counter easy hit

بے انصاف معاشرہ۔۔۔۔

پاکستان میں حکمرانوں سے لے کر نیچے کے طبقات تک بے انصافی کی ایسی ایسی مثالیں قائم ہیں کہ بندہ بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے ’’لگتا ہے تجھے مرنا نہیں‘‘۔۔۔ جس کا بس چلتا ہے دوسرے کی حق تلفی اور دو نمبری سے باز نہیں آتا۔ با اختیار طبقات کی بے انصافیاں قابل دید ہی نہیں قابل عبرت بھی ہیں۔ لوگ ڈھیٹ ہو چکے ہیں۔ خودداری اور عزت نفس نام کی شے اپنے ہاتھوں سے دفن کر چکے ہیں۔ ہر چیز یہاں بکتی ہے۔ ضمیر بک جائے تو پھر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے۔ اس معاشرہ کا کوئی ادارہ دیکھ لیں، الا ماشا اللہ کوئی بھی پاک صاف نہیں بے انصاف معاشرہ کے ساتھ پروردگار انصاف کرنے پر آیا تو ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ خدا کا خوف اٹھ چکا۔ ہر چیز الٹ پلٹ ہو کر رہ گئی ہے۔ جن خوشامدیوں کی ٹانگیں قبر میں ہیں انہیں بھی نواز دیا جاتا ہے اور باصلاحیت نوجوان افراد پیروں پر کھڑے ہونے کو ترس رہے ہیں۔ میڈیا کا ہی حال دیکھا جائے تو اداکار اینکر بن گئے ہیں اور صحافی روزگار کی تلاش میں ہیں۔ فلم ٹی وی کے فنکار صحافی بن جائیں تو صحافی کہاں جائیں؟ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں پکڑے سڑکیں ناپ رہے ہیں، ان پر یہ نظر کرم کیوں نہیں؟ کردار اتنے گھٹیا ہو چکے ہیں کہ ٹیلنٹ، میرٹ، جذبہ، علم، بے معنی ہو چکا ہے۔ ادائیں اور سفارش نااہلوں کو وہاں پہنچا سکتی ہے جہاں کوئی شریف انسان پہنچنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ اس بے انصاف معاشرے میں سفارش اور گھٹیا کردار سے مفادات اور شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن عزت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو ادارہ دیکھو بے انصافی اور کرپشن کی عبرت ناک مثال ہے۔ جس کا اختیار چلے وہ ناجائز کام بھی حیران کن طریقے سے کروا لیتا ہے اور جس کا کوئی سننے والا نہیں اس کا جائز کام بھی ہونا ناممکن ہے۔ اس بے انصاف معاشرے کی مثال کیلئے ہزاروں افراد کے نام اور کام پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن ڈھیٹ اور بے ضمیر افراد کو فرق نہیں پڑے گا کہ انہیں مقتدر اور با اختیار کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے گیسٹ روم میں ایک صاحب برسوں سے مقیم ہیں حالانکہ نہ وہ پروفیسر ہیں اور نہ ان کا یونیورسٹی سے کوئی تعلق ہے لیکن اپنے معروف کالم نگار ماموں جان کا بھانجا ہونے کے اعزاز میں گیسٹ روم پر قابض ہیں۔ گیسٹ روم کا روزانہ کا کرایہ ایک ہزار روپے ہے، بیمار معذور مجبور پروفیسر کو بھی کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے لیکن خوشامدیوں کی بدولت پاکستان میں بے انصافی کو چار چاند لگے ہوئے ہیں۔ الا ماشا اللہ قلم بک چکے، ضمیر بک چکے، کردار بک چکے، ایسے میں حق سچ اپنی عزت بچانے کی فکر میں ہے۔ حکمران بھی ان کی مٹھی چاپی کرنے پر مجبور ہیں جو ان کی ماں بہن دادی نانی تک کو نہ بخشیں۔ عزت حکمرانوں کو بھی راس نہیں آتی۔ عزت بنانے کیلئے صحافی خریدنے پڑتے ہیں۔ اور پھر منہ کو ظالم ایسی لگا دیتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کا نشہ انہیں مالک تبدیل کرنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ آج اس کی خوشامد کل اسی کے مخالفت۔ اس بے انصاف معاشرے میں اب تو فقط پیسہ چلتا ہے۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔ خاور نعیم ہاشمی مختلف میڈیا سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کی والدہ کی وفات کا سنا تو تعزیت کیلئے جوہر ٹائون ان کے گھر گئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہمارے حالیہ ایک کالم میں ایک جملہ ’’میرا نوائے وقت‘‘ بہت اچھا لگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم صحافی اور کالم نگار ہیں جو ادارے کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں یا اعلانیہ اظہار کرتے ہیں۔ عمومی رویہ یہی ہے کہ ادارے سے تعلق نہیں مفاد سے تعلق رکھا جائے۔ لیکن جو صحافی، کالم نگار حکمرانوں کی خوشامد کا ہنر رکھتا ہے اس کی دس گھی میں ہیں لیکن ضمیر سے مخالفت مول لینے کیلئے ایمان کا جنازہ اٹھانا پڑتا ہے۔ اور اس بے انصاف معاشرے میں وہی کامیاب ہے جو اپنے ضمیر کی میت دفنا چکا ہو۔۔۔۔۔ میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر، گوا ہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا۔۔۔۔۔۔ ہم ایک بے انصاف معاشرے میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں اس لئے ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
سیاست کی اصول پرستی کا یہ عالم ہے کہ جن لوگوں پر جھوٹ بولنے اور جعل سازی کرنے کے الزامات ثابت ہو چکے، پارٹیاں انہیں ٹکٹ دیتی ہیں اور معاشرے کی بے ضمیری کا یہ عالم ہے کہ لوگ انہیں ووٹ دے کر اپنا مقدر ان کے سپرد کر دیتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ووٹر کو پوری طرح علم ہوتا ہے کہ وہ جس شخص کو قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کر رہا ہے وہ ہر شرعی عیب سے آلودہ ہے، اس نے دن دیہاڑے قوم کو لوٹ کر دولت بنائی ہے، وہ دن رات جھوٹ بولتا، غلط امیدیں دلاتا اور جھوٹے وعدے کرتا ہے، وہ علاقے کے تھانے دار کا ٹاؤٹ بھی ہے اور اس نے چند غنڈے بھی پال رکھے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ اسے ووٹ دیتے ہیں۔
کیا یہ ایک مردہ ضمیر معاشرے کی علامت نہیں؟
لکھاری حکمرانوں سے رقمیں اور مراعات لے کر اور اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کر حکمرانوں کے غلط فیصلوں کو تاریخ کا ’’سنہری باب‘‘ قرار دیتے ہیں، کیا یہ ایک مردہ ضمیر معاشرے کی نشانی نہیں؟ سائیکل اور پٹھیچر موٹر سائیکل سوار بنگلوں گاڑیوں اور فارم ہائوسز کے مالک بنے بیٹھے ہیں، کیا یہ سب انصاف سے ملتا ہے؟

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website