yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
Dark Mode
Skip to content
Breaking News
پولیس کا گھر پر چھاپہ، خاتون اور مرد شرمناک حالت میں گرفتار ، مگر خاتون دراصل کون نکلی اور قصہ کیا تھا ؟ شرمناک حقیقت سامنے آگئی
مدرسوں کے بچوں کو مولویوں کی زیادتی سے بچانے کا ایک ہی طریقہ۔۔۔۔ بشریٰ انصاری کا ایک متنازع بیان سامنے آگیا
شوبز نگری سے گرما گرم خبر : دو خوبصورت ترین اداکارائیں جسم فروشی اور اعلیٰ شخصیات کو خوبصورت لڑکیاں فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ۔۔۔ ایک خبر نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی
یااللہ خیر ۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ کا چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بے نقاب، حکومت حرکت میں آگئی، بڑا حکم جاری کر دیا
نمرتا کیس میں نیا موڑ۔۔۔۔ میڈیکل کی طالبہ کے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟ نئی کہانی سامنے آگئی
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    بین الاقوامی خبریں
    • برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل
    • Putin to Visit China Days After Trump Tripٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے
    شوبز
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    • From Eddie Murphy to Whoopi Goldberg: Top 10 Funniest 90s Actorsانیسویں دہائی کے دس عظیم مزاحیہ اداکار: جن کی ہنسی آج بھی تازہ ہے
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم
تارکین وطن

موجودہ اردو ادب کے اہم ستون ظہور الاسلام جاوید سے خصوصی گفتگو

Yes 2 Webmaster May 9, 2015 1 min read
Zahoor Ul Islam jawaid
Share this:
Zahoor Ul Islam jawaid
Zahoor Ul Islam jawaid

ابوظہبی (حسیب اعجاز عاشر) ظہور الاسلام جاوید کا اصل نام ظہور الاسلام ہے ۔٩فروری١٩٤٨ء کو کراچی کے ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے،انکے والد محترم انعام الرحمن (مرحوم)کا اپنے عہد کی بڑی ادبی شخصیت میں شمار ہوتاہے۔تعلیم کراچی سے ہی حاصل کی ۔ظہور الاسلام جاویدبسلسلہ روزگار ١٩٧٤سے امارات میں مقیم ہیں۔پیشہ سے سول انجینئر ہیں اور بین الاقوامی کنسلٹنٹ فرم سے وابستہ رہے ہیں۔انکا شمار اُن معتبر شعرا کرام میں ہوتاہے۔جنہوںنے حقیقی طور پر غزل کی نبض کو صحیح پہچانا ،روایت سے ہٹ کر منفرد طرزِ بیان ،خاص طرزِ احساس،نئی روشنی انکے کلام کا حسن ہے۔ ادبی محافل میں انکا تعارف اس ذکر سے ہوتا ہے کہ ”تہذیب انکی غزل اور غزل انکی تہذیب”ہے۔ ظہور الا سلام جاوید ایک بڑی پہلو دار شخصیت ہیں، عمدہ شاعر، کامیاب منتظم ِ مشاعرہ،پُراثر ناظمِ محفل، دلفریب تبصرہ نگار، خوبصورت کالم نویس کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور سماجی شخصیت کے حوالے سے یہ اپنی مثال آپ ہیں۔وہ اپنی دل آویز شخصیت کی بدولت اردو ادب میں وہ مقام حاصل کر چکے ہیں۔

جہاں تک رسائی ہر شاعر کے لئے ممکن نہیں۔یقینا ظہورالاسلام جاوید موجودہ اُردو ادب کے اہم ستون کی حثیت رکھتے ہیں۔ان سے میری پہلی سرسری ملاقات چودہ سال پہلے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ہوئی،مگر قربت پچھلے پانچ سالوں سے حاصل ہے جو میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ انکا اخلاق،خوش مزاجی ان سے ایک بار ملاقات کر لینے والے کو انہی کا بنا دیتی ہے۔پہلے سماجی و ثقافتی خدمات کے حوالے سے بات کی جائے تو۔۔۔۔۔ ظہورالاسلام جاوید پاکستان سنٹر ابو ظہبی کے منتخب جنرل سیکرٹری کی حثیت سے٣سال پاکستان کے تمام قومی تہواروں پرمتعدد خصوصی تقریبات ،ٹورنامنٹس،مشاعرے، سمینار وغیرہ کا انعقاد بھی کرتے رہے ،جن میں صدر متحدہ عرب امارات شیخ خلیفہ بن زید کے صاحبزادے شیخ سلطان بن خلیفہ کے بدست مبارک پاکستان فیسٹیول کا افتتاح ، تقریبات بہ اعزاز عالمی چیمپین جہانگیر خان، جان شیر خان، ڈاکٹر جاوید اقبال، رضوان صدیقی،جمیل الدین عالی، اصغرسودائی کے علاسہ پریشان خٹک،حنیف محمد،صادق محمداور اقبال بانو،گلشن آرا سید، ثریا ملتانیکرو غیرہ کی غزل گائیکی کی تقاریب شامل ہیں۔

