counter easy hit

لندن، برسلز، ٹوکیو و ، واشنگٹن سمیت دنیا بھر کے کس کس شہر ملک میں احتجاج عروج کو پہنچ گئے؟ دل خوش کر دینے والی تفصیلات

Which cities around the world, including London, Brussels, Tokyo and Washington, have reached a high point? Heartwarming details

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) بھارت کے یوم آزادی پر پاکستان ، آزاد کشمیر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں یوم سیاہ منایا گیا اور کشمیر پر بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے کیے گئے۔مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ہوا۔اس تاریخی احتجاج میں سیکڑوں مظاہرین نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی ذولفی بخاری مظاہرے کی قیادت کیلئے لندن پہنچے ۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی مظاہرے میں شرکت کیلئے لندن میں موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بھی لندن میں بھارت مخالف مظاہرے میں حصہ لیا۔احتجاج کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی تھی۔برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا نے کشمیر کا مقدمہ پیش کیابرطانیہ کے وزیر مملکت برائے خارجہ اور کامن ویلتھ ڈاکٹر اینڈریو مورسن سے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے ملاقات کی اور انہیں بھارتی مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔پاکستانی ہائی کمشنر نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔انہوں نے برطانوی وزیر مملک کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات پر مبذول کرائی اور کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔اینڈریو مورسن نے یقین دلایا کہ ان کا ملک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ ہے اور اس حوالہ سے شدید تشویش رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی ہائی کمشنر اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کو یوم آزادی کی خصوصی مبارکباد بھی دی۔برسلزمقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور وہاں جاری بھارتی مظالم کے خلاف بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔پاکستانیوں اور کشمیریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔مظاہرین میں بھارتی شہری بھی شامل ہیں تھے جنہوں نے مودی حکومت کے اقدام کی مذمت کی۔اس کے علاوہ یورپین پارلیمنٹ کے سامنے ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈرشن، سکھ کونسل آف بیلجیم، پشتون آرگنائزیشن یورپ بیلجیم اور پیس فورم بیلجیم کی جانب سے کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف جاپان کے دارالحکومت ٹوکیومیں بھی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔مظاہرے میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سیکڑوں خواتین و مرد اور بچوں نے شرکت کی۔مظاہرے کا اہتمام کشمیر یکجہتی فورم نے جاپان کی سیاسی سماجی شخصیات کے تعاون سے کیا۔ٹوکیو میں کشمیر یکجہتی فورم کے سربراہ شاہد مجید نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ بھارت کشمیر کے لوگوں سے ان کی خصوصی پہچان چھیننے کی کوشش کررہا ہے۔مظاہرے کے شرکاء نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں 38 ہزار فوجی مزید بھیج دیے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت خطے میں بڑے انسانی قتل عام کی تیاریاں کررہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website