counter easy hit

بھارتی سفارتکار جے پی سنگھ نے ملاقات کے بعد میری ماں کو حراساں کیا ، لگ رہا تھا میری والدہ کو جہازمیں مارپیٹ کرکے لایا گیا ھو ، کلبھوشن

بھارتی سفارتکار جے پی سنگھ نے ملاقات کے بعد میری ماں کو حراساں کیا ، لگ رہا تھا میری والدہ کو جہازمیں مارپیٹ کرکے لایا گیا ھو ، کلبھوشن

IMG-20180104-WA0093

اسلام آباد (خصو صی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے )درجنوں پاکستانیوں کے قاتل بھارتی
دھشت گرد و جاسوس کلبھوشن جادیو نے کہاھے کہ بھارتی سفارتکار جے پی سنگھ نے ملاقات کے بعد میری ماں کو حراساں کیا ، لگ رہا تھا میری والدہ کو جہازمیں مارپیٹ کرکے لایا گیا ھو پاکستان میں مجھے کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا،والدہ سے ملاقات کرانے پر پاکستان کا مشکور ہوں،میری والدہ مجھے صحت مند حالت میں دیکھ کر خوش ہوئیں۔دفترخارجہ ھفتہ وار بریفیگ سے قبل بھارتی دہشت گرد کلبھوشن جادیو کا ایک اور وڈیو بیان دکھایا اور جاری کیا گیا جس میں اُس کا کہنا ہے کہ میں بھارتی عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھارتی بحریہ کا کمیشنڈ آفیسر ہوں،

میرے انٹیلی جنس ایجنسی کیلئے کام کرنے کو کیوں جھٹلایا جارہاہے؟دھشت گرد و جاسوس کلبھوشن جادیو نے بیان میں کہا کہ بھارتی سفارتکار میری ملاقات کے بعد میری ماں پرزبان درازی کر رہا تھا،ایسا لگ رہا تھا جیسے میری والدہ کو جہازمیں مارپیٹ کرکے لایا گیا ہو، میں نے اپنی والدہ اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا، مجھے افسوس ہے کہ میری والدہ بہت ڈری ہوئی تھی۔واضح رھے کہ پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس و دہشت گرد کلبھوشن جادیو سے ملاقات کے بعد ان کی اہلیہ اور والدہ بھارت سے گزشتہ سال کرسمس کے روز پاکستان آ ئی اور اسی روزواپس روانہ ہوگئیں ۔بھارتی را کےایجنٹ کلبھوشن جادیو کی والدہ اور اہلیہ نے بھارتی نیوی کے حاضر افسر اور پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث کلبھوش جادیو سے ملاقات کی۔دفتر خارجہ میں ہونے والی ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ سے بڑھا کر 40 منٹ کر دیا گیا،جس پر کلبھوشن کی ماں اور اہلیہ نے میڈیا اور پاکستانی وزارت خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