جبکہ پاکستان سنٹر العین کے منتخب جنرل سیکرٹری کی حثیت سے بھی ٣سال اور پاکستان انجینئرز کلب ابو ظہبی کے ویلفیئر سیکرٹری کی حثیت سے بھی٢سال بے شمار تقاریب کو عملی شکل دے چکے ہیں۔اب ان سے ادبی پہلو کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔واضح کرتا چلوں کہ اس انٹرویو سے پہلے بھی ظہورالاسلام جاوید کے خصوصی انٹرویوز پی ٹی وی کے پروگرام ”کیفے ادب” ،میٹرو ٹی وی کے پروگرام” بزم شاعری ”اور ”سلسلہ تکلم کا”اے آر وائی ٹی وی، روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ الشرق، خلیج ٹائمز، گلف نیوز کی زینت بن چکے ہیں، لیکن انشاء اللہ تعالی امید ہے کہ یہ ا ن سب سے منفرد رہے گا۔ سوال۔ بیرون ملک روزگار کی مشقت وطن کی نسبت زیادہ اٹھانی پڑتی ہے،ایسے میں فروغ ادب کے لئے کیسے وقت نکال پاتے ہیں؟جواب۔ اللہ تعالی نے ایسے روزگار کے مواقع عطافرمائے کہ ان ادبی سرگرمیوں کے لئے وقت نکالنا مشکل نہیں رہا،اگر ایسا کہوں تو زیادہ بہتر رہے گا جس کام میں بھی نیت صاف ہو اور حوصلے بلند ہوں تو اللہ تعالی بھی وقت میں برکت ڈال دیتے ہیں۔

سوال۔ پردیس بھی روزگار بھی سماجی مصروفیا ت بھی اور پھر بھرپور ادبی مصروفیات کے ساتھ ساتھ فیملی بھی؟سفر کیسا رہا؟
جواب۔ اللہ کا شکرہے کہ اُس نے مجھے ہمت دی کہ میں تمام معاملات میں متوازن رہوں اور یہ بھی اُس کی خاص عنائت ہے کہ مجھے وہ شریک حیات عطا فرمائی جو میرے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہے ۔کبھی زیرِ لب کوئی گلہ نہیں آیا بلکہ مجھے حوصلہ دے کر میری تقویت کا باعث بنتی ہے، میرے پانچ بچے ہیں،ڈاکٹر احمد انعام، اسماء ندیم، ڈاکٹر یاسر انعام اور ربیعہ ذیشان جو خوشگوار ازدواجی رشتوں میں بندھ چکے ہیں،جبکہ ایک بیٹا منصورانعام ہمارے ساتھ ہے جو اللہ کی رضا سے ہمارا سہارا ہے اور ہم اُسکے سہارے ہیں،گویا مجھے کبھی کوئی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا(عاجزی سے)الحمدواللہ

سوال۔ آپ کو زمانہ طالب علمی سے ہی قلم سے خاص لگائو رہا ،اس حوالے سے کچھ بتائیں؟
جواب ۔ بچپن ہی سے ملنے والے ادبی ماحول کا خاص اثر رہا،پہلی غزل ١٩٦٦ میں مشہور ادبی رسالے عکسِ لطیف میں شائع ہوئی، ریڈیو پاکستان کراچی کی بزم طلباء میں کئی بارشرکت کی،٦٨۔١٩٦٧میں ریڈیو پاکستان کراچی کے ہفتہ طلباء کے بین الکلیاتی مشاعرہ میں پہلا انعام حاصل کیا،جامعہ کراچی سندھ مسلم سائنس کالج کراچی اور دیگر اداروں سے انعامات وصول کئے ۔پھر مجھے ٹیکنولوجسٹ رسالے کا ایڈیٹر انچیف بھی مقرر کر دیا گیا۔

