کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے سماعت کی صدارت کرتے ہوئے سوگوار خاندان کو یقین دلایا کہ معاملے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جائے گی۔
میر رضا کے وکیل اور والدین جوڈیشل کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہ ان کا پہلا جوڈیشل کمیشن ہے اور انہوں نے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میر رضا کے والدین کے دکھ کو کم کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔
کمیشن تحقیقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن خاندان کی جانب سے اٹھائے گئے تمام سوالات کے جوابات فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن سرجن کے کردار، تفتیش، کیس سے متعلق شواہد اور دیگر متعلقہ تفصیلات کا جائزہ لے گا۔
انہوں نے خاندان پر زور دیا کہ وہ کمیشن پر اعتماد کریں اور کہا کہ ان کی رائے میں کمیشن کو عوامی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تفتیشی ٹیم اس معاملے پر کام کر رہی ہے۔
میر رضا کے والد کا موقف
کمیشن کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کے والد نے کہا کہ 29 دن گزر چکے ہیں لیکن کیس میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔
جسٹس عمر سیال نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں بھی ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس صرف میر رضا کا نہیں بلکہ انصاف کے متلاشی ہر فرد کا معاملہ ہے۔
کمیشن کی تشکیل کا پس منظر
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اس لیے عمل میں لائی گئی تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تفتیشی عمل، طبی عملے کے کردار اور شواہد کی جانچ پڑتال کرے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی عوامی ہونے سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور متاثرہ خاندان کے تحفظات دور کرنے میں مدد ملے گی۔

