اور اب یہی ماضی ہمارے لئے ایک ایسی طاقت بن گیا ہے جو آندھیوں میں بھی اپنے چراغ روشن کرنے کا حوصلہ باقی رکھے ہوئے ہے۔
مسلسل گیسوئوں کی برہمی اچھی نہیں ہوتی
ہوا سب کے لئے یہ موسمی اچھی نہیں ہوتی
منوّر ماں کے آگے یوں کبھی کھُل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

تحریر: ڈاکٹر قاسم خورشید
موبائل : 09334079876