counter easy hit

::::ٹرمپ تو ٹرمپ‘ آسٹریلوی وزیراعظم بھی کم نہیں

امریکی میڈیا کو اپنے وسائل اور تجزیاتی صلاحیتوں پر بڑا مان رہا ہے۔ اس میڈیا کے معتبر گردانے رپورٹروں اور کالم نگاروں میں سے کوئی ایک بھی لیکن ڈونلڈٹرمپ کی مقبولیت کا اندازہ نہ لگا پایا۔ وہ حیران کن انداز میں امریکی صدر منتخب ہوگیا تو محض چند گنے چنے صحافیوں نے ایمان دارانہ عاجزی کے ساتھ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کیا۔ صحافتی اداروں اور ان کے لئے کام کرنے والے کئی بڑے نام البتہ یکسو ہوکر ٹرمپ کی بھداُڑانے میں مصروف ہوگئے۔ لوگوں کو ذہنی طورپر اس امکان کے لئے تیار کرنا شروع کردیا کہ شاید ٹرمپ اس صدی کا پہلا امریکی صدر ہوگا جو پنے عہدے کی چار سالہ میعاد بھی مکمل نہیں کر پائے گا۔مالی بدعنوانیوں وغیرہ کے الزامات کے تحت اسے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ وہ استعفیٰ دینے کو تیار نہ بھی ہوا تو امریکی پارلیمان اسے مواخذے کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔
سچی بات یہ بھی ہے کہ اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی ٹرمپ نے دھڑا دھڑ ایسے احکامات صادر کرنا شروع کردئیے جنہوں نے امریکی میڈیا کے پھیلائے اندازوں کو درست ثابت کرنا شروع کردیا۔ ان احکامات میں سب سے زیادہ سفاک وہ فیصلہ تھا جس کے تحت سات مسلمان ملکوں سے امریکی ویزا کے حامل افراد پر بھی اس ملک میں داخلے پر پابندی لگادی گئی۔ اس فیصلے کے فوری اور مو¿ثر اطلاق کو روکنے کے لئے کئی نیک دل امریکی ان ایئرپورٹس کے باہر احتجاج کے لئے جمع ہونا شروع ہوگئے جہاں غیر ملکی افراد طیاروں سے اُترکر امیگریشن حکام کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ عدلیہ کا دروازہ کھٹکاکروہاں روکے تارکین وطن کی مشکلات رفع کرنے کی کوششیں بھی کامیاب ہوگئیں۔
ٹرمپ مگر ایک ڈھیٹ آدمی ہے۔ اس بات پر ڈٹا ہوا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اس نے امریکہ کو ”محفوظ“ بنانے کے نام پر غیر ملکوں اور خاص طورپر مسلمان ممالک سے وہاں آنے کے خواہاں لوگوں پر پابندی لگانے کے جو وعدے کئے تھے،ان پر عمل کرکے چھوڑے گا۔ نیک دل امریکی بھی اسے اس ضمن میں ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے خلوص کو سلام۔ امریکی میڈیا میں لیکن اس موضوع پر مچائی دہائی مخلصانہ نہیں ہے۔
امریکہ کی روایتی اشرافیہ کے ترجمان اس میڈیا کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے قائم ہوئے اس نام نہاد ”عالمی نظام“ کوتہہ وبالا کردے گا جس میں حتمی فیصلوں کا اختیار ہمیشہ امریکہ کے پاس رہا ہے۔ 1990ءکی دہائی تک کمیونسٹ روس امریکی بالادستی کے مزاحمتی کیمپ کا سربراہ رہا تھا۔ افغانستان میں پھنس کر مگر وہ اپنی قوت ووسائل ضائع کربیٹھا۔ سوویت یونین بکھر گیا تو امریکہ دنیا کی واحد سپرطاقت بن گیا۔ افغانستان اور عراق پر جنگیں مسلط کرتے ہوئے صدر بش کے دور میں یہ کوشش ہوئی کہ بقیہ دنیا بھی اسی سیاسی نظام اور اقدار کی پیروی کرنا شروع ہوجائے جو 1990ءکی دہائی تک صرف امریکہ سے مختص رہی ہیں۔بش انتظامیہ اس ضمن میں قطعاََ ناکام رہی۔ نام نہاد ”عالمی نظام“ پر امریکی بالادستی مگر اس کے باجود برقرار رہی۔ ٹرمپ اس نظام کو برقرار رکھنے میں دلچسپی لیتا نظر نہیں آرہا۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ گفتگو کے دوران فون کو بدتمیزی سے ختم کرتے ہوئے ٹرمپ درحقیقت اسی نظام کو جھنجھوڑتا نظر آیا ہے۔
ٹرمپ کا تعصب اور مسخرہ پن مجھے بھی اکثر حیران وپریشان کردیتا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کے ساتھ اس نے جو رویہ برتا میری دانست میں لیکن وہ بالکل درست ہے۔ آسٹریلیا ایک وسیع وعریض ملک ہے جہاں دنیا بھر سے آئے انسانوں کو کھپانے کے بے تحاشہ امکانات موجود ہیں۔ برطانوی سامراج نے اس خطے کودریافت کرنے کے بعد قدرتی وسائل سے مالا مال اس ملک کی قدیمی آبادی کا اسی طرح خاتمہ کیا جیسے آریاﺅں نے وادی¿ سندھ کے قدیم باشندوں کے ساتھ کیا تھا۔ زرخیززمینوں سے کاشت کاری کے جدید نظام کی بدولت نقد آور اجناس پیدا کرنے کے خواہاں سامراجی آباد کاروں نے آئرلینڈ،سکاٹ لینڈ اور ویلز سے عادی اور ناقابل اصلاح ٹھہرائے ”مجرموں“کو غلاموں کی طرح بحری جہازوں میں بھرکر آسٹریلیا منتقل کیا اور ایک نئی خوش حال دنیا بسا دی۔
