کرتارپور راہداری کا تاریخی دورہ اور پاکستانیوں کی محبت
ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سنی دیول نے پاکستان میں کرتارپور راہداری کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں وہاں کے لوگوں کی جانب سے بے پناہ محبت ملی۔ اداکار نے انکشاف کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے ان کے لیے غیر معمولی عقیدت کا اظہار کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ایسی فلموں میں کام نہ کریں جن میں پاکستان کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہو۔
پاکستان سے تعلق اور دورے کی تفصیل
اپنی نئی فلم کی تشہیر کے سلسلے میں ایک انٹرویو کے دوران سنی دیول نے پاکستان سے اپنے تعلق اور کرتارپور کے دورے پر کھل کر بات کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی پاکستان گئے ہیں تو اداکار نے وضاحت کی کہ وہ ملک کے اندر کبھی نہیں گئے، لیکن جب کرتارپور راہداری کھولی گئی تو وہ ضرور وہاں آئے تھے۔
وفد میں شمولیت کی وجہ
سنی دیول نے بتایا کہ انہیں کرتارپور جانے والے وفد میں اس لیے شامل کیا گیا تھا کیونکہ یہ مقدس مقام اس وقت ان کے پارلیمانی حلقے میں آتا تھا۔ اداکار نے اس دورے کو اپنے لیے ایک یادگار لمحہ قرار دیا۔
پاکستانی فوجیوں کا جذباتی انداز
دورے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے سنی دیول نے کہا کہ پاکستان میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی فوجیوں کے رویے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں نے ان سے محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ایسی فلموں کا حصہ نہ بنیں جو پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرتی ہوں۔
اداکار کے مطابق، انہوں نے فوجیوں کو جواب دیا کہ وہ ایسی فلموں میں صرف ایک کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ سنی دیول نے اس موقع پر ایک اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ لوگ فطری طور پر اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔
عام شہریوں کے تحفظ پر زور
سنی دیول نے اپنے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ معصوم شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط کاموں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ عام عوام کو اس کی سزا بھگتنی پڑے۔
کرتارپور راہداری کا پس منظر
واضح رہے کہ کرتارپور راہداری نومبر 2019 میں کھولی گئی تھی، جس سے بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستان میں واقع بابا گرو نانک کے آخری آرام گاہ تک بغیر ویزا کے رسائی حاصل ہوئی تھی۔ سنی دیول اس تاریخی افتتاح کے موقع پر موجود وفد کا حصہ تھے۔

