yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریںفرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں
    • ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟
    بین الاقوامی خبریں
    • فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریںفرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں
    • What Happens to Melania Trump If President Dies?اگر صدر ٹرمپ دورانِ صدارت وفات پا جائیں تو میلانیا ٹرمپ کا کیا بنے گا؟
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    • Sindh Lifts Market, Hotel Closing Time Curbsسندھ حکومت کا کاروباری برادری کو بڑا ریلیف، مارکیٹیں اور شادی ہال رات گئے تک کھلے رہیں گے
    کاروبار
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    • حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا، مالیاتی دباؤ میں اضافہ
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا فیصلہ، حکومت اب کریڈٹ لینے کو تیار

Web Editor May 23, 2018 1 min read
The decision to integrate FATA into the province, the government is now ready to take a credit
Share this:

پشاور: مرکزی حکومت نے اگر قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا میں ضم کرتے ہوئے اسے بندوبستی علاقوں والاسٹیٹس دینا ہوتا تو وہ یہ کام بہت پہلے کر چکی ہوتی لیکن (ن) لیگ کی مرکزی حکومت اس معاملے پر پہلو تہی کرتی آئی ہے کیونکہ وہ اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار تھی لیکن اب جب فیصلہ سازوں نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کاارادہ The decision to integrate FATA into the province, the government is now ready to take a creditاور فیصلہ کرلیا ہے تومرکزی حکومت بھی اس کا کریڈٹ لینے کے لیے پوری فارم میں نظر آرہی ہے اورموجودہ حکومت اپنے آخری چند دنوں کے دوران یہ بل منظور کرواتے ہوئے اسے عام انتخابات میں کیش کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

فاٹا کا معاملہ قیام پاکستان ہی سے التواء کا شکار رہا ہے جس کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ جس کی بنیاد پرفاٹا کی نیا آریا پار ہوسکتی اور پھر خود فاٹا بھی اپنے مستقبل کے فیصلے کے حوالے سے منقسم رہا ہے جس کی وجہ سے فاٹا کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوسکا لیکن اب جبکہ موجودہ حکومتیں اپنے آخری دنوں میں ہیں،اس موقع پر فاٹا سے متعلق اہم فیصلے ہونے شروع ہوگئے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ بیشتر سیاسی پارٹیاں اس بات کے حق میں تھیں کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرتے ہوئے قومی دھارے میں لایاجائے اور صرف جمعیت علماء اسلام(ف)اورپختونخوا ملی عوامی پارٹی اس کی مخالفت کر رہی تھیں لیکن اس وقت مرکزی حکومت نے ان سیاسی پارٹیوں کی آواز پر کان نہیں دھرا حالانکہ اگر اس وقت ان سیاسی پارٹیوں کی بات سن لی جاتی اور اس پر فیصلہ کرلیاجاتا تو آج فاٹا بھی اس پوزیشن میں ہوتا کہ اس میں عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں کی جا رہی ہوتیں لیکن یہ فیصلہ لینے میں بہت تاخیر کی گئی۔

جس کی وجہ سے اس سال فاٹا میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے عام انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکے گا اور قبائلی عوام کو اس سال بلدیاتی انتخابات پر ہی گزارہ کرنا ہوگا جبکہ عام انتخابات کا انعقاد آئندہ سال اپریل، مئی میں ہوگا جس کے بعد ہی قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہوگی اور وہاں کے نمائندے اپنے علاقوں اور عوام کی نمائندگی صوبائی اسمبلی میں کر پائیں گے اورتب تک فاٹا اپنے بارے میں دوسروں کے فیصلوں کا محتاج رہے گا ۔

چونکہ فاٹا کے حوالے سے اس فیصلے میں جمعیت علماء اسلام(ف) باہر رہ رہی ہے جومناسب نہیں کیونکہ جمیعت علماء اسلام(ف)کا فاٹا میں ایک اہم اور بڑا کردار ہے اور اسے اس اہم موقع پر فاٹا کے حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہ کرتے ہوئے خلاء پیدا کیا جا رہا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اگرعام انتخابات کے نتیجے میںخیبرپختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت بنتی ہے توکیا وہ فاٹا کو اس طریقے سے ساتھ لے کر چلنے کے لیے تیار ہوگی ۔

جیسے سوچا اور سمجھا جا رہا ہے اس لیے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے جے یوآئی کو اسی موقع پرساتھ لیتے ہوئے فیصلہ سازی میں شامل کرلیاجائے تو یہ ایک صائب اقدام ہوگا کیونکہ جے یوآئی احتجاج پر اترآئی ہے، دوسری جانب جماعت اسلامی اورجے یوآئی کے بھی فاٹا کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں حالانکہ اس بارے میں کہا گیا تھا کہ دونوں پارٹیوں کی جانب سے دورکنی کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ وہ فاٹا سے متعلق اختلاف ختم کر سکے لیکن یہ اختلاف ختم نہیں ہو سکا اور اسی اختلاف کے دوران ہی خیبرپختونخوا کے لیے ایم ایم اے کا تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جس کے حوالے سے الگ کہانی موجود ہے۔

