yes urdu logo
  • خبریں
    • اہم ترین
    • بین الاقوامی خبریں
    • شوبز
    • مقامی خبریں
    • کاروبار
    • کھیل
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
Dark Mode
Skip to content
yes urdu logo
  • خبریں
    اہم ترین
    • آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثرآبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر
    • سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشافسنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف
    بین الاقوامی خبریں
    • آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثرآبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر
    • سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشافسنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف
    شوبز
    • زوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسیزوٹوپیا 3 کا باضابطہ اعلان: ڈزنی کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فرنچائز کی واپسی
    • شعلے کے گبر سنگھ کابیٹا دھریندر میں کس اہم کردار کیلئے کاسٹنگ ڈائریکٹر کی توجہ حاصل نہ کرسکا، امجد خان کی میراث گبر آج بھی برقرار
    مقامی خبریں
    • لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہلاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ
    • Pakistan Introduces New Civil Service Conduct Rules After 62 Years62 سال بعد سول سروس کے نئے ضابطہ اخلاق کا نفاذ، سرکاری ملازمین کے اثاثے عوامی ہوں گے
    کاروبار
    • ایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینیایزی جیٹ فرانس کی ہڑتال: 15 اگست کے ویک اینڈ پر تقریباً 100 پروازیں منسوخ، مسافروں میں شدید بے چینی
    • ماں کی ایجاد: ’سلیپی ہیٹ‘ نے بچوں کی نیند کا مسئلہ حل کر کے کاروبار میں کامیابی کی نئی داستان رقم کردی
    کھیل
    • Litton Das Century Powers Bangladesh to 278لٹن داس کا شاندار سنچری، بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف مضبوط واپسی
    • بھارت اور افغانستان کے درمیان 2026 میں تاریخی ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا اعلان
  • تارکین وطن
  • اردو ادب - شاعری
  • ویڈیوز - Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم
اہم ترین

صلاح الدین ایوبی کی قوم، چومکھی جبر کا شکار

Web Editor January 24, 2018 1 min read
Saladuddin Ayubi nation, victim of kisses compression
Share this:

21 جنوری کو ترکی کی فوج ، ترکی کی سرحد سے ملحق شمالی شام کے شہر عفرین پر بمباری کر کے ٹینکوں کے ساتھ داخل ہوئی ہے۔ ترکی نے اس کارروائی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس شہر میں کردوں کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی پی وائے ڈی کے دھشت گرد جن کو بشار الاسد کی حکومت سے نبرد آزما مخلوط افواج اسلحہ فراہم کر رہی ہیں اور مالی مدد دے رہی ہیں ، سرحد پار کر کے ترکی کے علاقہ میں کارروائی کر رہے ہیں۔ ترکی کو شبہ ہے کہ عفرین کے ان کردوں کو پس پردہ امریکیوں کی بھی امداد حاصل ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کارروائی کرد دھشت گردوں کا قلع قمع کرنے اور اپنے دفاع کی خاطر کی ہے۔

تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ صلاح الدین یوسف بن ایوب، جنہوں نے آٹھ سو سال قبل صلیبی جنگ میں عیسائیوں کو شکست دے کر یروشلم اور پورے فلسطین کو فتح کیا تھا اور مصر، شام،عراق، حجاز، یمن اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقہ پر محیط اپنی مملکت قائم کی تھی، ان کے تین کروڑ پچھترلاکھ ہم نسل، کرد آج چار ملکوں، ترکی، عراق، شام اور ایران میں بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ قوم ایران سے شام تک پھیلے ہوئے اس علاقہ میں آباد ہے جسے کرد کردستان کہتے ہیں۔ اس علاقہ میں کرد تین سو سال قبل مسیح سے آباد ہیں۔

ساتویں صدی میں کرد مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور انہی میں سے صلاح الدین ایوبی ابھرے تھے جنہوں نے صلیبی جنگوں میں اپنی فتوحات سے بڑا نام پیدا کیا۔ اسی مسلم فاتح کی یہ قوم آج چومکھی جبر و تشدد کا شکار ہے۔

پہلی عالم گیر جنگ سے پہلے کرد اس علاقہ میں سلطنت عثمانیہ کے تحت خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد مشرق وسطی میں کئی نئی آزاد مملکتیں وجود میں آئیں لیکن آزاد خودمختار مملکت کے بارے میں کردوں کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا حالانکہ انیس سو بیس کے سیورے کے معاہدہ میں جس کے تحت عراق شام اور کویت کی آزاد مملکتیں وجود میں آئیں کردوں کی ایک آزاد مملکت کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک کے برسرِاقتدار آنے کے بعد ترکی نے اور اس کے ساتھ ایران اور عراق نے کردوں کی آزاد مملکت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

گو شمالی عراق میں کردوں کی آبادی ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن سب سے زیادہ تعداد ان کی ترکی میں ہے جہاں یہ ایک کروڑ اسی لاکھ کے قریب بتائے جاتے ہیں۔ شام میں ان کی تعداد اٹھائیس لاکھ ہے اور ایران میں اڑتالیس لاکھ کے قریب ہیں۔ ایران میں کردوں کی اکثریت آذربائی جان اور ہمدان کے علاقہ میں آباد ہے جسے ایرانی کردستان کہا جاتا ہے، کرد اسے مشرقی کردستان کہتے ہیں۔

