counter easy hit

’سفید پیسہ گلابی کیوں ہے؟

why white money is pink?

why white money is pink?

وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی سیاسی جماعت بی جے پی کی بظاہر دو تمنائیں تھیں۔ انڈیا ایک کیش لیس سوسائٹی بن جائے اور ملک میں رام راج آ جائے، یعنی ایسا مثالی نظام حکومت جو ہندوؤں کے بھگوان رام کے زمانے میں رائج تھا، جب نہ کوئی بے ایمانی کرتا تھا، نہ دھوکہ دہی اور سب کے ساتھ انصاف ہوتا تھا۔

سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں کی مانیں تو ان کی دونوں ہی خواہشات پوری ہوگئی ہیں، وزیر اعظم نے ایک ہی تیر سے دو شکار کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملٹی ٹاسکنگ کے ماہر ہیں۔

انڈیا: نوٹ تبدیل کرنے والوں کی انگلی پر سیاہی کا نشان لگے گا

کرنسی نوٹوں پر پابندی سے کشمیر میں پتھراؤ رک گیا: منوہر پاریکر

انڈیا: کرنسی نوٹ پر پابندی کے بعد بینکوں میں افراتفری

آٹھ نومبر کو نریندر مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار کروڑ کے نوٹ فوراً ختم کرنے کا اعلان کیا اور پلک جھپکتے ہی ملک ‘کیش لیس’ سوسائٹی میں تبدیل ہوگیا۔

اب اس اعلان کو ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی کیش کے درشن بس نصیب والوں کو ہی ہو رہے ہیں۔ بینکوں کے سامنے رش بڑھتا جا رہا ہے لیکن کیش غائب ہے۔ پرانے زمانے میں لوگ سامان سے سامان بدلتے تھے (بارٹر سسٹم) اور ملک کے دور دراز علاقوں سے اب اس طرح کی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ لوگ دھان کے بدلے مچھلی خرید رہے ہیں۔

یہ کیش لیس معاشرے کی بہترین مثال ہے، نہ فرضی کرنسی کا خطرہ اور نہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے کی فکر۔

حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی جڑیں فرضی کرنسی کی مدد سے مضبوط ہو رہی تھیں اور جب سے بڑے نوٹوں پر پابندی لگی ہے، کشمیر میں سنگ بازی کے واقعات بھی ختم ہو رہے ہیں۔

دہشت گردوں کے پاس کیش نہیں ہوگا تو وہ اسلحہ کیسے خریدیں گے؟ علیحدگی پسندوں کے پاس کیش نہیں ہوگا تو وہ سنگ بازوں کی خدمات کیسے حاصل کریں گے؟ ذرا سوچیے کہ حزب المجاہدین کا کوئی کمانڈر ایک ہزار مچھلیوں کے ساتھ پکڑا جائے یا کسی بڑے حوالہ ڈیلر کے گھر سے 20 کٹے دھان برآمد ہو اور وہ یہ نہ بتا سکیں کہ مال کہاں سے آیا، یا انھیں اس الزام کا سامنا ہو کہ یہ مچھلیاں پاکستانی ہیں۔

واٹس ایپ پر ریومر یا افواہوں کا بھی بازار گرم ہے اور ہیومر (مزاح) کا بھی۔ لوگ پریشان بھی ہیں لیکن پریشانی میں ہنسنے پر پابندی کہاں ہے؟

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر کیش نہیں ہوگا تو بینکوں کی کیا ضرورت ہے اور اگر بینک نہیں ہوں گے ان کے سامنے قطاریں کیسے لگیں گی؟ مسئلہ ختم۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے بڑے نوٹ ختم ہوئے ہیں، رام راج جیسا احساس ہو رہا ہے۔ گھروں کے دروازے کھلے پڑے ہیں لیکن نہ کوئی لوٹ رہا ہے اور نہ بھاگ رہا ہے، جس سے پیسے مانگ رہے تھے وہ گھر آ کر دے رہا ہے، جس کو دینے ہیں وہ لے نہیں رہا، ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے پیسے کی محبت بالکل ختم ہوگئی ہو۔

 

رام راج کی اس سے بہتر مثال کیا ہوگی۔ لیکن اس پورے معاملے میں سنجیدہ سیاست بھی ہے۔ بینکوں میں اب تک ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے جمع کرائے جا چکے ہیں لیکن مجموعی کرنسی کا یہ صرف چوتھائی حصہ ہے۔

بازاروں میں جتنا بھی کیش ہے وہ کالا دھن نہیں ہے، اس کا ایک بڑا حصہ لوگوں کی جائز آمدنی پر مشتمل ہے۔ اس لیے بینکوں میں جو رقم جمع کرائی جا رہی ہے اس کے بارے میں لوگوں کو اعتماد ہے کہ وہ یہ ثابت کرسکیں گے کہ وہ کہاں سے آئی اور اگر اس پر ٹیکس واجب تھا تو وہ ادا کیا جا چکا ہے۔ ابھی لوگ بینکاری کے نظام سے باہر ہی کالے دھن کو سفید کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ الزام بہت سی زبانوں پر ہے کہ دولت مند لوگ کالے پیسے کو سفید کرنے کے لیے غریبوں کی مدد لے رہے ہیں، انھیں ایسے دن بھی دیکھنے تھے۔

حکمت عملی یہ تبائی جا رہی ہے کہ وہ بدلنے کے لیے 4500 روپے کے پرانےنوٹ لیکر اپنے نوکروں یا محنت مزدوری کرنے والوں کو بینک بھیج رہے ہیں اور بدلے میں ہزار روپے انھیں دے دیتے ہیں۔ باقی رقم نئی کرنسی میں ان کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ ( ہر شخص کو ایک دن میں ساڑھے چار ہزار روپے بدلنے کی اجازت ہے۔) تاکہ لوگ بار بار نہ آسکیں، حکومت نے اب گاہکوں کی انگلیوں پر نشان لگانا شروع کردیا ہے، ویسا ہی جیسا ووٹ ڈالنے کے بعد لگایا جاتا ہے۔

نوٹ بدلنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ بھی بینک پہنچیں، ان کی عمر 94 برس ہے۔ شاید کوشش یہ دکھانے کی ہے کہ پریشانی سب کو ہو رہی ہے، دیکھیے وزیر اعظم کی والدہ بھی لائن میں لگ کر پیسے بدلوا رہی ہیں۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ بھائی ماں کا خیال رکھنا بچوں کی ذمہ داری ہے، یا تو نریندر مودی خود جاتے یا کسی کو بھیج سکتے ریزرو بینک کی جاری کردہ ہدایات میں اس کی اجازت ہے۔

ایسی ہی ایک لائن میں راہل گاندھی بھی نظر آئے تھے لیکن انھیں سوشل میڈیا پر آسانی سے بخشا نہیں جاتا۔

بی جے پی کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کا چار ہزار روپے بدلوانے کے لیے لائن میں کھڑا ہونا ایک فوٹو آپرچیونٹی تھی۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ عام آدمی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وہاں گئے تھے لیکن سوشل میڈیا کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی صرف یہ دیکھنا چاہتےتھے کہ ‘وہائٹ منی’ کیسی ہوتی ہے اور ابھی تک یہ سوچ رہے ہیں کہ اس کا رنگ گلابی کیوں ہے۔؟

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website