متحدہ مجلس عمل کی خیبرپخونخوا میں کی گئی تنظیم سازی کے حوالے سے صورت حال یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اسے دل سے تسلیم نہیں کیا، اگر جماعت اسلامی اس عمل کو دل سے تسلیم کررہی ہوتی تو اس صورت میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نہ صرف یہ کہ صوبائی سیٹ اپ میں سینئر نائب امیر کا عہدہ لیتے بلکہ ساتھ ہی وہ اس پریس کانفرنس میں بھی موجود ہوتے جس میں ایم ایم اے کے صوبائی سیٹ اپ کا اعلان کیا گیا لیکن وہ وہاں سے غیرحاضر تھے اوران کی غیر حاضری ہی کان کھڑے کرنے کے لیے کافی تھی۔

مشتاق احمد خان اور ان کے ساتھی کسی بھی طور اس بات پر تیار نہیں تھے کہ ایم ایم اے کی صوبائی صدارت جے یوآئی کو دی جائے لیکن جماعت اسلامی کی مرکز ی قیادت کے کہنے پر وہ پیچھے ہٹ گئے تاکہ ان کی پارٹی قیادت کا مان برقرار رہے لیکن جے یوآئی کی صدارت کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے اب بھی جماعت اسلامی کے پاس بہت سے دلائل بھی ہیں اورجماعت اسلامی کے قائدین نے اسے دل سے تسلیم بھی نہیں کیا اور یہ مسلہ الیکشن کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر دوبارہ اٹھے گا۔

جماعت اسلامی جب ایم ایم اے کی مرکزی صدارت جے یوآئی کو دینے پر تیار ہوئی تو اسی وقت اندازہ ہوگیا تھاکہ جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی صدارت پر نظریں لگائے ہوئے ہے کیونکہ جماعت اسلامی ترازو کا اپنا انتخابی نشان بھی چھوڑکرکتاب کے نشان پر الیکشن کرنے کو تیارہوئی ہے حالانکہ گزشتہ انتخابات کے موقع پر جماعت اسلامی میں یہ سوچ پائی جاتی تھی کہ انتخابات کے بائیکاٹ اوراتحادوں کی سطح پر انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے جماعت اسلامی کا اپنا انتخابی نشان کھو کر رہ گیا ہے۔

اس لیے اب جماعت اسلامی تمام انتخابات اپنے اسی ترازو کے انتخابی نشان پر ہی کرے گی لیکن ایم ایم اے کی بحالی اور اس پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کی وجہ سے جماعت اسلامی نے ’’ترازو‘‘کی بھی قربانی دی اور کتاب کے نشان کو قبول کیا جو بنیادی طور پر جے یوآئی کا انتخابی نشان ہے جس نے گزشتہ دونوں انتخابات میں اسی انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لیا، اس صورت حال کے بعد جماعت اسلامی ہر صورت ایم ایم اے کی صوبائی صدارت پر اپنا حق سمجھتی تھی جو اسے نہیں مل سکا۔

جماعت اسلامی اس بات پر بھی ناراض ہے کہ جمعیت علماء اسلام(ف)اب تک مرکز میں حکومت سے الگ کیوںنہیں ہوئی کہ اب جبکہ حکومتوں اور اسمبلیوں کے ختم ہونے میں چند دن ہی باقی ہیں،ان کے خیال میں جے یوآئی کو اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر آجانا چاہیے تھا لیکن جے یوآئی بوجوہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکی اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ فاٹا کے حوالے سے بھی دونوں پارٹیوں میں بڑا اختلاف موجود ہے۔

جسے ختم کرنے کے لیے کوششیں توضرور کی گئی ہیں لیکن وہ کوششیں زیادہ سنجیدگی لیے ہوئے نہیں تھیں جس کی وجہ سے دونوں جماعتیں اس معاملے میں ایک ہی صفحے پر نہیں آسکیں تاہم اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں ضرور ہونی چاہئیں کیونکہ فاٹا سمیت دیگر ایشوزکے حوالے سے دونوں جماعتوں میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں اگر وہ ختم نہ ہوئے تو ایم ایم اے کے لیے مشکلات ہوں گی کیونکہ بہرکیف یہ 2002ء نہیں بلکہ 2018ء ہے اور اب دونوں جماعتیں آگے بڑھنے سے پہلے ذرا مڑکر2007ء کی طرف بھی دیکھتی ہیں جہاں بہت کچھ دھندلایا ہوا نظر آتا ہے۔

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Elections will be timely and beneficial for the justice process?
Previous Post انتخابات بروقت اور تحریک انصاف کیلئے سود مند ہونگے؟
Next Post ملک میں قانون کے سارے ہتھیار سیاستدانوں کے لئے بنے ہیں، نوازشریف
All the country's law enforcement agencies are for politicians, Nawaz

Related Posts

ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی

August 16, 2026
فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

فرانسیسی پولیس کا وزیر داخلہ سے مطالبہ: نابالغوں کے مقدمات پر وزیر انصاف کی نوٹ کے بعد دفاع کریں

August 15, 2026
ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

ہالی ووڈ میں بڑھتا ہوا انتہائی دبلا پن: کیا مشہور شخصیات کے جسم پر تبصرہ کرنا باڈی شیمنگ ہے؟

August 15, 2026
زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی

August 15, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.