counter easy hit

سیاست اقتدار کا بے رحم کھیل

Ruthless game of power politics by Nusrat Javed on today

Ruthless game of power politics by Nusrat Javed on today

ہم پر جو سیاسی اور معاشی نظام مسلط ہے وہ ہرگز قابل ستائش نہیں۔ یہ قوت واختیار والوں کو بادشاہی کی طرح من مانیاں کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ امیر لوگوں کی ہوس زر کو جائز ٹھہراتے ہوئے انہیں مزید مالدار ہونے کی آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ تھوڑے سے حساس دل کا مالک بھی اسے برقرار دیکھنا نہیں چاہے گا۔
کئی صدیوں اور سو طرح کے اداروںاور وایات کے ذریعے مضبوط ہوئے اس نظام کہنہ کو بدلنے کی محض تڑپ ہی مگر کافی نہیں۔ اسے تبدیل کرنے کے لئے گریہ زاری نہیں بہت سوچ بچار کے بعد اپنائی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اپنے تئیں”تبدیلی“ کی علامت بنے ہمارے ان دنوں کے ”انقلابی“ کسی تخلیقی حکمت عملی سے قطعاََ محروم نظر آتے ہیں۔ صرف مفروضوں اور خواہشوں کی بدولت جبکہ اس نظام سے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی۔
وسط اکتوبر کی ایک شام میں نے عمران خان صاحب کے ایک متوالے کے ساتھ کئی گھنٹے گزاردئیے تھے۔ اس شخصیت نے انتہائی ثابت قدمی اور اخلاص کے ساتھ 2014ءمیں اسلام آباد میں ہوئے دھرنے میں حصہ لیا تھا۔ میں اس کی سوچ کو عموماََ بچگانہ سمجھتا ہوں مگر اس کا اخلاص بہت قابل ستائش ہے۔ تحریک انصاف کے ساتھ اس کی وفاداری بشرطِ استواری بھی بہت عیاں اور مسلّم ہے۔
قومی سیاست میں اقتدار کی آنیاں اور جانیاں کے ہر اہم موڑ کی 1985ءسے رپورٹنگ کرتے ہوئے میں اس شخصیت سے معلوم صرف یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ عمران خان صاحب نے اسلام آباد کے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیوں کیا۔ بہت سادگی سے اس نے اصرار کیا کہ تحریک انصاف کی پالیسی بنانے والوں کے پاس ٹھوس اطلاع ہے کہ نواز شریف تھک چکے ہیں۔ تیسری بار پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد انہیں ”مزا “ نہیں آرہا۔وہ اُکتاچکے ہیں۔ پانامہ سکینڈل کی بدولت مچائے شور سے مزید گھبراگئے ہیں۔ چند ہزار لوگوں کی مدد سے کچھ دنوں تک برقرار رکھی شورش انہیں استعفیٰ دے کر ”باجو کی گلی“سے نکل جانے پر مائل کردے گی۔
مجھے نواز شریف کے دربار تک ٹھوس رسائی ہرگز حاصل نہیں۔ذات کا مگر رپورٹر ضرور ہوں۔ میرا صحافیانہ تجربہ اور معاملات کی ٹوہ لینے کی عادت اطلاع دیتے ہیں کہ نواز شریف اقتدار میں رہنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔دل کی بات شاذ ہی زبان پر لاتے ہیں۔ ضد ان کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ وہ دھونس سے مرعوب نہیں ہوتے۔ بہت شانت نظر آتے اپنی بات پر ڈٹے رہتے ہیں۔
مارکس کے انقلابی خیالات اور تصورات کو روس کے لینن نے ایک بھرپور سیاسی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے استعمال کیا اور اپنے ملک میںانقلاب برپا کردیا۔لینن کا اصرار رہا کہ سیاست میں کامیابی کے لئے ٹھوس حالات کا بے رحم اور معروضی تجربہ درکار ہوتا ہے۔ اسلام آبادکی تالہ بندی کرنے پر بضد افراد کے تجربے کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگی تھی۔ یہ نواز شریف کو اقتدار سے اُکتایا فرض کرتے ہوئے ان کے استعفیٰ کی توقع کئے ہوئے تھے۔
