counter easy hit

سابق پنجاب حکومت کا ایک اور اسکینڈل: پولیس کی وردی کیوں تبدیل کی گئی؟

لاہور (ویب ڈیسک) پولیس کی وردی کی تبدیلی، سابقہ پنجاب حکومت کی ایک اور کارستانی سامنے آگئی۔ گزشتہ حکومت نے نشاط گروپ کو ہزاروں کی تعداد میں وردیوں کا آرڈر دیا، نمونے کے طور پر دکھائی گئی وردی اوراصل وردی کی کوالٹی میں بہت فرق تھا۔ تفصیلات کے مطابق سابق آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا نے پرانی وردی تبدیل کر کے
پولیس میں نئی وردی لاگو کی تھی جو کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک سب کے لیے یکساں تھی مگر پولیس میں وردی کی تبدیلی کے حوالے سے کافی تحفظات پائے جاتے تھے، جس کے بعد پولیس کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے وردی تبدیل کرنے کی خبریں بھی گردش میں تھیں کیونکہ سروے میں 90 پولیس ملازمین میں موجودہ وردی کے حوالے سے تحفظات پائے گئے تھے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس وقت کے آئی جی پنجاب نے سال 2018 میں پولیس وردی تبدیل نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے اور سابقہ وردی بحال کرنے کا معاملہ اگلے سال تک چھوڑ دیا گیا ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اس فیصلے پر ملازمین میں شدید مایوسی پھیل گئی تھی۔تازہ ترین خبر کے مطابق عام پولیس کی وردی بھی تبدیل ہونے جارہی ہے۔اس حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔اس حوالے سے چند روز قبل موجودہ آئی جی امجد جاوید سلیمی نے اعلان کیا تھا کہ پولیسکی وردی تبدیل کریں گے۔موجودہ وردی پولیس اہلکاروں کے لیے آرام دہ نہیں ہے۔ وہ لاہور میں پولیس افسران سے خطاب کررہے تھے۔اس حوالے سے تازہ ترین خبر کے مطابق پنجاب پولیس جلدپرانی وردی پہنےگی،پری کوالی فکیشن کاعمل شروع ہو گیا۔دی کی پری کوالی فکیشن میں8کمپنیوں نےحصہ لیا۔پہلےمرحلےمیں ڈھائی لاکھ یونیفارم دئیےجائیں گے۔اس حوالے سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سابقہ حکومت نے گزشتہ حکومت نےمن پسندکمپنی کونوازنےکےلیےوردی تبدیلی کی۔گزشتہ حکومت نےنشاط گروپ کوہزاروں کی تعدادمیں وردیوں کاآرڈردیا۔سیمپل کےطورپردکھائی گئی وردی اوراصل وردی کی کوالٹی میں بہت فرق تھا۔پولیس اہلکاروں کودی جانےوالی وردی نہایت ناقص کپڑےسےتیارکی گئی تھی۔یاد رہے کہ نشاط گروپ کے چئیرمین میاں منشا ،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