counter easy hit

نیب کے جواب کے بعد وزیراعظم سے تفتیش کا پہلو زمین کے 6 فٹ نیچے دفن ہوگیا، سپریم کورٹ

 اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے جواب کے بعد وزیراعظم سے تفتیش کا پہلو زمین کے 6 فٹ نیچے دفن ہوگیا ہے۔

PANAMA CASE, ALMOST, WAY, CLOSED, TO, QUESTION, NAWAZ, SHARIEF, AFTER, REPLY, FROM, NABسپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ کررہا ہے، سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت نے گزشتہ روز اپیل دائر کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا تھا، حدیبیہ پیپر ملز اور پاناما کیس کی نوعیت میں فرق ہے، حدیبیہ پیپرز ملز کیس کو پاناما لیکس کے معاملے سے منسلک نہ کیا جائے، انہوں نے کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے، اس میں فارن کرنسی اکاوٴنٹس پر قرض لیا گیا تھا۔ جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ آپ بطور اٹارنی جنرل دلائل دیں فریق نہ بنیں، اٹارنی جنرل اور تمام وکلا ء عدالت پر رحم کریں، ہر وکیل الگ بات کر کے پریشان کر دیتا ہے، اگر کوئی اسٹوری بنائی بھی ہے تو اس پر قائم رہیں، پہلے بتایا گیا کہ قطری کے پاس انوسٹمنٹ کی گئی تھی، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کیس میں فریق نہیں بلکہ عدالت کی معاونت کر رہا ہوں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ نیب گزشتہ روز ہمارے سامنے وفات پا گیا، اگر حدیبیہ پیپرز کیس میں الزامات غلط تھے تو اس کیس سے کیوں کترا رہے ہیں اور اگر کیس میں الزامات درست ہیں تو اس کیس کو دفن کیوں کیا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حدیبیہ کیس میں ریاست مدعی تھی اور آپ ریاست کی نمائندگی کر رہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا کام عدالت کے سامنے حقائق لانا ہے، میں وفاق کی وکالت نہیں، عدالت کی معاونت کر رہا ہوں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جانتے ہیں کہ آپ مشکلات کا شکار ہیں، آپ اعلیٰ پائے کے وکیل ہیں، آپ سے ویسی ہی معاونت کی توقع ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے ریکارڈ کے مطابق حقائق پیش کر رہاہوں،عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کوئی بھی کر سکتا تھا جس پر جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اپیل کا حق متاثرہ فریق کو ہی ہوتا ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین میں ایسی کوئی بات نہیں تاہم درخواست گزار کو بتانا ہوتا ہے کہ کس بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ جاننا ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ ان کا وزیر اعظم اہل ہے یا نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ نوازشریف کی بطور وزیراعظم نہیں رکن اسمبلی اہلیت کا ہے۔ جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے 3 نومبر 2016 کو درخواستیں قابل سماعت قرار دی تھیں لہذا عدالت عوامی مفاد کا معاملہ ہونے کا فیصلہ پہلے ہی کرچکی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم نہ دے اپیل دائر کرنے کے بہت سے راستے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ معاونت کریں کہ عدالت کس حد تک جا سکتی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت نا اہلی کےلیے ریفرنس اسپیکر کو بھیجا جا سکتا ہے اوراسپیکر سے فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ہی کسی اور فورم پر جا سکتا ہے۔

جسٹس عظمت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دیگر ادارے اپنا کام نہ کر رہے ہوں تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، نعیم بخاری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضاگیلانی کیس میں عدالت نے نا صرف ایکشن لیا بلکہ ان کو گھر بھی بھیجا، اگرچہ 65 ملین ڈالرز واپس نہیں آئے لیکن وزیراعظم گھر چلے گئے جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ آئین کا آرٹیکل 63 ڈیکلیریشن دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ مطلب اپیل دائر کرنے کا کہا تو سپریم کورٹ کی غیر جانبداری متاثر ہوگی جب کہ جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا بنیادی حق یہ ہے کہ عوام پر ان کے منتخب نمائندے حکومت کریں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ صرف وزیراعظم کا نہیں ہر پارلیمانی رکن کا معاملہ ہے، جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق معاملہ سے آگے بڑھیں کیونکہ قابل سماعت کا فیصلہ ہو چکا، درخواست گزار وزیراعظم کی نا اہلی کے لیے آیا ہے، وزیراعظم رکن اسمبلی بھی ہوں تو مسئلہ کیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ ہم کہاں تک جا سکتے ہیں اور کہاں نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے اسپیکر کے پاس جائیں پھر الیکشن کمیشن موجود ہے۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا جس کا فیصلہ موجود ہے جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ  65 ملین ڈالرز نہیں آئے لیکن وزیراعظم گھر چلے گئے، نعیم بخاری کے جواب پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیے کہ وہ تو آپ نے لے کر آنے تھے آپ گئے ہی نہیں۔

سپریم کورٹ میں وقفہ کے بعد پاناما کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس عظمت نے استفسار کیا کہ لگائے گئے الزام کو لیکر عدالت کہاں جائے،آپ بطور اٹارنی جنرل جواب دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کچھ الزامات کو تسلیم کیا گیا اور دستاویزات بھی دی گئیں جس پر  اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے اداروں کا وقار بیرون ملک مجروح کیا گیا۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ ادارے کام نہیں کریں گے تو ایسا تو ہوگا لہذا آپ اداروں میں ہی سوالوں کا جواب دے دیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے اداروں کو بہت مضبوط کیا جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس میں کہا کہ ہم جانتے ہیں آپ ہمارے سوالوں کا جواب دیں، ہم سیدھی طرح پوچھ رہے ہیں ان الزامات کو لیکر کہاں جائیں، سب کے دلائل سنے لیکن صرف اس سوال کا جواب مانگ رہے ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ ہم فیصلہ کریں یا اس سے کیسے نمٹیں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت آئین کو مد نظر رکھے آرٹیکل 62 میں عوامی عہدے کا نہیں لکھا، ہر منتخب نمائندہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا پابند ہے تاہم اگر اثاثے چھپائے ہوں یا غلط بیانی کی ہو تو سیشن کورٹ میں مقدمہ ہوتا ہے جس میں 3 سال قید اور 5 ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ درخواست گزار اور وزیر اعظم کے خلاف فوجداری مقدمہ کریں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر اعظم کو آئین کے تحت فوجداری مقدمہ میں استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا لیکن کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرنے والے کے خلاف فوجداری مقدمہ ہو سکتا ہے۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ درخواست گزار فوجداری شکایت داخل کرے جب کہ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ آئین کا آرٹیکل 248 بھی پڑھ لیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 248 کے تحت صدر اور گورنرز کے خلاف فوجداری مقدمہ نہیں ہو سکتا  لیکن آرٹیکل 248 کے استثنیٰ میں وزیراعظم شامل نہیں، سیشن کورٹ میں ٹرائل کرنا پڑے گا اور شہادتیں ریکارڈ کرنا ہوں گی، اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ نیب کے جواب کے بعد وزیراعظم سے تفتیش کا پہلو زمین کے 6 فٹ نیچے دفن ہوگیا جب کہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکسدیے کہ اگر ڈیکلریشن دے دیا گیا تو پھر تفتیش کے لیے کیا رہ جائے گا۔

About MH Kazmi

Journalism is not something we are earning, it is the treasure that we have to save for our generations. Strong believer of constructive role of Journalism in future world. for comments and News yesurdu@gmail.com 03128594276

Connect

Follow on Twitter Connect on Facebook View all Posts Visit Website