counter easy hit

ملکی تاریخ کا یادگار دن، تھر میں کوئلے کی پہلی تہہ دریافت

کراچی ، تھر:  تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا خواب اب زیادہ دور نہیں، گزشتہ روز اتوار کو ملکی تاریخ کا یادگار دن رہا جب تھر کے بلاک ٹو میں 140 میٹر (460فٹ) کی کھدائی کے بعد کوئلے کی پہلی تہہ دریافت کر لی گئی۔

The memorial day of the country's history, discover the first layer of coal in Tharسندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے مطابق تھر کے بلاک ٹو میں اوپن مائننگ کے طویل عرصے سے جاری کام کو گزشتہ روز اُس وقت بریک تھر وملا جب کوئلے کی پہلی تہہ کا دیدار ہوا۔ تھر بلاک ٹو میں 2 ارب ٹن سے زائد کوئلے کے ذخیرے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، سندھ کول مائننگ کمپنی کے مطابق کوئلے کی پہلی تہہ دریافت کرنے کا ہدف مقررہ تاریخ سے پانچ ماہ قبل ہی حاصل کر لیا گیا، جس کے باعث 110 ملین امریکی ڈالر کی بچت ہوئی ہے، جو مقامی اور چینی انجینئرز و کارکنوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او شمس الدین شیخ نے تھر بلاک ٹو سے کوئلے کی پہلی تہہ کی دریافت کو ملک کے لیے ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج تھر سے کوئلہ نکالنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگیا اور اب وہ دن بھی دور نہیں جب اسی کوئلے سے بجلی پیدا کرکے ملک کے کونے کونے تک پہنچائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تھر بلاک ٹو سے نکلنے والا کوئلہ اینگرو پاور جن تھر لمیٹڈ کو فراہم کیا جائے گا، جس سے 660 میگاواٹ کا بجلی گھر تعمیر کیا جائے گا، تھر بلاک ٹو سے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے لیے سالانہ 3.8 ملین ٹن کوئلہ درکار ہو گا۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ یہ دن نہ صرف تھر کے باسیوں بلکہ پورے ملک کے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا باعث ہے اور تھر کے کوئلے سے اب بجلی پیدا کرکے نہ صرف ملک میں توانائی کے بحران کو ختم کیا جاسکے گا بلکہ سستی بجلی کے حصول کے خواب کو بھی شرمندۂ تعبیر کیا جاسکے گا۔ تھر کے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت کا تخمینہ پانچ سینٹ فی یونٹ لگایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انرجی مکس میں کوئلے کے شیئر کو بڑھا کر عوام کے لیے سستی بجلی کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے گا، آئندہ کئی دہائیوں تک ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی پاکستان کو دستیاب ہوسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اصل میں پاکستان کاسب سے بڑا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ ہے ، جس میں حکومت سندھ کے ساتھ چھ پاکستانی نجی کمپنیاں اینگرو انرجی، تھل لمیٹڈ، حبیب بینک، حبکو اور دو چائنیز کمپنیوں چائنا مشینری انجینئرنگ کمپنی اور اسٹیٹ پاور انویسٹمنٹ کارپوریشن شراکت دار ہیں۔ تھر میں کوئلے کی موجودگی کا پتا 1992 ء میں چلا تھا، کمپنی بلاک ٹو کی کان کنی کو فوری بڑھانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تا کہ سال 2024ء تک 5000 میگاواٹ بجلی بنانے کے لیے مطلوبہ مقدار میں کوئلہ حاصل کیا جا سکے۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے درخواست کی ہے کہ جب تک بلاک ٹو اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر لیتا تب تک دوسرے بلاکس پر کام شروع نہ کرایا جائے ۔کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید ابوالفضل رضوی نے کہا کہ تھر میں موجود کوئلے کی قسم کو لگنائیٹ کہا جاتا ہے جوبجلی پیدا کرنے کے لیے بہترین قسم ہے ، مجموعی طور پر 26 میٹر موٹی تہہ ہونے کے باعث بلاک دو کا کوئلہ آنے والے 50 برسوں تک 5000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے ، کوئلے کی باقاعدہ ترسیل رواں سال تیسری سہ ماہی سے شروع ہو جائے گی اور اینگرو پاورجین تھر لمیٹڈ کے بجلی گھر میں سے پہلا کرنٹ رواں سال ماہ دسمبر میں پیدا کیا جائے گا۔