پیرس (ویب ڈیسک) گرونوبل کے ایک نوجوان بائیو ہیکر آدرین لوکاتلی نے بائبل اور قرآن کی منتخب آیات کو ڈی این اے پیٹرن میں بدلا اور پھر انہیں انجکشن کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لیا۔آدرین کو اُن کے انوکھے تجربے کی وجہ سے ‘احمق’ قرار دیا جا رہا ہے ۔ا ٓدرین نے اپنے کام کا آغاز مسیحیوں اور مسلمانوں کی مقدس کتابوں بائبل اور قرآن پاک سے آیات منتخب کرنے سے کیا۔ آدرین کا مقصد ان آیات کو اپنے جسم میں ڈی این اے کی شکل میں محفوظ کرنا تھا۔اس کے بعد انہوں نے تمام آیات کے حروف کو اُن چار کیمیکل کے ابتدائی حروف سے بدل دیا، جن سے ڈی این اے بنتا ہے۔آدرین نے ایک مفت آن لائن ٹول کی مدد سے نیوکلیوٹائیڈز کی معلومات کو پروٹین کی ترتیب میں بدلا اور پھر اسے انجکشن کے ذریعے اپنی ٹانگوں سے جسم میں داخل کر لیا۔خود پر کیے گئے اس تجربے سے آدرین بس یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس سے کیا ہوتا ہے۔آدرین نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ تحقیق سے کسی بھی معلومات کو اسٹوریج کیلئے ڈین این اے میں بدلنا آسان ہوگیا ہے۔ یعنی ڈیجیٹل معلومات کو ڈی این اے میں بدلا جا سکتا ہے۔آدرین نے بتایا کہ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ مذہبی تحریر کو ڈی این اے میں بدل کر انسانی جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اس تجربے کے نتائج بتاتے ہوئے آدرین نے بتایا کہ اس سے اُن کی ٹانگ کچھ دنوں تک سوجی رہی، اس کے علاوہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔آدرین نے بائبل سے ‘کتاب پیدائش’ کی منتخب آیات اور قرآن پاک کی ‘سورۃ رعد’ کی آیات کو اپنے جسم میں داخل کیا ہے۔اُن کے مطابق یہ اب تک دنیا میں کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔ماہرین نے ٹوئٹر پر آدرین کو اپنے تجربات بند کرنے کا کہا ہے اور انہیں اس طرح کے تجربے کرنے پر احمق قرار دیا ہے۔
Post Views - پوسٹ کو دیکھا گیا: 203
About MH Kazmi
Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations.
Strong believer of constructive role of Journalism in future world.
for comments and News
yesurdu@gmail.com
03128594276