counter easy hit

ساحل منیر کا جلتے موسموں کا عہد اضطراب

EHAD E IZTERAB

EHAD E IZTERAB

تحریر : رفیق رائے
ساحل منیر کے اولین شعری مجموعہ کی ایک دو غزلوں کو پڑھا تو بادیء النظر میں ساحل ایک رومانی شاعر محسوس ہوا لیکن جب مسودہ کا مطالعہ ہوا تو میرے احساسات یکسر بدل چکے تھے۔کیونکہ اس نے اپنی ہر نظم اور غزل میںرومان و احتجاج کے حسین امتزاج سے ایسے تاثر خیز اشعار کہے ہیں کہ عہدِ کم شناس اور دورِ بے توقیر کے حوصلہ آزما کار زارِ حیات میں اس نے جہاں اپنے فطری رومانوی احساس کو بھی زائل نہیں ہونے دیا وہاں وہ عہدِ اضطراب کی تلخ، اذیت ناک اور جلتے موسموں کی دھوپ کے استعارہ سے دکھوں، محرومیوں ،نا انصافیوں اور جبر و استحصال سے زخم خوردہ انسانیت کی بھی پورے اور بلند آہنگ لہجہ میں بات کرتا ہے۔اُ س نے بڑے کرب سے محروم و محکوم لوگوں کے لئے گونگے مکینوں کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے بے حِس سماجی رویوں کا شاخسانہ بیان کیا ہے۔
کبھی تو گونگے مکینوں کی بات سننے کو
پسِ فصیلِ خموشی کوئی صدا مانگوں

ساحل نے عہدِ موجود کے ظالمانہ سماجی رویوں ،نا ہموار معاشرتی حالات ،جاں لیوا معاشرتی صورتحال اور اس سے پیدا شدہ غمناک المیوں کو سزائے وقت سے تعبیر کیا ہے اور حالات کے جبر پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ساحل نے کس قدر درد انگیز اور طنزیہ انداز میں انوکھا مزاحمتی اسلوب اپنایا ہے۔
جلتے شعلوں پہ خون چھڑکا کر
آسماں تک اٹھائی جائے آگ
پیٹ کی آگ سرد کرنے کو
عین ممکن ہے کھائی جائے آگ
ساحل نے اپنے کلام میں جہاں بحیثیت مجموعی دورِ بے توقیر اور عہدِموجود کے لوگوں کی بے مروتیوں کا گلہ شکوہ کیا ہے:
ہم محبت کے گنہگار و تہی داماں کو
عہدِ کم ظرف کی سوغات نہیں راس آئی
لیکن وہ تمام تر معاشرت گراوٹ ، انحطاط، اور مظالم کے مقابل عزم و حوصلہ کی بھی بات کرتا ہے۔
اَلم نصیب زمانے گزرنے والے ہیں
یہ تاجرانِ ہوس کٹ کے مرنے والے ہیں

وہ غریبِ شہر کی بات کرتے ہوئے امیرِ شہر کو آئینہ دکھاتا ہے تو اپنے قلم قبیلہ سے بھی مخاطب ہوتا ہے۔
اے میرے عہد کے خوش بیاں شاعرو
چند سِکوں میں بِکتی جوانی لِکھو
لوحِ زماں پہ اے میرے آوارہء خیال
وہ لفظ لِکھ جو بولتے گاتے سنائی دیں
میں اپنے عزم و آہنگ سے بغاوت کر نہیں سکتا
شبِ تاریک میں بزمِ سحر کی بات کرتا ہوں
عہدِ اِضطراب میں ساحل نے تمام طبقات کی ترجمانی کی ہے ۔اُس کے ہر شعر کا ہر مصرعہ بولتا محسوس ہوتا ہے اور یہ تبھی ہوتا ہے کہ جب آواز دل کے پاتال سے ابھرتی ہے۔ایسے دل سے کہ جو عہدِاضطراب کے جلتے موسموں کی کڑی دھوپ میںجھلستے ہوئے جِسم میں دھڑک رہا ہوتا ہے ۔
محرومیوں کی دھوپ میں جلتی رہی حیات
موسم دیارِ عِشق کے بہتر نہ آسکے
میری محرومیوں نے کیا سے کیا رستے نکالے ہیں
میں کا غذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