اپنی مخصوص تاریخ کی وجہ سے آسٹریلیا کے لوگوں اور حکومت کو تارکینِ و طن کے بارے میں نرم دل رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ شام جیسے ملکوں سے نکل کر پناہ کی تلاش میں در بدر ہوتے مہاجرین کے بارے میں اس کا رویہ مگر انتہائی ظالمانہ ہے۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سمندر کی جان لیوا لہروں کا مقابلہ کرتے ہوئے مہاجر اگر آسٹریلوی زمین تک پہنچ جائیں تو وہاں کی پولیس انہیں گرفتار کرکے فوراََ ایسے جزیروں میں لے جاکر پھینک دیتی ہے جو آج بھی بے آباد جنگل ہیں۔ جدید دور کی سہولتوں سے قطعاََ محروم یہ جزیرے کھلے آسمان تلے موجود جیلیں ہیں جہاں انسان -جانوروں کی طرح صرف اپنی بقاءکی تگ ودو میں مصروف رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
نیک دل لوگوں پر مشتمل انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے رضا کار چھپ چھپا کر ان جزیروں تک پہنچ گئے۔ وہاں محصور ہوئے لوگوں کی اذیتوں بھری زندگی پر کئی دستاویزی فلمیں بنائی گئیں۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز کا انسان دوست راجرکوہن بھی کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچ گیا۔ دو اقساط پر مشتمل اس نے آسٹریلیا کے جزیروں میں جانوروں کی طرح پھینکے انسانوں پر طویل مضامین لکھے۔ ان مضامین نے درد مند دلوں کوہلا کر رکھ دیا۔
آسٹریلیا کے جزیروں میں سفاکانہ انداز میں پھینک کر بھلائے مہاجرین کی داستانیں منظرِ عام پر آئیں تو صدر اوبامہ ان کی مدد کے لئے کچھ کرنے کو تیار ہوگیا۔ فیصلہ ہوا کہ سخت گیر نظرثانی کے بعد ان میں سے 1200کے قریب مہاجرین کو ان جزیروں سے امریکہ لاکر آباد کیا جائے گا۔امریکی صدر کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیر اعظم نے جو خود بھی ٹرمپ ہی کی طرح کا ایک متعصب نسل پرست ہے،صدر ابامہ کے فیصلے کا ذکر کیا اور اس پر فوری عمل درآمد پر زور دیتا رہا۔ٹرمپ نے اوبامہ کے فیصلے کو گونگا ڈیل کہتے ہوئے فون بند کردیا۔امریکی میڈیا میں سیاپا شروع ہوگیا۔
آسٹریلیا کے لوگوں کو عام امریکی بہت سادہ اور انسان دوست سمجھتے ہیں۔ وہاں کی اشرافیہ کے لئے مگر اہم بات یہ ہے کہ چین کے ساتھ مقابلے کے لئے آسٹریلیا جغرافیائی وجوہات کی بناءپر دفاعی اعتبار سے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر کو لہذا اس کے وزیر اعظم کے ساتھ بدتمیز رویہ اختیار نہیں کر نا چاہیے تھا۔
بنیادی بات یہ ہے کہ فکر جزیروں میں جانوروں کی طرح پھینک کر بھلائے انسانوں کے بارے میں نہیں ہورہی۔اصل خدشہ یہ ہے کہ آسٹریلیا ٹرمپ کی وجہ سے امریکی اجارے میں قائم ہوئے اس معاشی،سیاسی اور دفاعی نظام سے کنارہ کشی کے بارے میں سوچنا شروع ہوجائے جس کا اہم ترین ہدف اب چین کی بڑھتی ہوئی قوت اور اثر کو روکنا ہے۔
ٹرمپ کی نفرت میں اندھے ہوئے افراد یہ حقیقت دیکھنے کو تیار ہی نظر نہیں آرہے کہ زمین اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے آسٹریلیا اب بھی امریکہ سے کہیں زیادہ غیر ملکی پناہ گزینوں کواپنے ہاں آباد کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ شام جیسے ملکوں سے کسی نہ کسی طرح نکل کردنیا بھر میں پناہ کی تلاش میں دربدر ہوتے انسانوں کے ”بنیادی حقوق“ کا خیال رکھنا آسٹریلیا کی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ اپنی ذمہ داری امریکہ کے سرڈالتے ہوئے آسٹریلوی وزیر اعظم ایک متعصب نسل پرست والا رویہ ہی تو اپنائے ہوئے ہے۔ ٹرمپ نے اگر اسے بے عزت کیا اور میری نظر میں ٹھیک کیا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website