ایران میں کردوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ سترہویں صدی سے شروع ہوا تھا جب شاہ عباس نے کردوں کو بڑے پیمانہ پر زبردستی خراسان میں منتقل کردیا۔ پھر انیس سو چھیالیس میں قاضی محمد کی قیادت میں بغاوت ہوئی اور کردوں نے مہا آباد جمہوریہ کے نام سے ایک علیحدہ مملکت قائم کی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔ قاضی محمد کو آخر کار کھلے عام پھانسی دی گئی۔

رضا شاہ پہلوی کے دور میں کردوں کی زبان پر پابندی عائد کی گئی۔ اور سن اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے کردوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور بڑے پیمانے پر کرد علاقوں میں فوجی کارروائی کی گئی، آخر کار کردوں کو گھٹنے ٹیک دینے پڑے۔

ادھر شمالی عراق میں کردوں نے سن انیس سو ساٹھ سے انیس سو پچھتر تک مصطفیٰ برزانی کی قیادت میں بغاوت کی جس کے نتیجہ میں انہیں خود مختاری حاصل ہوئی لیکن انیس سو اکانوے میں کردوں کی بغاوت کے بعد صدام حسین کی حکومت نے اس علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور کردوں پر سخت مظالم توڑے۔

عراق میں گو صدام حسین کے زوال کے بعد کردوں کو نئے آئین کے تحت خودمختاری حاصل ہو گئی تھی اور ان کی علاقائی پارلیمنٹ بھی تسلیم کر لی گئی تھی۔ عراق کی جنگ کے بعد امریکیوں نے ان کے تیل سے مالا مال علاقہ کی وجہ سے ان پر دست شفقت رکھا تھا لیکن نہ جانے پھرکیوں ہاتھ کھینچ لیا۔ پچھلے دنوں کردوں نے اپنی آزاد خود مختار مملکت کے قیام کے لئے ریفرینڈم کا بھی انعقاد کیا تھا جسے عراقی حکومت نے مسترد کردیا اور فوج کشی کر کے کردوں کی آزادی کے سارے خواب چکنا چور کر دئے۔

یہی وجہ ہے کہ کردوں کی تاریخ ایران اور عراق میں بغاوتوں سے عبارت ہے۔ ترکی میں کردوں نے انیس سو پچیس میں شیخ سعید کی قیادت میں بغاوت کی تھی جس کے بعد ترکی کی حکومت نے کردوں کے خلاف نہایت سخت گیر پالیسی اختیار کی اور ان کی زبان اور ثقافت ختم کرکے پہاڑی ترک قرار دیا۔ پہاڑی ترک قرار دے کر انہیں ترک معاشرہ میں ضم کرنے کی مہم شروع کردی۔

1978 ء میں ترکی کے کردوں نے جب آزادی اور خود مختاری کی تحریک شروع کی تو بڑے پیمانہ پر ترکی کی حکومت اور کردوں کے درمیان معرکہ آرائی بھڑک اٹھی ۔ اس تحریک میں علحدگی پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے  پیش پیش تھی۔ یہ تحریک ترکی کی معیشت کے لئے بے حد تباہ کن ثابت ہوئی۔ اس دوران ترکی کی معیشت کو 450 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔ آخر کار اس تحریک کے قائد عبداللہ اوجلان نے 2015ء میں تحریک ختم کرنے کا اعلان کیااور یہ معرکہ آرائی ختم ہوئی۔

کردستان کے علاقہ کے باہر پوری دنیا میں ایک کروڑ سے زیادہ کرد پھیلے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے ترکی، عراق اور ایران میں ظلم و ستم سے فرار ہو کر پناہ لی ہے۔ ان کردوں کا کہنا ہے کہ یہ کس قدر حیرت اور تاسف کی بات ہے کہ ان کے کرد قائد صلاح الدیں ایوبی نے تو ایران سے لے کر شمالی افریقہ تک ایک بڑی تعداد میں ملکوں کو آزادی کی نعمت سے سرشار کیا، لیکن ان کی قوم ابھی تک اپنی آزادی کے لئے تڑپ رہی ہے۔

Share this:

Web Editor

19,171 Articles
View All Posts
Melbourne: Australia's two fielders brilliant catch; won the match by 26 runs
Previous Post میلبرن: آسٹریلیا کے دو فیلڈرز کا شاندار کیچ؛ 26 رنز سے میچ جیت لیا
Next Post اتنا تجسس کیوں؟
Why so much curiosity?

Related Posts

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رفتار اگست کی اوسط سے نیچے، امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں بحری سرگرمیاں متاثر

August 16, 2026
سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف

سنی دیول کی کرتارپور راہداری کی یادیں تازہ، پاکستانی فوجیوں کی محبت اور غیر معمولی عقیدت کا انکشاف

August 16, 2026
لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

لاہور کے علاقے بادامی باغ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار شہید، انتقامی کارروائی کا شبہ

August 16, 2026
امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

امریکہ کا بڑا اعلان: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں درجنوں ممالک کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا

August 16, 2026




© 2026 Yes Urdu. All rights reserved.
  • خبریں
  • تارکین وطن
  • اردو ادب – شاعری
  • ویڈیوز – Videos
  • اشتھارات
  • دلچسپ اور عجیب
  • کالم

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.