yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشافسنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف
    • لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہلاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ
    بین الاقوامی خبریں
    • سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشافسنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف
    • امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگاامریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہلاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایک تجاویز سے بھر پور تحریر

MH Kazmi July 16, 2019 1 min read
Written by Dr. Abdul Qadeer Khan's suggestion
Share this:

Written by Dr. Abdul Qadeer Khan's suggestion

لاہور (ویب ڈیسک) نئی حکومت کی نیا پاکستان پالیسی نے ملک کی معیشت کا بخیّہ اُدھیڑ دیا ہے۔ غریب، امیر، صنعتکار، بزنس مین غرض ہر طبقہ ہی پریشانی اور بے چینی کا شکار ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ حکومت کے پاس ایک بڑی ٹیم معاشی ماہرین کی ہے نامور سائنسدان اور کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ اکنامسٹ نہیں ہیں، یہ بین الاقوامی مالی اداروں کی پالیسی کے نافذ کرنے والے ہیں اور ان بین الاقوامی مالی اداروں کی پالیسی اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ چیدہ چیدہ ملکوں کی معیشت کو آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پرتباہ کر کے انہیں قرض کے ذریعے غلام بنا دیا جائے۔ آئیے حکومت کی معاشی پالیسی اور پہلے بجٹ پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں۔ میں چونکہ مالی معاملات کا طالب علم ہوں اور نا ہی استاد و ماہر، ایک پڑھے لکھے شہری کی حیثیت سے جو کچھ سمجھ میں آیا ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔موجودہ حکومت کا پہلا باقاعدہ بجٹ 2019-20قومی اسمبلی سے پاس ہوچکا ہے اور منظور شدہ بجٹ پر عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر کے تین سالہ قرض اور اصلاحاتی پروگرام کی منظوری بھی مِل چکی۔ تا دمِ تحریر توقع یہ کی جارہی ہے کہ ایک بلین ڈالر کی پہلی قسط بھی جلد ہی مل جائے گی۔ دوست ممالک سے نقد رقوم اور ادھار تیل کی دستیابی بھی شروع ہوگئی۔ Asset Declaration Schemeکے تحت، خوف کے ماحول میں، 70بلین کے لگ بھگ محصولات بھی مِل گئے اور ایک لاکھ سے زیادہ ٹیکس گزاران کا اضافہ بھی ہوگیا۔ان تمام بظاہر تسلی بخش اقدامات اور حکومتی معاشی ماہرین کی سر توڑ کوششوں کے باوجود، وطن عزیز کا ہر طبقہ، مزدور اور کسان سے لے کر سرمایہ دار اور زمین دار، تنخواہ دار سے لے کر آجر، گرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ سے لے کر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی اترتی چڑھتی قیمت تک اور روزافزوں گرانی اور غیر یقینی صورتحال سے مضطرب اور پریشان ہے۔ آئے دن مختلف طبقات سے صدائے احتجاج سنائی دیتی ہے اور تمام تر سرکاری وضاحتوں کے باوجود مظاہروں اور احتجاج کی خبریں آرہی ہیں۔یہ ہماری قومی اور مِلّی بدقسمتی ہے کہ 1947میں آزادی کے بعد، گزشتہ سات دہائیوں میں، پاکستانی معیشت ہمیشہ ڈگمگاتی رہی اور ہم معاشی آزادی اور خود انحصاری نہ حاصل کر سکے۔ آزادی کے بعد اقتدار میں آنے والی مختلف حکومتیں، بیرونی طاقتوں اور بیرونی ملکوں کے قرضوں اور مالی مدد کی دست نگر رہیں۔ ان ستر سالوں میں عارضی معاشی ترقی کے چھوٹے چھوٹے دور تو آئے مگر حکومتی اقتصادی پالیسیوں میں خامیوں کی وجہ سے اقتصادی ابتری بڑھتی رہی یعنی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ساٹھ کی دہائی میں متحدہ پاکستان 6.8فیصد کی اوسط شرح سے اقتصادی ترقی کررہا تھا۔ ستر کی دہائی میں یہ شرح بڑھنے کے بجائے گھٹ کر 4.8فیصد اوسط رہ گئی۔ دوسری طرف اِسی عرصے میں آبادی ساڑھے چھ کروڑ سے بڑھ کر ساڑھے آٹھ کروڑ ہوگئی۔ جس کی وجہ سے عوامی مشکلات اور بڑھ گئیں۔70کی دہائی ہی میں، مختلف سیاسی نعرے بلند ہوئے، بائیس خاندانوں میں ارتکازِ دولت کا غلغلہ اٹھا۔ بونس وائوچر ، لائیسنس راج، Multiple Exchange Rate، PICIC، IDBPکے سرمایہ کاروں کو قرضوں، جن کی وجہ سے صنعتیں قائم ہوئی تھیں، کرپشن کا تمام تر ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ ایوب خان کے دور کی تاریخی زرعی اور صنعتی ترقی کو صرفِ نظر کر کے پہلی مرتبہ وفاق میں برسرِاقتدار آنے والی سیاسی جماعت یعنی پاکستان پیپلز پارٹی نے معاشی بدحالی کی تمام تر ذمہ داری گزشتہ حکومت، پرائیویٹ سیکڑ اور نوکر شاہی پر ڈالی۔ اس سیاسی اور اقتصادی ماحول میں ملکی معیشت کو سنبھالنے کی ذمہ داری دسمبر 1971میں ڈاکٹر مبشر حسن کو سونپی گئی اور وہ اکتوبر 1974تک وزیر خزانہ کے اہم عہدہ پرفائز رہے۔ڈاکٹر مبشر حسن(جو اَب ماشاء اللہ ستانوے سال کے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی عطا فرمائے، آمین) پنجاب یونیورسٹی سے 1947کے B.Scسول انجینئرنگ کے فارغ التحصیل، IOWA Uniسے ایم ایس سول انجینئرنگ اور غالباً Columbia Uniسے Hydraulic Engineeringمیں PhDہیں۔ وہUET Lahoreکے سول انجینئرنگ شعبہ کے مستند استاد رہے ہیں اور یہ مضمون بڑی لگن اور تندہی سے انجینئرنگ کے طلباء کو پڑھاتے رہے ہیں۔ تاہم معیشت کے مسائل سے اُن کا واسطہ 1967میں سوشلسٹ فلسفہ کے تحت، اُن کی پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں ہوا۔ اور یہیں سے پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں بنانے(یا بگاڑنے) میں ڈاکٹر مبشر حسن کا عمل دخل شروع ہوا جو 1977میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اختتام تک رہا۔پاکستانی معیشت کی تاریخ کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اور چشم دید شخص کی حیثیت سے مجھے وہ دن یاد ہے جب 1972میں فولاد اور کیمیکل سمیت بنیادی صنعتوں کو پرائیویٹ سیکٹر سے لے کر قومیا لیا گیا۔ صنعت کاروں اور سیاست دانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ایک طرف تو سول سرونٹس کو مختلف الزامات کی بنیاد پر ملازمتوں سے فارغ کیا گیا۔ دوسری طرف اِسی نوکر شاہی کو، پرائیویٹ سیکٹر کے قومیائے گئے اثاثے، سپرد کئے گئے۔ ان نئے عارضی مالکوں نے اِن اثاثوں کا بے جا استعمال کیا اور ملکی خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ اقتصادی اصلاحات کے نام پر آٹے اور چاول چھڑنے کی مِلوں، کپاس بیلنے کی مِلوں اور تجارت کو بھی قومیا لیا گیا۔ اس کے اتنے منفی نتائج ایک دم برآمد ہوئے کہ مختصر عرصے کے بعد ہی یہ قدم واپس لینا پڑا اور آج تک یہ واضح نہ ہوسکا کہ اس پالیسی کا خالق، سیاسی حکومت تھی یا کسی معاشی ماہر کا مشورہ تھا۔اصلاحات کے نام پر کئے جانے والے اقدامات کا یہ نتیجہ نکلا کہ پیپلز پارٹی کا روٹی، کپڑا اور مکان کا ایک اچھا وعدہ دھندلا کر رہ گیا۔ سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ نئی ملازمت پیدا ہونے کے بجائے ملازمتیں کم ہونا شروع ہوگئیں۔ پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے کارخانے یا تو بند ہونا شروع ہوگئے یا پھر اُن کی پیداواری استعداد کم ہوتی گئی۔ اقتصادی ترقی کی شرح گرنے لگی۔

Share this:

MH Kazmi

25,243 Articles

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

View All Posts
Black dungeon appears to be seen in the dal: What was the news about Imran Khan's former wife Jamima Khan, a newspaper published Daily Mail on alleged corruption of alleged corruption?
Previous Post دال میں کالا سب کو نظر آنے لگا : شہباز شریف کی مبینہ کرپشن منظر عام پر لانے والے اخبار ڈیلی میل نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان کے حوالے سے کیا شرمناک خبر شائع کی تھی ؟آپ بھی جانیے
Next Post نصرت شہباز کی سب سے بڑی خواہش پوری۔۔
Nusrat Shahbaz's biggest desire is ..

Related Posts

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر

August 16, 2026
سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف

سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف

August 16, 2026
لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

August 16, 2026
امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

August 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.