راولپنڈی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کے دورے پر آئے ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ کے وفد سے ملاقات کی۔ وفد میں متعدد ممالک کے طلبہ شامل تھے۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی پیش رفت، پاکستان کے سیکیورٹی تناظر اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر مندی پر زور
جنرل سید عاصم منیر نے نوجوانوں میں تعلیم، ہنر سازی، کاروباری صلاحیتوں اور حقائق پر مبنی تجزیے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے سے متاثرہ موجودہ غیر یقینی دنیا میں نوجوان بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آرمی چیف نے طلبہ کو درپیش عالمی چیلنجز کے تناظر میں تنقیدی سوچ اور مستند معلومات کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
ہارورڈ طلبہ کا پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر
ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ نے پاکستان کے جاری دورے کے دوران اپنے خوشگوار تجربات شیئر کیے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی عوام کے کشادہ دل اور مہمان نوازی کو سراہا۔
طلبہ نے پاکستان کی بے پناہ صلاحیتوں اور مواقع کو بھی اجاگر کیا اور ملک کے معاشی اور سماجی امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا۔
علاقائی سلامتی اور امن کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو
ملاقات میں علاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر کھل کر بات چیت ہوئی۔ آرمی چیف نے پاکستان کے امن پسند کردار اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ملک کے عزم کو واضح کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مثبت تعلقات کا خواہاں ہے۔
طلبہ نے عالمی تناظر میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
نوجوانوں میں تعلیم اور کاروباری مہارت کی اہمیت
آرمی چیف نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ہی کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تعلیم کے دوران حاصل کردہ علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے ممالک کی ترقی میں حصہ لیں۔
کاروباری سوچ اور اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دے کر نوجوان نہ صرف اپنی معاشی خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں بلکہ معاشرتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستانی عوام کی مہمان نوازی پر طلبہ کا اعتراف
ہارورڈ بزنس اسکول کے طلبہ نے پاکستان میں اپنے قیام کو یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کی گرمجوشی اور مہمان نوازی نے ان کے دل جیت لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی اور قدرتی حسن نے انہیں متاثر کیا ہے۔
طلبہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کے مواقع میسر آئیں گے جس سے مختلف ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم مزید بہتر ہوگی۔

