counter easy hit

ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار بہترین مصالحہ

The best spice to help control diabetes

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا . عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق 2016 میں 16 لاکھ اموات ذیابیطس کے باعث ہوئیں اور وہ اس برس اموات کی 7 ویں بڑی وجہ بننے والا مرض تھا . 2017 کے ایک سروے میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ پونے 4 کروڑ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھا یا پانچواں پاکستانی اس موذی مرض میں مبتلا ہے. مگر اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس مرض سے خود کو بچانے کے لیے کچن میں موجود ایک عام چیز سے مدد لے سکتے ہیں. اور وہ چیز ہے دارچینی، جو لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتی ہے. مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دارچنی کا استعمال انسولین کی حساسیت بڑھا کر ذیابیطس ٹائپ ٹو کی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے. اس مصالحے سے وہ خلیات متحرک ہوتے ہیں جو گلوکوز کو استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ دارچینی کھانے سے جسم یں انسولین کے اخراج میں بھی مدد ملتی ہے جبکہ انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے جس سے گلوکوز کو پراسیس کرنے میں مدد ملتی ہے. درج ذیل میں چند طریقے دیئے گئے ہیں جن کی مدد سے دارچینی کو غذا میں استعمال کرکے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے. پانی میں ملائیں صبح نہار منہ سادہ پانی میں چٹکی بھر دارچینی کو شامل کرکے ابالیں اور پھر اس گرم پانی کو پی لیں، اس سے نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ اضافی چربی گھلانے میں بھی مدد دے گا. چینی کا اچھا متبادل دارچینی کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے تو اسے قدرتی سویٹنر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ چینی کا صحت بخش متبادل بھی بن سکتا ہے، یعنی میٹھی اشیا جیسے حلوہ یا کھیر وغیرہ میں کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے. چائے میں شامل کریں چائے میں دارچینی کو ملانے سے اس گرم مشروب کا ذائقہ اچھا ہوجاتا ہے جبکہ صحت کو الگ فوائد حاصل ہوتے ہیں. دلیے میں شامل کریں اگر ناشتے میں دلیہ کھانے کے عادی ہیں تو کچھ مقدار میں دارچینی پاﺅڈر کو شامل کرلیں، جو ذائقہ بھی بہتر بنائے گا.

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website