سوال۔ کتنی تصانیف شائع ہو چکیں ہیں؟
جواب۔ مجموعہ کلام” موسم کا اعتبار نہیں” ۔۔۔۔۔۔شائع ہوا،جبکہ اپنے والد محترم انعام گوالیاری کے نعتیہ مجموعہ کلام ”سب اچھا کہیں جسے”اور مجموعہ کلام”نغمہ زیر لب” کے علاوہ مظہر گوالیاری کے مجموعہ کلام ”فروزاں ہیں چراغ آرزو”کی ترتیب و تدوین بھی کر چکا ہوں۔

سوال۔ شعبہ صحافت میں بھی طبع آزمائی کی؟
جواب۔ جی۔ الحمدواللہ ،شعبہ صحافت کے حوالے سے جنگ اور مشرق سے منسلک رہا اوراب یونیورسل اُردو پوسٹ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے حثیت سے منسلک ہوں۔روزنامہ اُردو ایکسپرس، روزنامہ الشرق میں کالم نگاری بھی کرتا رہا جو بعدازاں میری بڑھتی ہوئی ادبی مصروفیات کی نذر ہو گئی۔۔ہاں ایک اور بات۔۔۔ کہ میری ادارت میں امارات کا پہلا اُردو رسالہ ١٩٨٠” لالہ صحرا”شائع ہوا تھا جو بہت مقبول ہوا

سوال۔ حلقہ اُردو ادب میں آپ کے زیر اہتمام عالمی اور بڑے اُردو مشاعرے کا تذکرہ عام ہے ، اُسکے انعقاد بارے کچھ بتائیں؟
جواب۔ اب تک دس عالمی مشاعرے منعقد ہو چکے ہیں۔ جن میں عالمی اردو مشاعرہ مئی٢٠٠٢ ابوظہبی، عالمی اردو مشاعرہ مئی٢٠٠٣ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ مئی٢٠٠٤ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ مئی٢٠٠٩ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ مئی٢٠١٠ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ مئی ٢٠١١ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ مارچ ٢٠١٢ ابوظہبی، عالمی اردو مشاعرہ مارچ٢٠١٣ ابوظہبی، عالمی اردو مشاعرہ مارچ٢٠١٤ ابوظہبی،عالمی اردو مشاعرہ ٢٠١٥ ابوظہبی شامل ہیں اور اس کے علاوہ بزمِ شعرو ادب الامارات کے تحت مشاعرہ ١٩٨٦ ابوظہبی، مشاعرہ ١١٩٨٦لعین اور مشاعرہ ١٩٨٦دبئی کے انتظامی امور میں شامل تھا۔اور یہ اللہ کاخاص کرم ہے ہر مشاعرہ ہی کامیاب اور یادگار رہا ہے۔

سوال۔ آپ نے جشنیہ مشاعروں کے حوالے سے تو بتایا ہی نہیں؟
جواب۔ ان جشنیہ مشاعروں کا بانی سلیم جعفری تھے جنکا خیال تھا کہ شاعر کو اُس کی زندگی میں سراہنا چاہیے اِسی لئے انہوں نے جشنیہ مشاعروں کا آغاز کیا سلیم جعفری دبئی میں یہ مشاعرے منعقد کرتے تھے اور ابوظہبی اور العین میں میں منصور جاوید ،نجم جعفری ،مستان شریف، ڈاکٹر رشید رانا اور اعجاز یوسف شامل تھے۔ان جشنیہ مشاعروں میںمیری بحثیت شاعر و منتظم اعلی شرکت رہی۔،ان مشاعروں میںجشن خمار،١٩٨٧،جشن فراز١٩٨٨،جشن سحر ابو ظہبی ١٩٨٩،جشن جون ایلیا١٩٩٠،جشن مجروح ١٩٩١،جشن غزل و غزال ١٩٩١،جشن قتیل شفائی١٩٩٢،جشن جگن ناتھ آزاد٣ ١٩٩،جشن محشر ١٩٩٤،جشن کیفی ١٩٩٥،جشن پیر زادہ قاسم١٩٩٦،جشن علی سردار جعفری ١٩٩٧شامل ہیں۔

