counter easy hit

سانس میں بو سے ہمیشہ کے لیے نجات بہت آسان

Very easy to get rid of the breath in the breath forever

کیا آپ یقین کریں گے دنیا بھر میں 8 کروڑ سے زائد افراد کو سانس میں بو کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے . ویسے تو بظاہر یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں مگر یہ شخصیت کو بدنما ضرور بنا دیتا ہے کیونکہ اکثر افراد اس کے باعث شرمندگی محسوس کرتے ہیں . کلیاں کرنے سے اس پر عارضی طور پر قابو پانا ممکن ہے مگر ہر جگہ تو آپ یہ کام نہیں کرسکتے ، مگر ایک سیب یا چیونگم ضرور آپ کے پاس ہر وقت رہ سکتے ہیں. تو اگر آپ کو بھی سانس میں بو کا مسئلہ ہے تو درج ذیل غذائی اشیا اس مسئلے کو ہمیشہ دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں. سیب یا گاجر سیب اور گاجر دونوں ہاضمہ بہتر کرتے ہیں اور نظام ہاضمہ صحت مند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معدے میں زیادہ گیس نہیں بنتی جو کہ منہ کے راستے نکل کر سانس کو بدبودار بناتی ہے. تازہ پھل اور سبزیاں لعاب دہن کی مقدار بڑھانے میں مددگار ہیں جو سانس میں بو کا باعث بننے والے بیکٹریا کو بہا کر لے جاتا ہے. سبزیاں ضرور کھائیں سانس میں بو اکثر معدے میں تیزابیت یا ہاضمے کے امراض کا نتیجہ ہوتی ہے، یہ مسائل اس وقت پریشان نہیں کرتے جب جسمانی مدافعتی نظام مضبوط ہو اور سبزیاں اسے مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں. سبز سبزنایں کلورفل سے بھرپور ہوتی ہیں جو منہ سے بو دور کرنے والا جز ہے. دھنیا اور پودینا یہ دونوں بدہضمی اور سینے میں جلن جیسے مسائل دور کرتے ہیں، جو کہ سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں، بس کھانے کے بعد ان کے کچھ پتے بالیں اور بس. دہی دہی میں موجود بیکٹریا نظام ہاضمہ کی مدد کرتا ہے خصوصاً دودھ سے بنی مصنوعات کو ہضم کرنے میں، جس سے نظام ہاضمہ صحت مند رہتا ہے اور سانس میں بو کے مسئلے کا امکان کم ہوتا ہے. نظام ہاضمہ سے ہٹ کر منہ میں جمع ہوجانے والے مرکبات بھی سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں مگر دہی میں موجود بیٹکریا اور پروبائیوٹیکس ان مرکبات کو کنٹرول کرتے ہیں، بس یہ خیال رکھیں کہ دہی میں چینی موجود نہ ہو. سبز چائے سبز چائے پینے کی عادت صحت کو متعدد فوائد پہنچاتی ہے جیسے دماغی افعال میں بہتری اور کینسر کی مختلف اقسام کا خطرہ کم ہونا، مگر یہ جسم سے زہریلے مواد کا اخراج کرکے جسمانی بو اور سانس میں بو کا خطرہ کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے. سبز چائے میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس ان بیکٹریا سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں. ترش پھل کینو، مالٹے یا دیگر ترش پھلوں میں موجود سیٹرک ایسڈ ان بیکٹریا کی نشوونما کی روک تھام میں مدد دیتا ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں. ادرک لیموں کی چائے ادرک کو غذا میں شامل کرنا بدہضمی سے بچاتا ہے جو کہ سانس میں بو کا باعث بننے والا عارضہ بھی ہے، اگر آپ کو چائے پسند نہ تو بھی اس سے کلیاں کرنا بھی یہ فائدہ پہنچا سکتا ہے، ادرک اور لیموں دونوں کا امتزاج منہ میں نقصان دہ بیکٹریا کی نشوونما کو بہت مشکل بنادیتا ہے. پانی پینا مت بھولیں اگر منہ کی نمی برقرار رہے گی تو درحقیقت منہ میں خوراک کے ذرات اور مردہ خلیات کا اجتماع بھی نہیں ہوگا، یہ منہ میں بیکٹریا کی نشوونما بھی روکے گا، پانی پینے کے دیگر فوائد ھبی ہیں، اس لیے بھی مناسب مقدار میں اسے پینا ضروری ہے. چیونگم اگر تو سانس میں بو سے پریشان ہیں تو اس سے نجات کے لیے چیونگم سے بھی مدد لی جاسکتی ہے.

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website