نواز شریف کے ذہن کو پوری طرح سمجھے بغیر فرض یہ بھی کرلیا گیا تھا کہ ”تھینک یو“ کے عادی بنائے جنرل راحیل شریف اور ان کا ادارہ اس وزیر اعظم سے خوش نہیں۔”مودی کے یار“نے نام نہاد”ڈان لیکس“ کے ذریعے ان کا پیمانہ صبر چھلکادیا ہے۔ نومبر 2016ءمیں کمان کی تبدیلی نہیں وزیر اعظم کا بدلنا اٹل ہوچکا ہے۔
اپنی جان کی امان پاتے ہوئے میں نے کئی بار اس کالم میں اکثر یہ بیان کرنے کی جسارت کی ہے کہ ہماری عسکری قیادت اور ادارے کی سوچ اور ترجیحات2008ءکے بعد سے بہت ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر قطعاََ تبدیل ہوچکی ہیں۔ عسکری قیادت کو اپنی قوت کا بھرپور احساس ہے۔ اس قوت کو مگر وہ بیعانہ کے طورپر استعمال کرنے کا ہنر بھی سیکھ چکی ہے۔ 2016ءکا کراچی 2008ءکے کراچی سے قطعاََ مختلف ہے۔ اسے تبدیل صرف عسکری قیادت نے کیا ہے۔ سندھ میں لیکن بدستور ایک وزیر اعلیٰ بھی ہے۔ اس کی کابینہ اور منتخب ہوئی صوبائی اسمبلی بھی۔ تبدیلی کا عمل سیاسی منظر نامے یاجسے آپ اظہار کہہ لیجئے کو برقرار رکھتے ہوئے متعارف ہوا اورکافی مہارت سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب بھی۔
جنرل مشرف کے ایام زوال سے بہت کچھ سیکھا گیا ہے۔ ہمارے پڑھے لکھوں کی اکثریت کو وہ اب بھی بہت یاد آتے ہیں۔ تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے اکتوبر1999ءسے 2008ءتک اس ملک میں حتمی اختیار کے یہ مالک ان دنوں وطن سے دوررہنے پر مجبور ہیں۔کئی مقدمات میں اشتہاری ٹھہرائے گئے ہیں۔ان سے منسوب جائیداد اور اثاثے اب عدالتوں کے رحم وکرم کے منتظر ہیں۔ مردان آہن دِکھتے دیدہ وروں کا دور لدچکا۔ یہ حقیقت مگر تحریک انصاف کی حکمت عملی بنانے والے سمجھ ہی نہ پائے۔ ”قربانی سے پہلے قربانی“ والے بقراط اب دسمبر2016ءکو نواز شریف کا آخری سال ٹھہراتے رہے۔ 29نومبر کو تبدیلی مگر وہی آئی جس کی توقع تھی۔ کوئی انہونی نہ ہوئی۔
تھینک یو کے عادی بنائے جنرل راحیل شریف صاحب سے توقعات پوری نہ ہوئیں تو اپنے تئیں فرض کرلیا گیا کہ سپریم کورٹ سے رخصتی سے قبل جسٹس انور ظہیر جمالی صاحب ”تاریخ“میں اپنا مقام بنانا چاہیں گے۔ یہ فرض کرتے ہوئے میرے انقلابی دوستوں کو ہرگز یاد نہ رہا کہ افتخار چودھری بھی تاریخ بناتے بناتے بالآخر ارسلان کے ابوہی ثابت ہوئے تھے۔
سیاست اقتدار کا ایک بے رحم کھیل ہے۔ اس کا اپنا ایک مخصوص اکھاڑہ ہے۔ اس کھاڑے میں اُترے پہلوان کو سیاسی داﺅپیچ کے ذریعے اپنے مخالف کے شانوں کو زمین پر لگانا ہوتا ہے۔ غیر سیاسی ادارے اور شخصیات آپ کی سہولت کے لئے کسی سیاسی پہلوان کو سیٹی بجاکر اکھاڑے سے باہر نہیں بھیج سکتے۔ اپنے مخالف کو سیاسی اکھاڑے میں پٹخنا صرف آپ کا دردِ سر ہے۔
جنوبی کوریا کی صدر کو اس کے احتساب پر مجبور 17لاکھ لوگوں نے سیو¿ل میں جمع ہوکر کیا ہے۔ برازیل کی صدر بھی عوام کے بپھرے ہجوم کے آگے سرجھکانے پر مجبور ہوئی۔ ترکی کے اردوگان کو چت کرنے کے لئے مگر جب غیر سیاسی گیم لگی تو معاملہ الٹ ہوگیا۔ وہ گھر جانے کے بجائے ”سلطان“ ہوگیا۔ نواز شریف سے نجات حاصل کرنے کے لئے بھی ایک ٹھوس حکمت عملی اور سیاسی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز کی بدولت برپا سیاپا گری اس ضمن میں کسی کام نہیں آئے گی۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website