پی آئی ایم ایس سانحہ: انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں افسران اور عملے کی غفلت ثابت
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں پی آئی ایم ایس ہسپتال کے افسران اور عملے کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔
ریسکیو آپریشن میں شدید رکاوٹیں، دروازے مقفل اور عملہ غیر حاضر
رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو متاثرہ علاقے تک پہنچنے میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دروازے مقفل تھے، تکنیکی عملہ موقع پر موجود نہیں تھا اور آگ بجھانے کا مناسب سامان بھی دستیاب نہیں تھا۔ ریسکیو ٹیم کو علاقے میں داخل ہونے کے لیے دیواریں تک توڑنی پڑیں۔
عملے کی تربیت کا فقدان اور بروقت ردعمل میں ناکامی
انکوائری رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ہسپتال کے عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب تربیت نہیں دی گئی تھی۔ کمیٹی نے آگ لگنے کی اطلاع ملنے سے لے کر فائر بریگیڈ کی آمد تک کے تمام اوقات کا جائزہ لیا۔
وزیراعظم کمیٹی کو دی گئی 48 گھنٹے کی مہلت آج ختم ہو رہی ہے جبکہ کمیٹی پانچ روز کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔
30 سے زائد ملازمین کے بیانات قلمبند
کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز اور نرسز سمیت 30 سے زائد ملازمین کے بیانات ریکارڈ کیے۔ چلڈرن وارڈ میں تعینات 18 سے زائد سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
بائیو میٹرک ریکارڈ اور ریسکیو ردعمل کا تفصیلی جائزہ
واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کا بائیو میٹرک ریکارڈ چیک کیا گیا۔ فائر بریگیڈ کے عملے اور ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ ریسکیو ٹیموں کے ردعمل کے اوقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
عدالتی کمیشن کے قیام کی استدعا
دریں اثنا، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے متعلقہ حکام کو دوبارہ خط لکھا ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی آئی ایم ایس سانحے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
پی آئی ایم ایس انتظامیہ نے بھی وزیراعظم کمیٹی کے ساتھ ساتھ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک علیحدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی نے جمعرات کو ہسپتال کے نرسری سے سی سی ٹی وی فوٹیج تحویل میں لی، عملے کے بیانات ریکارڈ کیے اور فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا سخت موقف
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے پی آئی ایم ایس سانحے کا جائزہ لیتے ہوئے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے ہسپتال کا دورہ کیا اور آگ لگنے کی وجہ کے حوالے سے متضاد بیانات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بتایا گیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے شروع ہوئی لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ اے سی چل ہی نہیں رہا تھا۔
ڈاکٹر مہیش کمار نے اس وضاحت پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے جیسے تمام نرسوں کو ایک ساتھ بٹھا کر ایک ہی جیسا بیان رٹوا دیا گیا ہو۔

