ایک ہی دن پیدا ہونے والے جڑواں بچے، لیکن ان کے حیاتیاتی والدین مختلف ہوں — یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ آسٹریلیا کے کوئنز لینڈ میں پیش آنے والا ایک حقیقی اور انتہائی نایاب واقعہ ہے۔ ایک خاتون نے بیک وقت دو بچوں کو جنم دیا، جن میں سے ایک کا تعلق نیشنل سروگیسی یعنی کرائے کی کوکھ سے تھا جبکہ دوسرا قدرتی طریقے سے ہوا حمل تھا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کو کوئنز لینڈ کی چلڈرن کورٹ کے اس فیصلے تک رسائی حاصل ہوئی جس میں اس غیر معمولی معاملے کو حل کیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ معاملہ آسٹریلوی قانون سازی کے دائرے میں بھی نہیں آتا تھا، کیونکہ ملک میں سروگیسی سے متعلق قوانین ایسی صورتحال پر خاموش ہیں جہاں ایک ہی پیدائش میں دو بچوں کے والدین مختلف ہوں۔
کیسے پیش آیا یہ انوکھا واقعہ؟
عدالتی فیصلے میں فریقین کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم ان کی شناخت مخففات سے کی گئی ہے۔ پہلا جوڑا، جسے BNJ اور DRJ کہا گیا، قدرتی طریقے سے اولاد حاصل کرنے سے قاصر تھا۔ ان کی ملاقات ایک دوسرے جوڑے DZ اور FZ سے ہوئی جن کے پہلے سے پانچ بچے تھے۔
DZ نے رضاکارانہ طور پر سروگیٹ ماں بننے پر آمادگی ظاہر کی۔ اپریل 2025 میں ان کے رحم میں IVF کے ذریعے ایک جنین منتقل کیا گیا۔ لیکن صرف دو ہفتے بعد ہسپتال میں الٹراساؤنڈ کے دوران ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوا: DZ کے رحم میں دو بچے پرورش پا رہے تھے۔
ایک بچی سروگیسی کے ذریعے منتقل کیے گئے جنین سے وجود میں آئی تھی جبکہ دوسرا بچہ ایک قدرتی حمل کا نتیجہ تھا جو علیحدہ طور پر ہوا تھا۔ یہ قدرتی حمل جوڑے کی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا۔
دونوں بچوں کی پیدائش نومبر 2025 میں ایک ہی دن ہوئی۔ بیٹی کا تعلق سروگیسی سے تھا جبکہ بیٹا قدرتی حمل سے پیدا ہوا تھا۔
عدالت نے کیسے مسئلہ حل کیا؟
بچوں کی نسبتی شناخت پر کوئی تنازع نہیں تھا۔ گزشتہ دس مہینوں سے دونوں بچے اپنے اپنے حیاتیاتی والدین کے ساتھ پرورش پا رہے تھے۔ تاہم قانونی طور پر BNJ اور DRJ کو اپنی بیٹی کی قانونی سرپرستی حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔
دونوں جوڑوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ دونوں بچے ایک دوسرے کو جانتے ہوئے بڑے ہوں گے اور مناسب عمر پر انہیں اپنی خاندانی حیثیت کے بارے میں سمجھایا جائے گا۔
جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ انہوں نے اس کیس کے “خصوصی حالات” کو مدنظر رکھا۔ عدالت نے دونوں بچوں کو “حمل کے جڑواں” یعنی gestational twins قرار دیا نہ کہ قانونی اصطلاح میں “پیدائشی بہن بھائی”۔ اس قانونی تشریح نے سروگیسی قوانین کی ممکنہ رکاوٹ کو دور کر دیا۔
بچوں کے بہترین مفاد کو ترجیح
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان “مشترکہ مفاہمت” موجود ہے۔ اس کا مقصد وقت کے ساتھ ساتھ بچی کے “بہترین مفاد” کو یقینی بنانا ہے۔
یہ معاملہ آسٹریلیا میں سروگیسی قوانین کی پیچیدگیوں اور انسانی تولیدی ٹیکنالوجی کے نئے چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں لیکن ان کے قانونی اور سماجی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
دونوں بچے اب اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے درمیان ایک منفرد رشتہ قائم ہے جو انہیں زندگی بھر ایک دوسرے سے جوڑے رکھے گا۔