Poetry

Poetry

عہدِ اضطراب کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر اشعار نے اختر شیرانی، عدم،ناصر کاظمی کے ساتھ خصوصاً جالب،فیض اور ساحر کے شعروں کی یاد تازہ کردی۔بطور تمثیل عہدِاضطراب سے کچھ اشعار نذرِ قائین:
سچ چھپانے کے لئے کچھ عذر بھی چاہے گئے
پھر ہوا کے خوشبوئوں کے راستے روکے گئے
نسل در نسل بے گناہ انساں
جَبر کے سلسلوں پہ روتے ہیں
یہ کیا کہ میرے دیس میں مزدور کا لہو
پیتا رہا ہے آج تک زردار دوستو
خاک ہوتے ہوئے جسموں کی کہانی لکھ دوں
خوں اگلتی ہوئی آنکھوں کی روانی لکھ دون
جِی میں آتا ہے کہ اِس لوحِ زمانہ پہ کبھی
جسم کو برف لکھوں آگ کو پانی لکھ دوں
جیون کی تیز دھوپ میں جلتے وجود کو
تشنہ لبی نے زہر بھی پینا سکھا دیا
تیرے میرے درمیاں جو فاصلے رکھے گئے
میرے تیرے گھر میں ہی وہ بیٹھ کر سوچے گئے

ساحل منیر کے شعری مجموعہ کی فنی حوالے سے جو بات قابلِ ذکر ہے وہ اس کا بے ساختہ پن،روانی ، بر جستگی،ہر شعر اور پر مصرعہ میں لفظوں کا بر محل استعمال،ردیف،قوافی اور بالخصوص اوزان و بحور کا ہر پہلو سے ناقابل ِ دست و نگاہ اندازیء اساتذہ فنِ شعر و ادب ہے۔ اور یہاں مجھے بِلا کم و کاست اور ریکارڈ کی درستی کے لئے بڑے وثوق اور معترفانہ احساسِ مسرت سے یہ اظہار مزید کرنا ہے کہ ساحل منیرکے اشعار کی زمین ،خیال اور نظریات سے شائد کسی قاری یا شاعر کو اختلاف ہو لیکن فنّی حوالہ سے عہدِ اضطراب کے کسی شعر یا مصرعہ پر ناقدینِ فن کی انگشت نمائی کا احتمال نہیں۔کیونکہ ساحل کے اشعار مروّج، مستند رموز و ضوابط فنِ شاعری کے پیمانوں سے اس طور نکلتے محسوس ہوتے ہیں جیسے کوئی شے سانچے سے ڈھل کر نکلتی ہے۔

Writing

Writing

کیونکر نہ ہوکہ ساحل نے شاعری اور اس پر مستزاد یہ کہ علم العروض اور متعلقہ اکتسابِ فن کے لئے معروف صاحبِ طرز استاد الشعراء جناب مرزا نصیر خالد کے روبرو زانوئے تلمذ تہہ کئے ہیں جو کہ وطنِ عزیز کے اُن معدودے چند بلکہ اُنگلیوں پہ گِنے جانے والے اساتذہ فنِ شعرو ادب میں سرِفہرست ہیں جو کہ علمِ عروض، میں، کامل دسترس اور منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔میری دانست میں ہر وہ شعر یا مجموعہ کیونکر اثر نہ رکھے گاجو دیگر فنّی رعایات اور خوبصورتیوں کے ساتھ فن و علمِ عروض کے سانچوں سے ڈھل کر نکلا ہو۔ زیرِ نظر مجموعہ عہدِ اضطراب کی بھی یہی اہم اور خوبصورت خصوصیت ہے جو یقینناً اپنا آپ منوائے گی۔

تحریر : رفیق رائے