سوال۔ ملکی و غیر ملکی مشاعروں میں خصوصی شرکت بھی رہی ہو گی؟
جواب۔ جی الحمداللہ۔اُسکی فہرست تو بہت طویل ہے ۔مختصراً قطر، سعودیہ، لندن، امریکہ، کراچی، لاہور، بحرین، دبئی،شارجہ، راس الخیمہ اور العین کے کئی معروف و عالمی تنظیموں میں بحثیت صدرِ محفل ،مہمان خصوصی کے شرکت میرے لئے اعزاز رہا ہے۔

سوال۔ آپ تک کتنے اعزازات حاصل کر چکے ہیں؟
جواب۔ اللہ کے فضل سے،نمایاں اعزازات میں، دبئی میں نوائے وقت کی جانب سے مجید نظامی ایوارڈ، انجمن فروغ اُردو ادب دوحہ، قطر کی جانب سے ١٩٩٤ میں اعزازی شیلڈ، اُردو مرکز جدہ کی جانب سے اعزازی شیلڈ، اُردو اکیڈمی لندن کی جانب سے اعزازی شیلڈ،انجمن فروغ اُردو ادب دوحہ، قطر کی جانب سے٢٠١٤ میں اعزازی شیلڈ، سوشل سنٹر شارجہ کی جانب سے اعزازی شیلڈ،پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کی جانب سے جشن پاکستان ایوارڈ وغیرہشامل ہیں

سوال۔ ادب اور زندگی کے بارے میںا پکا کیا نظریہ رکھتے ہیں؟
جواب۔ ادب اور زندگی دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔

سوال۔ آپکے نزدیک بڑے شاعریکی کیا تعریف ہے؟
جواب۔ پہلے زمانے میں بڑا شاعر اپنی شاعری، علمیت اور قابلیت کے بل بوتے پراپنے آپ کو منواتا تھا،مگر آج اپنے آپ کو اچھا اور بڑا شاعر منوانے کے لئے پبلک ریلیشن کا سہرا لینا پڑتا ہے ،جبکہ آج کے دور میں بھی بڑے قابل ، عالم اوربہترین شاعر موجود ہیں جو اُردو ادب کے لئے ایک سرمایہ ہیں،مگر وہ پس منظر میں ہیں کہ انکی کوئی انجمنِ تحسینِ باہمی نہیں ہے۔

سوال۔ ادب برائے ادب ہونا چاہیے یا ادب برائے اصلاح؟
جواب۔ ادب برائے زندگی ہو تو ،ادب برائے ادب اور ادب برائے اصلاح دونوں کا حصول ناممکن نہیں۔

سوال۔ شاعری میں مقصدیت سے کیا مراد ہے؟جدید غزل یا جدید شاعری کیا ہوتی ہے؟
جواب۔ جیسے اقبال کی شاعری کی مقصدیت مسلم امہ کی بیداری جبکہ غالب کی شاعری کی مقصدیت خالصتاً شاعری ہی تھا۔آج کے حالات کی شاعری کی مقصدیت میں شاعر اپنے غزل میں حالات کا مرثیہ لکھتا ہے اور وہی مقصدیت بن جاتی ہے،کیونکہ گُل و بلبل کے افسانے موجودہ دور کے شاعری سے مناسبت نہیں رکھتے۔۔کیوں کیا خیال ہے تمہارا؟

سوال۔ کیا آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی شعرو ادب کی کوئی اہمیت باقی ہے؟
جواب۔ شاعری آج بھی بہت اہم میڈیم کی حثیت رکھتی ہے۔شاعری میں معاشرے کو بدلنے کی طاقت وہی ہے جو پہلے تھی۔مگر معاشرے کی اصلاح کے لئے شاعری میں وہ سوچ وہ الفاظ ہونا بھی ضروری ہیں

سوال۔ سوشل میڈیا کو شاعری اور ادب کے حوالے سے کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب۔ شعر و ادب کے حوالے سے سوشل میڈیا کا استعمال سے دونوں مثبت اور منفی پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔بڑی توانا اور تندرست آوازیں بھی سامنے آ رہی ہیں جو بے ساختہ داد دینے پر مجبور کر دیتے ہیں،جن تک رسائی اتنی آسانی سے شاید سوشل میڈیا کے بغیر مشکل تھی۔مگر کچھ تُک بندی میں بھی اپنا دل بہلاتے نظر آ رہے ہیں انکے احباب انکی واہ واہ کرتے نہیں تھکتے ۔

