پمز ہسپتال سانحہ، عالمی برادری کی تعزیت اور امداد کی یقین دہانی
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے اس واقعے کو والدین کے لیے ناقابل تصور المیہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کا تعزیتی بیان
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں جاں بحق بچوں کے والدین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی موت والدین کے لیے ایسا المیہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ پاکستانی حکومت کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
سعودی عرب اور یونیسیف کی جانب سے اظہار یکجہتی
سعودی عرب نے بھی پمز ہسپتال کے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں حکومت پاکستان اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے بھی اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے بعد کم از کم 14 نوزائیدہ بچوں کی المناک ہلاکت پر گہرے رنج کا اظہار کیا تھا۔ یونیسیف نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں اور اس تباہ کن واقعے سے متاثرہ تمام افراد سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔
صحت مراکز میں فائر سیفٹی معیارات پر فوری نظرثانی کا مطالبہ
یونیسیف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر نوزائیدہ بچہ محفوظ زندگی کا حق رکھتا ہے اور ہر ماں اور بچے کو ایک محفوظ اور پرامن صحت مرکز میں دیکھ بھال ملنی چاہیے۔ عالمی ادارے نے صحت مراکز میں آگ سے بچاؤ اور حفاظتی معیارات پر فوری نظرثانی اور انہیں مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا تاکہ ہر ماں اور بچہ محفوظ ماحول میں ضروری دیکھ بھال حاصل کر سکے۔
ملک بھر میں صحت مراکز کی حفاظتی صورتحال پر سوالات
واضح رہے کہ پمز ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس سانحے کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کے حوالے سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور ملک بھر میں صحت مراکز کی حفاظتی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

