counter easy hit

ناقابل یقین خبر:مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آ گیا کہ پورے شہر میں سیکیورٹی والوں کی دوڑیں لگ گئیں

Unbelievable news: With Christian Pope Francis, the spiritual head of Christianity, there has been an incident of security races all over the city.

روم (ویب ڈیسک) پوپ فرانسس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ دعائیہ تقریب میں آتے ہوئے لفٹ میں پھنسنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئے جس کے بعد آگ بجھانے والے عملے نے ان کو لفٹ سے باہر نکالا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دعائیہ تقریب کو براہ راست دکھانے والے ٹیلی ویژن نیٹ ورک پوپ فرانسس کی غیر معمولی تاخیر پر فکرمند ہوگئے اور انہیں لگا ایسا شاید پوپ کی صحت کی خرابی کی وجہ سے ہوا ہے۔پوپ فرانسس نے بے چینی سے اپنا انتظار کرتے ہزاروں کے ہجوم کو سینٹ پیٹرز سکوائر کے اوپر موجود کھڑکی میں آتے ہی مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’ میں تاخیر سے آنے پر معذرت چاہتا ہوں۔ میں 25 منٹ کے لیے لفٹ میں پھنس گیا تھا۔ ایسا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہوا لیکن پھر آگ بجھانے والے عملے نے آکر مجھے باہر نکالا۔ ہمیں آگ بجھانے والے عملے کو سراہنا چاہیے۔‘ ان کے ایسا کہنے پر مجمعے نے تعریفی کلمات اور آوازیں بلند کیں۔یاد رہے کہمسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے مسلمانوں، ہندوؤں، آرتھوڈکس اور کیتھولک مسیحی مہاجرین کو ایک ہی رب کی مخلوق قرار دیتے ہوئے ان کے پاؤں دھوئے اور ان کا بوسہ لیا۔انہوں نے مہاجرین کو خوش آمدید کہنے اور بھائی چارے کی علامت کے طور پر یہ عمل ایک ایسے وقت میں کیا جب بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد مسلمانوں اور مہاجرین کے خلاف منفی جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔پوپ فرانسس نے قتل عام کو جنگ کی طرف اشارہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور اسے اُن لوگوں کا ایک عمل قرار دیا جو اسلحے کی صنعت کو بڑھاوا دینا چاہتے ہیں۔پوپ نے مسیحیوں کے ‘مقدس جمعرات’ پر روم کے باہر کاسٹیلنو ڈی پورٹو میں مہاجرین کے کیمپ میں اُن کے ساتھ وقت گزارا اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کی۔پوپ فرانسس نے برسلز میں حملہ کرنے والوں کے عمل کو تباہی کا اشارہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ مہاجرین میں انسانیت کی بنیاد پر قائم بھائی چارے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔پوپ فرانسس نے کہا کہ ہمارا تعلق مختلف مذاہب اور تہذیبوں سے ہے، لیکن ہم بھائی ہیں، اور ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔جس وقت پوپ فرانسس مہاجرین کے پاؤں دھو کر ان کو چوم رہے تھے تو کئی افراد بے اختیار رونے لگے۔مہاجرین کے اس کیمپ میں 892 افراد موجود تھے جن کے ایک بڑے حصے نے اس تقریب میں شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر پوپ فرانسس نے انفرادی طور پر سب سے مصافحہ کیا، بعض افراد نے ان کے ہمراہ سلیفیز بھی بنائیں۔واضح رہے کہ عیسائیوں کے مرکز ویٹیکن کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اس عبادت میں پہلے صرف مرد ہی شریک ہو سکتے تھے، سابقہ پوپ اس عبادت میں 12 کیتھولک مردوں کو شریک کرتے تھے۔ 2013میں پوپ فرانسس نے سب کو اُس وقت حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے بچوں کی ایک جیل میں خواتین اور مسلمانوں کو بھی اس رسم کا حصہ بنایا، پوپ فرانسس نے ہی قاعدے کو تبدیل کیا اور اس میں خواتین و لڑکیوں کو بھی شریک ہونے کی اجازت دی۔ویٹیکن کے جاری کردہ بیان کے مطابق کاسٹیلنو ڈی پورٹو میں ادا کی گئی مذہبی رسم میں 4 خواتین اور 8 مرد شریک تھے۔عیسائیوں کی اس مذہبی رسم میں مہاجرین کے اس کیمپ میں کام کرنے والی اٹلی کی ایک کیتھولک خاتون، ایریٹیریا کی تین مہاجر خواتین کے ساتھ نائیجیریا کے 4 کیتھولک عیسائی مرد، مالی، شام اور پاکستان کے 3 مسلمان جبکہ ہندوستان کے ایک ہندو شخص کو شامل کیا گیا۔ویٹیکن کے نئے قانون کے مطابق خدا کے بندوں میں سے کسی کو بھی اس تقریب کے لیے منتب کیا جا سکتا ہے۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world.

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website