سوال۔ قدیم و جدید شعراء میں آپ کن سے متاثر ہیں؟
جواب۔ علامہ اقبال،غالب ،میر بہت بڑے شاعر تھے۔مگر۔۔۔۔(پھر تھورا سوچ کر مسکرائے اور کہا ) جدید شعراء کے حوالے سے کچھ کہنے سے اجتناب بہتر ہے،کیونکہ احباب فوراً ہی کسی گروپ سے منسلک کر دیتے ہیں۔

سوال۔ متحدہ عرب امارت میں اردو شعر و ادب کے بارے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟اور کون اس حوالے سے اپنی بے لوث خدمات پیش کر رہے ہیں؟
جواب۔ امارات کی ادبی تاریخ میں سلیم جعفری، اظہار حیدر ،ڈاکٹر زیدی،،منصور جاوید، غلام حنانی،مستان شریف ، ڈاکٹر رشید رانا،رشید منظر، حبیب عثمانی مرحوم، اکرام لحق شوق وغیرہ کے نمایاں ہیں جبکہ دور حاضر میں صلاح الدین، ریحان خان، طارق رحمان اور طاہر زیدی نے فروغِ اُردو ادب کا پرچم بلند کیا ہوا ہے

سوال۔ سفارتخانہ پاکستان کی فروغ اردو و ادب کے حوالے سے اقدامات سے مطمعن ہیں؟
جواب۔ جی اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے ، سفارتخانہ پاکستان ابوظہبی نے ہمیشہ سے ہی ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی اور کئی مشاعرے ،ادبی تقریبات، ،کتابوںکی رونمائی کے حوالے سے تقریبات سفارتخانہ میں ہوتے آ رہے ہیںِ ،اور یہ سلسلہ تا حال پوری توانائی کے ساتھ جاری ہے۔موجودہ سفیرپاکستان جناب آصف درانی نے اسے حوالے سے کئی تقاریب میں بارہا اظہار کیا ہے کہ سفارتخانہ پاکستان کے دروازے ایسی بامقصدادبی محافل کے انعقاد کے لئے کھُلے ہیں

سوال۔ نئے آنے والے شعراء کے لئے پیغام؟
جواب۔ بس اتنا ضرور کہوں کہ مطالعہ اور بس مطالعہ ۔۔۔کیونکہ اچھا شاعر بننے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے،کیونکہ مطالعے سے لفظوں کی نشست و برخاست کا علم ہوتا ہے۔ اور مطالعے سے ذہن کے پردے کھلے ہیں ، اور شاعری میں نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر وقت صرف کرنے سے حاصل نہیں ہوتا
اختتام پر یہ ذکر لازم چاہوں گا کہ۔۔۔۔ ظہورالاسلام جاوید صاحب کی ادبی خدمات کا اعتراف ہر سطح پر ہوتا رہتا ہے مگر اس بار عالمی اُردو مشاعرہ ابوظہبی ٢٠١٥ میں مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ادبی خدمات کے اعتراف میںپاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ”ستارہ امتیاز” سے نوازا جائے،جبکہ محفل کے مہمان خصوصی سفیرپاکستان آصف درانی نے اپنے خطاب میںبھی اسکی تائید کی اور یہ یقین بھی دلایا کہ اس حوالے سے عملی اقدامات کرتے ہوئے جلدسفارشات اسلام آباد ارسال کی جائیں گی،ہماری دعا ہے ،ظہورالاسلام جاوید کو اس اعزاز سے نوازا جائے جسکا وہ یقینا حق رکھتے ہیں۔

Share this:

Yes 2 Webmaster

6,502 Articles
View All Posts
Previous Post موجودہ اردو ادب کے اہم ستون ظہور الاسلام جاوید سے خصوصی گفتگو کی تصویری جھلکیاں
Next Post عمر زبیر اٹلی اور ڈنمارک کا دورہ مکمل کرکے پاکستان واپس پہنچ گئے
Umar Zubair

Related Posts

برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی شہریوں کو لندن میں اجتماعات سے دور رہنے کی ہنگامی اپیل

May 17, 2026

شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار

May 17, 2026
Putin to Visit China Days After Trump Trip

ٹرمپ کے دورے کے فوری بعد پوتن کا چین کا اہم دورہ، 19 مئی کو بیجنگ پہنچیں گے

May 16, 2026
Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years

62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے

May 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
  • کرائم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.