کھٹمنڈو: نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد لاپتہ ہیں۔ جمعرات 27 اگست کو دارالحکومت کھٹمنڈو کے اسپتالوں کے باہر درجنوں افراد اپنے پیاروں کی خبر جاننے کے لیے بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔
اسپتالوں کے باہر لواحقین کی پریشانی
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں افراد دارالحکومت کے ایک اسپتال کے باہر جمع ہیں، جہاں زندہ بچ جانے والوں کو علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا ہے۔ باہر موجود خاندان پریشانی کے عالم میں انتظار کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کے عزیز محفوظ ہیں، ملبے تلے دبے ہیں یا لاپتہ ہیں۔
لاپتہ شوہر کی تلاش میں اہلیہ کی التجا
ایک لاپتہ شخص کی اہلیہ رام کماری شریستھا نے بی بی سی کو بتایا: “یہ میرے شوہر ہیں۔ وہ ڈرائیور کے کام کے سلسلے میں راسووا شہر جا رہے تھے۔ کل رات 8 بجے تک ان سے رابطہ ہوتا رہا، لیکن آج صبح میں انہیں کال نہیں کر سکی۔ ان کا فون بند تھا۔”
کھٹمنڈو کے بیر اسپتال کے باہر صباس کھٹانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: “میرا بڑا بھائی لاپتہ افراد میں شامل ہے۔ ہم اسے تلاش کر رہے ہیں۔”
سعودی انگریزی میڈیا عرب نیوز اور العربیہ انگلش کی جانب سے شائع ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ خاندان درد میں ڈوبے ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں اور آنسو پونچھ رہے ہیں۔
زخمیوں کی فہرستیں اور لاپتہ غیر ملکی
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کئی افراد اسپتالوں کی جانب سے جاری کردہ زخمیوں کی فہرستیں دیکھ رہے ہیں یا ان کی تصاویر لے رہے ہیں۔
اسپتالوں کے باہر امدادی کارکن لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 180 افراد ہلاک اور 1,300 لاپتہ ہیں، جن میں سینکڑوں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق چار فرانسیسی شہری بھی لاپتہ ہیں، تاہم فرانسیسی وزارت خارجہ نے ابھی تک اس تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
تباہ کن سیلاب کے 24 گھنٹے بعد نیپال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق 823 افراد سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ ان میں 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
سرحد کے دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تبت میں گیئرونگ بندرگاہ کو دفن کرنے والے “مٹی کے سیلاب” کے بعد 558 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شامل ہیں۔
سیلاب کی وجوہات اور بین الاقوامی ردعمل
ماہرین کے مطابق زلزلے اور برفانی تودے گرنے جیسے عوامل نے نیپال میں اچانک آنے والے ان خوفناک سیلابوں کو جنم دیا۔ لاپتہ افراد میں مختلف ممالک کے سیاحوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں تک رسائی مشکل ہے اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں بھیج دی ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