Kulbhushan ,Jadhav ,said, Indian ,Govt. ,Threating, his, family

بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن جادیو کی والدہ اونتی سدہیر جادیو اور اہلیہ چیتنا جادیو پاکستان میں تعینات بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کے ہمراہ 11 بجکر 35منٹ بے نظیر انٹرنیسنل ایئر پورٹ اسلام آباد ڈپلومیٹک انکلیو میں بھارت ہائی کمیشن لے جایا گیا، بسنتی قمیض، سرخ شلوار اور لال دوپٹہ پہنے کلبھوشن کی اہلیہ چیتنا جادیو، سنہری پھولوں سے مزین کریم رنگ کی ساڑھی میں ملبوس اپنی ساس اونتی سدہیر جادیو اور جے پی سنگھ کے ہمراہ دفتر خارجہ پہنچیں توبیٹے اور بیوی کی رائل بلیوسوٹ میں ملبوس کلبھوشن سے ملاقات ایک کنٹینر میں کرائی گئی، جو شیشے کی دو ساؤنڈ پروف دیواروں اور تین کیبنز پر مشتمل تھا، شیشے کی پہلی دیوار کلبھوشن اور اسکے اہل خانے کے درمیان، جبکہ دوسری اہل خانہ اور جے پی سنگھ کے درمیان تھی۔دفتر خارجہ کی طرف سے ڈاکٹر فارحہ بھی جے پی سنگھ والے کیبن میں موجود رہیں، کلبھوشن اوراس کے گھروالوں کے درمیان بات چیت انٹر کام کے ذریعے ہوئی، جسے ویڈیو کیمروں کےذریعے ریکارڈ بھی کیا گیا۔2 بجکر18 منٹ پر شروع ہونے والی ملاقات 2 بجکر 58 منٹ پر ختم ہوئی، ایک بجکر 25 منٹ پر دفتر خارجہ میں داخل ہونے والے افراد خانہ اور جے پی سنگھ، 3 بجکر20 منٹ پر واپس ہوئے۔کلبھوشن کی ماں نے ترجمان دفتر خارجہ کا شکریہ ادا کیا اور پھر بھارتی ہائی کمیشن گئے، جہاں قربیاً ڈیڑھ گھنٹہ قیام کے بعد کلبھوشن کے افراد خانہ بذریعہ مسقط بھارت کیلئے روانہ ہوئے۔………..دفترِخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کی ان کی اہلیہ اور والدہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقات کرائ ۔ کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا چہرہ ہے جو 17 بار پاکستان، بھارت آیا اور گیا اور کئی ماؤں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے محروم کیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کی ان کی اہلیہ اور والدہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقات کرادی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہ ملاقات قونصلر رسائی کے تناظر میں نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر کرائی گئی ملاقات کے کمرے میں نصب شیشہ ساؤنڈ پروف تھا اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنربھی ان کے درمیان ہونے والی گفتگو نہیں سن سکتے تھے، اگر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بات چیت کا موقع دیتے تو یہ قونصلر رسائی ہوجاتی، کیونکہ یہ قونصلر رسائی نہیں تھی اس لیے بطور مبصر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر موجود رہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کو پہلے بتا دیا تھا کہ ملاقات میں فزیکل کنٹیکٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اہلخانہ کی ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ تھا لیکن کلبھوشن کی درخواست پر انہیں مزید 10 منٹ دیئے گئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ کلبھوشن سے ملاقات کے لیے آنے والے اہلخانہ کے چہروں پر اطمینان تھا اور انہوں نے پاکستان سمیت انفرادی طور پر سب کا شکریہ بھی اداکیا۔کلبھوشن کا جرمن ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرایا گیا اور رپورٹس کے مطابق وہ طبی اعتبار سے بالکل تندرست ہیں۔اس حوالے سے میڈیکل رپورٹس کی سلائیڈز بھی میڈیا کو دکھائی گئیں۔ بھارتی ہائی کمیشن کو آگاہ کردیا تھا کہ بھارتی سفارت کار ملاقات کے وقت موجود ہوں گے اور انہیں دیکھ سکھیں گے لیکن بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ساؤنڈ پروف شیشہ لگایا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن کے حوالے سے بھارت کو شواہد کے ساتھ دستاویزات پیش کردیئے پاکستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کلبھوشن کے اہلخانہ کی یہاں میڈیا سے بات چیت کرانا چاہتے تھے لیکن بھارت اس پر رضا مند نہیں تھا۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کے کیس میں قونصلر رسائی کا معاملہ ہمارے پاس ہے اور ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جاسوس کلبھوشن نے مہران بیس پر حملے میں کالعدم تحریک طالبان کی مدد کا اعتراف کیا اور اس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے متعدد اہلکاروں پر کوئٹہ اور تربت میں حملوں کا بھی اعتراف کیا۔ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو پاکستان میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس نے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف کیا جب کہ اسے مقدمے میں صفائی کا پورا موقع دیا گیا ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسلام ہمیں رحمدلی کا درس دیتا ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا چہرہ ہے جو 17 بار پاکستان، بھارت آیا اور گیا اور اس نے کئی ماؤں کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے محروم کیا۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ کلبھوشن جادیو سے متعلق کیس عالمی عدالت انصاف میں ہے جہاں اس حوالے سے ہم نے 13 دسمبر کو اپنا موقف جمع کرادیا ہے۔

 

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website